گرما گرم خبریں

چلڈرن پا رک حکومتی ہدا یا ت اور ٹھیکہ کی شرئط کے مطابق بنے گا
گو جر خان کے تا جر را ہنماؤں نے بجلی کی قیمت میں اضافہ مسترد کردیا
گو جر خان پو لیس نے بغیر اجازت محرمم الحرام کا جلوس نکالنے پر مقدمہ درج کر لیا
گرلز ڈگری کالج میں اساتذہ کی کمی سے طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے
مسلم لیگ ن کے را ہنما شو کت عزیز بھٹی کے بڑے بھا ئی طارق عزیز بھٹی کی پی ٹی آئی میں غیر مشروط شمو لیت
گوجرخان،ڈاکوؤں نے دن دیہاڑے مو ٹر سائیکل پر سوار میاں بیوی کو لوٹ لیا اور فرار ہو گئے
محرم الحرام کے دوران سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے،ایس ایچ او جاتلی
بلدیہ گو جر خان کی طرف سے 27کھو کھے سر بمہر کر نے کا معاملہ گھمبیر شکل اختیار کر گیا

افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان

راجہ طاہر محمود
پاکستان ،بھارت اور افغانستان ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کی طویل ترین سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں افغانستان چونکہ خشک ممالک میں شامل ہیں ایسے ممالک جن میں سمندر نہیں لگتا اور ان کی تمام درآمدات اور برامدات کا انحصار دوسرے ممالک پر ہوتاہے اور پاکستان اور بھارت اپنی، اپنی آبی سرحدوں کی وجہ سے اس کے لئے اہم ہیں ایسے میں پاکستان کا روٹ انتہائی مختصر ترین ہے جہاں سے اشیاء ایک سے دو دن میں افغانستان تک پہنچ سکتی ہیں اور بھارتی روٹ کافی لمبا بھی ہے اور ا سکی ڈائیریکٹ رسائی وہاں پر نہیں ہوتی ایسے میں افغانستان کو اپنی تمام ضروریات پوری کرنے کے لئے پاکستان پر انحصار کرنا پڑتا ہے ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہت گہرے اور برادرانہ رہے ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ پر امن افغانستان کی بات کی ہے اور اس کے لئے کئی بڑی قربانیاں بھی دی ہیں اور کئی سال تک افغانستان کے عوام کی میزبانی بھی کی ہے مگر جیسے ہی افغانستان کے حالات کچھ بہتر ہوئے فورا انھوں نے منہ بھارت کی طرف موڑ لیا اور پاکستان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ اس کا بھلا چاہا ہے اور اس کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھائے مگر اب خطے میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ ز کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کو بھارت اپنے لئے ایک چیلنج سمجھ رہاہے اور ایسے میں وہ افغانستان کو استعمال کر کے ناصرف پاکستان بلکہ چین کو بھی اس منصوبے پر کام سے روکنا چاہ رہا ہے اور اس میں بھارتی عزائم سب کے سامنے ہیں ایسے میں افغانستان کے حکمران بھارت کے آلہ کر بن کر صرف اور صرف اپنے ملک کا نقصان کرنے کے در پے ہیں کیونکہ پاکستان پہلے ہی اس منصوبے میں افغانستان کو شمولیت کی دعوت دے چکا ہے ۔پاکستان نے ہمیشہ پر امن اور خوشحال افغانستان کی بات کی ہے اور ایسے میں بھارت کھبی نہیں چاہے گا کہ افغانستان ترقی کرئے اور وہ اس منصوبے میں شامل ہو شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں وہ اپنی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے اور اس کی مثال کلبھوشن کی صورت میں سب کے سامنے ہے اب جبکہ سی پیک منصوبہ شروع ہو چکا ہے ایسے میں بھارت کی تمام چالیں ناکام ہونے کے بعد اس نے افغانستان کو اپنا ہمنوا بنانے کی پوری کوشش کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہا ہے افغان حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے اس روش پر عمل پیرا ہے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی کسی بھی بڑی واردات کا الزام پاکستان کے سر تھونپ دیتی ہے اور اپنی کوتاہی اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے ظاہری سی بات ہے یہ سب کچھ بھارت کے کہنے پر ہو رہا ہے افغانستان داخلی سطح پر ہونے والے انتشار اور اس کی وجہ سے اپنے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے کی بجائے اپنے داخلی معاملات کا جائزہ لے اور اس کا سد باب کرئے پاکستان متعدد بار اس بات کی وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان نے بڑی محنت کے بعد آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک تباہ کیے اس دوران جو لوگ ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوگئے تھے آپریشن ردالفساد کے ذریعے ان کا صفایا کیا جارہا ہے اس کے باوجود افغان مہاجرین میں مبینہ طور پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے خلاف ان کی نشاندہی مشکل ہے سوچنے کی بات ہے کہ افغانستان میں ایسی کاروائیوں کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے اس پر غور کئے بغیر حقائق تک نہیں پہنچا جاسکتا’ سوچے سمجھے بغیر اور کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام کرنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا بنیادی سوال پر کابل حکومت کو غور کرنا چاہیے کابل دھماکوں سے کس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے پاکستان جس نے ہمیشہ یہ کہا ہے اور جو حقیقت بھی ہے کہ وہ کابل کے عدم استحکام سے متاثر ہوتا ہے افغانستان میں امن اس کے لئے ناگزیر ہے وہ کیونکر کابل میں بدامنی سے اطمینان حاصل کر سکتا ہے کابل انتظامیہ کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے معاملات کو درست کرنے کے لئے کس حد تک کوششیں کی ہیں محض امریکی ڈالروں کے ذریعے حکومت کرنا ہی طرز حکمرانی نہیں ہوتا ملک میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان پاکستان کے ان احسانات کو یاد کرئے جن کی وجہ سے وہاں کے عوام اس قابل ہوئے کہ انھوں نے ملک کو قابضین سے بچایا اور وہاں کے عوام کو وہ سہولیات دی جنھیں کوئی بھی میزبان ملک نہیں دے سکتا تھا اس وقت تو بھارت نے بھی ان کا داخلہ اپنے ہاں بند کر دیا تھا جب پاکستان نے ان کو اپنا بھائی کہا ایسے وقت میں جب پاکستان کو افغانستان کی ضرورت ہے اس نے ہمارے دشمن ملک بھارت سے ہاتھ ملا کر پاکستان کی پیٹ میں چھرا گھونپنے کی ناکام کوشش کی ہے یہ بات افغانستان کو بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اسلامی ملک ہے جبکہ بھارت غیراسلامی اور وہاں پر بسنے والی ہندو قوم کی خصلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے بعد کسی کی پروا نہیں کرتا اور خاص طور پر مسلمان تو ان کے دوست ہو ہی نہیں سکتے ایسے میں افغانستان بھارت کا آلہ کار بن کر صرف اور صرف افغانستان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے اس وقت افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت نے اپنے طور پر افغانی حکمرانوں کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کیا ہواہے کیونکہ بھارت کھبی نہیں چاہے گا کہ افغانستان سی پیک یا ون روڈ ون بیلٹ منصوبے میں شامل ہو کر ترقی کرئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ طاہر محمود
03005242865

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: