گرما گرم خبریں

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی
سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی
شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری

انڈر پاس گوجرخان ، تخریب کاری کا خدشہ ہروقت سر پہ منڈلانے لگا 

عبدالستار نیازی)
سب وے شاپنگ مال انڈر پاس گوجرخان کو تحصیل گوجرخان میں اہمیت حاصل ہے، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشر ف کے دور اقتدار میں اس انڈر پاس کا افتتاح چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا تھا اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد بھی تھے ، چوہدری پرویز الٰہی کے اس بڑے منصوبے کو راجہ بشارت اینڈ کمپنی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا، جب اس کا افتتاح ہوا تو تحصیل بھر کے لوگ اسے دیکھنے کیلئے آتے تھے، خوبصورت دکانیں، ایئرکنڈیشنڈ انڈرپاس، تاریخی تصاویرسمیت انڈر پاس کے باہر لگے فوارے بھی دیکھنے والے پر اپنا اثر چھوڑتے تھے، ق لیگ کے دور اقتدار میں تو اس کی حالت اچھی رہی، مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے دور سے لے کر اب تک اس کی حالت ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے، اربوں کی مالیت سے بننے والا یہ انڈر پاس اب کھنڈر میں تبدیل ہوچکاہے، فوارے ٹوٹ چکے ہیں اور ان کے ساتھ اب کھوکھا جات بن گئے ہیں، انڈر پاس کے اندر اور باہر آنے والی سیڑھیوں پر بھی تجاوزات کی بھرمار ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قابل ذکر بات یہ کہ انڈرپاس میں افغانیوں کی بھرمار ہے ، ایئرکنڈیشنڈماحول کی جگہ اب حبس کے باعث شہریوں نے انڈرپاس کا رُخ کرنا چھوڑ دیا ہے، ہمہ وقت تخریب کاری کا خدشہ موجود رہتاہے، انڈرپاس کے اندر کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار صرف مال بٹورنے کیلئے تمام تر تجاوزات کرنے کی اجازت دے رہاہے، انڈر پاس کی دونوں اطراف موجود سیڑھیوں کے باہر بھی کھوکھا جات تعمیر ہوچکے ہیں جس کے باعث خواتین کو انڈرپاس استعمال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہتاہے، پیدل سڑک کراس کرنے والوں کا رُجحان اس لئے بھی بڑھ گیا ہے کہ انڈر پاس کی لفٹ ہمہ وقت خراب رہتی ہے ، مریض اور ضعیف العمر افراد انڈر پاس کے استعمال کی بجائے پیدل سڑک پارکرنے کو ترجیح دیتے ہیں، حادثات میں روز بروز اضافہ ہورہاہے، انڈرپاس کی افادیت سے عوام تو بہرہ مند نہ ہوسکے، البتہ قبضہ مافیا، بھتہ مافیا اور ٹھیکیدار نے خوب فائدہ اُٹھایا ہے اور مزید اُٹھا رہے ہیں، نیشنل ہائی وے کی اس جانب توجہ مبذول کون کرائے گا ، چند صحافیوں نے اس بارے اپنی آواز بارہا بلند کی مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ؟ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈر پاس کے دونوں اطراف لگے فوارے پیپلز پارٹی کا دورِ اقتدار آتے ہی تہس نہس کر دیئے گئے تھے، لائٹس ، سینٹری سامان چور اُتار کر لے گئے جبکہ اس کی حالت بگاڑنے میں تجاوزات مافیا نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اس سارے معاملے پر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن نے تاحال چپ سادھ رکھی ہے، انڈر پاس کے اندر سارا دن گانے بجانے کی آوازیں آتے رہنا معمول کی بات بن چکی ہے کیونکہ اب انڈر پاس میں ماسوائے موبائل شاپ ، الیکٹرونکس اور شوز ہاؤسز کے کچھ نہیں رہ گیا، جن تاجروں نے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے دکانیں لی تھی وہ بیچ کر کنارہ کش ہوچکے ہیں، تاجروں کا کہنا ہے کہ ہمیں تجاوزات کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے اور ہم اونے پونے داموں دکانیں فروخت کرنے پر مجبور ہوچکے تھے اس لئے ہم نے جان چھڑائی، تجاوزات مافیا نے عرصہ دراز سے گوجرخان شہر کو لپیٹ میں لے رکھا ہے تاہم اس سے انڈر پاس بھی محفوظ نہ رہا کیونکہ ٹھیکیدار ماہانہ رقم بٹورنے کے چکر میں انڈر پاس کو کسی بھی شکل اور ہیئت میں تبدیل کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے، گوجرخان شہر میں پارکنگ ایک اہم مسئلہ ہے جس کے لئے آج تک کوئی خاطرخواہ اقدامات نہ کئے گئے ، انڈر پاس کی طرح کا ایک پارکنگ پلازہ وقت کی ضرورت ہے، مگر موجودہ حکومت کے مقامی نمائندوں کو سڑکیں ، نالیاں بنوانے سے فراغت ملے ، افتتاح پر افتتاح کرنے سے فرصت ملے ، جنازے اور ولیمے بھگتانے سے فرصت ملے تو وہ اس جانب توجہ دیں کہ گوجرخان کی حالت بگاڑنے میں میونسپل ایڈمنسٹریشن اور خود ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کتنا بڑا ہاتھ ہے۔ دانشور کہتے ہیں کہ جب انسان کسی کی جانب ایک انگلی کرتا ہے تو بقایا تین انگلیاں اس کی اپنی جانب ہوتی ہیں، تو تو میں میں کی سیاست پنجاب سمیت پاکستان کا کلچر ہے ، انڈر پاس کے اس اہم مسئلے کی جانب تاحال کسی کی توجہ مبذول نہ ہوئی، ہم اپنی کوشش کررہے ہیں اور زنجیر ہلا رہے ہیں شاید کسی کے اندر انسانیت جاگ جائے اور کسی بڑے حادثے سے قبل اس تمام تر صورتحال کا نوٹس لے لیا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: