گرما گرم خبریں

نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری
سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان

ا ریاض کی معروف ادبی تنظیم ’’حلقہ فکروفن‘‘ کے عید ملن مشاعرے کی روداد۔۔تحریر: عابد شمعون چاند

ایک ایسے دور میں جب مادیت اپنے پاؤں پھیلا کر اقوام عالم کو اپنے سائے میں سمیٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے سائنسی شعور تصورات و تخیل کی وادیوں اور سبزہ زاروں کو نگل لینے کی جدوجہد میں مصروف ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی نے معاشرتی زندگی کو گھائل کر رکھا ہے ایسے میں شاعروں کی محفلوں کا سجنا شعرا کی شرکت اور سامعین کا جگھٹ یہ اطمینان دلاتا ہے کہ ادب روبہ زوال نہیں ہو سکتا اس کا حسن کا جادو اور مزاج کی چاشنی سر چڑھ کر بول رہی ہے یہ مشاعروں کا حسن اور اس حسن پر لوگوں کی وارفستگی ہی تو تھی کہ بادشاہوں اور نوابوں کے درباروں میں سجنے والی محفل سخن نے مشاعروں کا رنگ لیا اور عوام کے درمیان مقبولیت ملی انہیں مشاعروں میں خوبصورت رنگ بھرا ریاض کی معروف ادبی تنظیم ’’حلقہ فکروفن‘‘ نے ۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی معروف ادبی تنظیم حلقہ فکروفن کی جانب سے معروف قلم نگار، صحافی اور شاعرہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے اعزاز میں عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق تھے جبکہ پاکستانی کیمونٹی کے سینکڑوں عمائدین نے بھی شرکت کی،پروگرام کا باقاعدہ آغاز حافظ بلال کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ نعت رسول مقبولﷺ کی سعادت عابد شعمون چاند نے حاصل کی،حلقہ فکروفن کے جنرل سیکرٹری وقار نسیم وامق نے ابتدائی خطاب میں سفیر پاکستان سمیت تمام شعرا کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حلقہ فکروفن گزشتہ پینتیس سال سے سعودی عرب میں اردو بولنے اور اردو سمجھنے والوں کے لئے ہمیشہ ایسے پروگرام ترتیب دے رہی ہے جو کہ اردو ادب کو فروغ دے رہے ہیں، ہماری یہ اولین کوشش رہی ہے کہ سعودی عرب میں مقیم کیمونٹی کو اچھے انداز میں اردو ادب سے روشناس کروایا جائے، جس میں ہم کامیاب رہے ہیں۔ معروف پاکستانی شاعرہ شہناز مزمل نے کہا کہ وہ جب بھی سعودی عرب آتی ہیں تو یہاں حرمین شریفین کی وجہ سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے اس کے علاوہ یہاں پاکستانی کیمونٹی جس طرح مہمان نوازی کرتی ہے اس کی مثال نہیں ملتی،اور ان کو بے حد خوشی ہوتی ہے کہ یہاں لوگوں کی بڑی تعداد ادب کو سمجھتی ہے ہماری نوجوان نسل جس طرح ادب کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اس سے خوشی محسوس ہوتی ہے اور اطمینان ہوتا ہے کہ اردو زبان کا ادب محفوظ ہاتھوں میں ہے،حلقہ فکروفن کے ناظم الامور ڈاکٹر طارق عزیز کا کہنا تھا کہ وہ بے حد خوش ہیں کہ آج سفیر پاکستان ان کی حوصلہ افزائی کے لئے یہاں موجود ہیں جو کہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ہر دور میں آزاد خیال ادیبوں اور شاعروں نے ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ فنکار اپنے طبقے اور ہر دور کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے ۔ترقی پسند تحریک کی طرح حلقہ فکروفن نے سچے ادیب کواس کے اصلی رنگ میں پیش کیا ہے ڈاکٹر طارق عزیز کا ڈاکٹر شہناز مزمل اور ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے حوالے سے کہنا تھا کہ شہناز مزمل اور عمرانہ مشتاق کے اشعار ملائم ،دھیمے ،سلیس اور سادہ ہوتے ہیں مگر انکی تہہ میں غضب کا درد اور جوش پایا جاتا ہے معروف کالم نگار، صحافی اور شاعرہ ڈاکٹرعمرانہ مشتاق کا کہنا تھا کہ وہ شکریہ ادا کرتی ہیں کہ ان کے اعزاز میں اس شاندار عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے،میں سمجھتی تھی کہ صرف پاکستان میں ہی ادب کی ترویج کا کام ہو رہا ہے، ہر شاعر اور ادیب ادب کی تخلیق کر رہا ہے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ سمندر پار پاکستانی بھی ادب کی ترویج کے لئے کام کر رہے ہیں اور بہت ہی تخلیقی کام کرکے ملک وقوم کانام بھی روشن کر رہے ہیں، کیونکہ یہ کام بڑا محنت طلب اور محبت وخلوص کے ساتھ کیا جاتا ہے حلقہ فکروفن ایک متحرک تنظیم ہے اور یہ ادب کے فروغ کے لئے لازوال کام کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ حلقہ فکروفن جس طرح ادیبوں کو بھی فروغ دے رہی ہے وہ بھی سراہے جانے کے قابل ہے، پاکستان میں تو روزانہ کئی پروگرام منعقد ہوتے ہیں مگر سعودی عرب میں جتنی پاکستانی کیمونٹی ہے اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں ادب کا بہت زیادہ کام ہو رہا ہے سعودی عرب میں مہمان نوازی کے حوالے سے عمرانہ مشتاق کا کہنا تھا انکو جب مدعو کیا گیا تو انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ انکو یہاں اتنی مقبولیت ملے گی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جو عزت اور پیار ملا ہے اس کے پیش نظر میں بھول چکی ہوں کہ میں پاکستان سے باہر ہوں بلکے مجھے لگتا ہے کہ میں اب چند روز بعد جب پاکستان واپس جاؤں گی تو مجھے ایسا محسوس ہوگا کہ میں کسی بیگانے ملک میں آ گئی ہوں اس پیار اور محبت بھری یادوں کو کبھی بھی بھلا نہیں پاؤنگی،سفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق کا کہنا تھا کہ انکی پوری زندگی فوج میں رہ کر گزری ہے انکو یاد ہے کہ 1973کے بعد کبھی کسی مشاعرے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا مگر آج یہاں آکر خوشی ہوئی ہے ہمارا اردو ادب پوری دنیا میں مشہور ہے کیونکہ جتنا اردو ادب نے فروغ پایا ہے اتنا کسی دوسری زبان کو وہ عروج نہیں ملا، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز اور دیگر شعرء ا کرام نے ادب کی لازوال خدمت کی ہے اور جس طرح حلقہ فکروفن نے مشاعرے کا انعقاد کیا ہے وہ قابل ستائش ہے اور سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ اس طرح کی محافل کی ترویج کے لئے تعاون جاری رہے گا بلکہ پاکستان سے کسی بڑے شعرا کرام کو بلانے کے لئے بھی اپنی خدمات فراہم کرے گا ۔حلقہ فکروفن کے ایڈوائزر محمود احمد باجوہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفیر پاکستان کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ سفارت خانہ پاکستان ہمیشہ اپنے ہموطنوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔نئے سفیر چونکہ پاکستان نیوی سے ریٹائرڈ ہو کر آئے ہیں تو پاکستانی قوم جتنی اپنی آرمی سے محبت کرتی ہے تو اس لحاظ سے بھی سفیر پاکستان یہاں اپنے ہم وطنوں کی محبت سے بھی مستفید ہوتے رہیں گے، مشاعرے میں وقار نسیم وامق، ڈاکٹر حنا امبرین، عبدالرزاق تبسم، تنویر احمد تنویر، وسیم ساحر، محمد خالد رانا، مسعود جمال، غزالہ کرمانی، اقبال طارق، باقر عباس فیض، ڈاکٹر صغیر صافی، محمد صابر قشنگ، یوسف علی یوسف، کاشف رفیق، فاطمہ احمد ،حکیم اسلم قمر، محمد ایوب صابر، سہیل ثاقب، نے اپنی غزلیں اور نظمیں پیش کیں جبکہ مرکزی شعرا ء میں سے شہناز مزمل اور ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے جب اپنا کلام پڑھا تو سامعین کی جانب سے دل کھول کر داد دی گئی، آخر میں تمام شعرا ء کرام کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیاجبکہ حلقہ فکروفن کی پنجاب ایڈوائزی کونسل کے ممبر اور پروگرام کے سپانسر میاں عمران ججوی کواورسفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق کو بھی تعریفی شیلڈ دی گئی جبکہ بابائے ریاض قاضی اسحاق میمن کی جانب سے اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا گیا ۔تقریب کے تمام حاضرین نے خوبصورت مشاعرہ منعقد کرنے پر حلقہ فکروفن ریاض کے تمام عہدیداروں کو مبارکباد پیش اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ حلقہ فکروفن اپنی روایت کو آئندہ بھی قائم رکھے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: