گرما گرم خبریں

شہیدوں اور غازیوں کی دھرتی کا ایک اور سپوت شہادت کا درجہ پا گیا
حکومتی دعوے دھرے کے دھرے، سحرو افطار میں لوڈشیڈنگ ،عوام بلبلا اُٹھے ، حکومت کو بددعائیں
منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،بدنام زمانہ منشیات فروش آصف عرف آصو بٹ ساتھیوں سمیت گرفتار
گوجرخان : الیکشن کمیشن میں زیرسماعت جعلی ڈگری کیس میں لیگی ایم پی اے حلقہ پی پی فور راجہ شوکت عزیز بھٹی نااہل
واپڈا اِن ایکشن، عدم ادائیگی بل کی بناء پر پاسپورٹ آفس گوجرخان کابجلی کنکشن کاٹ دیا گیا، عوام ذلیل و خوار
سو کے وی کا ٹرانسفارمر نہیں لگ رہا ،واپڈا چیئرمین ،ایس ڈی او اور ایکسین کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر
گلیانہ موڑ گوجرخان موٹرسائیکل ورکشاپ میں آتشزدگی،سامان جل کر خاکستر ہوگیا
گو جر خان میں اندھیر نگری چوپٹ راج، سٹریٹ لائٹس خراب، پانی کی شدید کمی، تجاوزات کی بھرمار ، گندگی کے ڈھیر، بلدیہ تنخواہیں لینے کیلئے بنی ہے ؟؟

تحصیل گوجرخان کے نواحی دیہات ترقی اور بنیادی ضروریات و سہولیات سے محروم ہیں

Pic Of Press RepoterJannah Sajid Naqviساجد نقوی

(سروے رپورٹ ساجد نقوی سے ) ترقی کے اس دور میں جہاں دنیا چاند پرنئی زندگی گزارنے کے سہانے خواب کی تعبیر حاصل کر رہی ہے اور انسان مشین سے بھی زیادہ کام کرنے کو ترجیح دے رہا ہے وہاں تحصیل گوجرخان کے نواحی دیہات ترقی اور بنیادی ضروریات و سہولیات سے محروم ہیں تحصیل گوجرخان کے نواحی قصبے جو جی ٹی روڈ پر واقع ہیں اور اس خطے کوپہلا نشان حیدر کا اعزاز بھی حاصل ہے شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین مرکز مندرہ جوکہ چھ یونین کونسلوں کلیام اعوان ،مندرہ ، کوری دولال ،نور دولال ،ساہنگ اور گہنگریلہ پر مشتمل ہے جس میں ہزاروں مسائل منتخب عوامی نمائندوں اور ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں جن کو فوری حل کرنانہایت ضروری ہے وفاق اور پنجاب گورنمنٹ کے تمام محکموں کی عدم توجہ سے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے مرکز مندرہ کے گردونواح میں جانے والی اکثر سڑکیں مندرہ تا چوک پنڈوڑی روڈ ، گل پیڑہ سے کلیال روڈ،ساہنگ سے چیڑھ ،ڈیرہ سیداں روڈ،پوٹھی بجنیال روڈ، کلیام اعوان روڈ ، گورنمنٹ گرلز سکول کلیام تا جہلیاری معظم شاہ ،ڈھوک ککیاں روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جنکی حالت ناگفتہ بہہ ہے جس کی مد میں ہر سال ایس ڈی او ہائی وے کو لاکھوں روپے کا فنڈ ملتا ہے تاکہ محکمہ ہائی وے ان کو وقت پر ریپئر کر سکیں جبکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ محکمہ ہائی وے کے افسران سمیت عملے کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے جو محکمہ ہائی وے کی نااہلی کو منہ بولتا ثبوت ہے، سیوریج کا ناقص نظام اور بلدیہ کی ہٹ دھرمی سے عوام سخت عاجز آ چکے ہیں ،محکمہ واپڈا کے عملے نے بھی لوگوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے بلکہ ایس ڈی او مندرہ صارفین سے انتقامی کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں سوئی گیس کی سہولت کی ہر شخص آرزو کررہا ہے سابقہ دور حکومت میں سوئی گیس کی فراہمی جہاں ہوئی وہی تک محدود ہے موجودہ دو حکومت میں مرکز مندرہ میں کسی جگہ پر بھی سوئی گیس کے نئی پائپ بچھائی ممکن نہ ہو سکی یونین کونسل کلیام اعوان اور مندرہ کے درمیان مین جی ٹی روڈ پر واقع گاؤں موہڑہ غوریاں تا حال سوئی گیس جیسی نعمت سے محروم ہے مندرہ شہر میں مین بازار کو پختہ کیا گیا مگر ٹھیکدار کی نااہلی یا کمیشن کے چکر میں بازار کے دونوں اطراف میں نالیاں نہ بنائیں گئیں جسے دوکانداروں کو بارشوں کے دنوں میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے مندرہ میں سروس روڈ تو بن گئی مگر وہاں پر کیری ڈبوں اور رکشہ ڈرائیورز نے قبضہ جما رکھا ہے سب سے بڑھ کر اہم مندرہ شہر میں لیٹرین کا کوئی انتظام نہ ہے جس سے خواتین کو خریداری کے لیے دور دراز علاقوں سے آنا پڑتا ہے جنھیں شدید خفت کا سامنا رہتا ہے پنجاب گورنمنٹ کا سب سے زیادہ توجہ طلب محکمہ ،محکمہ صحت ہے ہیلتھ سیکٹر میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو رہی جی ٹی روڈ پر واقع واحد رورل ہیلتھ سنٹر ہے جہاں پر کافی پوسٹیں خالی ہیں جس ڈاکٹر کے بھی آرڈر ہوں وہ سیاسی اثر رسوخ استعمال کر کے کسی BHUمیں ٹرانسفر کروا لیتا ہے یہاں روازنہ کی بنیاد پر حادثات کے مریض آتے ہیں مگر تعینات عملہ سہولیات کے فقدان کے باوجود عوام کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں اب ستم ظریفی یہ ہے کہ ہسپتالوں کے یوٹیلٹی بلز پاس نہیں ہو پا رہے جس سے عنقریب ٹیلی فون اور بجلی کی سہولت بھی چھن جانے کا خدشہ ہے غیر معیاری دواؤں کی بھر مار اور عطائی ڈاکٹر ز کی وجہ سے عوام الناس سخت مشکلات سے دوچار ہیں بجائے بیماری سے آرام آئے الٹا نئی تکالیف شروع ہو جاتی ہیں۔روڈ اور صحت کی طرح سکولوں میں بھی بیشمار مسائل دیکھنے میں آرہے ہیں محکمہ تعلیم کے کارپر داذان دن رات معیار تعلیم بڑھانے کے دعوے کرتے ہیں لیکن تعلیم کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ مندرہ شہر سے ملحقہ چار یونین کونسلوں گھنگریلہ،کوری دولال،ساہنگ اور مندرہ کا اکلوتا گرلز ہائی سکو ل اہل اقتدار کے لیے لمحہ ء فکریہ ہے۔ سکول میں لیبارٹری ہے سامان نام کی کوئی چیز نہیں ہے حالانکہ اس مسلمہ حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کے سائنسی تعلیم ہی سے کسی قوم یا ملک کی ترقی کی ضامن ہے لہذا سائنس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ طالبات یا تو دوسرے علوم رکھ لیتی ہیں یادوسرے شہر داخلہ لے لیتی ہیں پرائیویٹ سکولوں کی بھر مارجہاں فیسیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں مگر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں محروم ہیں ۔مندرہ بازار اور اسکے گرد نواح کی یونین کونسلوں کی آبادیوں اہم شاہراہوں چھوتے بازراوں مسجدوں کے سامنے ،یونین کونسلوں کے سامنے گندگی کے ڈھیر لگے ہیں ان گندگی کے ڈھیروں کو TMOکے عملے نے کبھی صاف نہیں کیا ۔سیورج کا ناقص نظام ہونے کے باعث موہڑہ مندو مندرہ میں بارش والے دن پانی تالابوں جیسی شکل اختیار کر لیتا ہے جس پر متعدد بار مقامی آبادی کے نمائندگان سراپا احتجاج ہوئے مگر تاحال کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔ محکمہ پٹوار اور پٹواریوں کی ذمہ داریاں کا بھی کسی کو کوئی احساس نہیں لوگوں کوپٹوار دفتروں کے ہزاروں چکر کاٹنے پڑتے ہیں کسی کی زمین کسی کے نام بول رہی ہے تو کسی کی بلاوجہ بلاک ہے جس کی بنیادی وجہ پرانے ریکارڈ میں تبدیلی اور نیا کمپوٹر ائزڈ نظام ہے جس کو درست کرنا بھی اشد ضروری ہے ۔مندرہ چکوال روڈ کی حالت زار کا زکر بہت ضروری ہے سابق دور حکومت میں سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی خصوصی کاوشوں سے شرو ع ہونے والا منصوبہ جسے کرپشن کی وجہ سے روک دیا گیاتھا موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسی منصوبے کا دوبارہ افتتاح بھی کیا اور اسکی تخمینہ لاگت بھی بڑھا دی گئی جبکہ ٹھیکہ دوبارہ این ایل سی کمپنی ہی کو دیا گیا مگر یہ منصوبہ تا حال مکمل نہ ہو سکا ہے جس سے اس روڈ سے ملحقہ آبادیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس روڈ پر حادثات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ مندرہ ریلوے اسٹیشن جو کسی دو ر میں جنکشن کی حثیت رکھتا تھا مندرہ ریلوے اسٹیشن پر کینٹین تھی جنکشن ہونے کی بنا پر مسافروں کا رش تھا لوگ جی ٹی روڈ کی بجائے ریل کے سفر کو آرام دہ اور محفوظ سمجھتے ہوئے اس سفر کو ترجیح دیتے تھے سابقہ دور حکومت سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دور تک مندرہ ریلوے اسٹیشن پر تمام ٹرین کا سٹاپ بحال تھا اب عوام گاڑی کو ترستے ہیں اور ریل میں سفر کے لیے پنڈی یا گو جر خان جانا پرتا ہے اب تو نہ مسافر خانہ رہا ہے اور نہ ہی دیگر رونقیں ہیں مندرہ ریلوے اسٹیشن بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے ریلوے مرید پھاٹک جو سینکڑوں مریضوں کی جان لے چکی ہے نیااوور ہیڈ برج کافی عرصے سے مکمل نہیں ہو پارہا جس سے پھاٹک کے اطراف میں مسافروں ٹرانسپوٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے سب سے بڑھ کر یہاں پر جن لوگوں نے اپنا زاتی کاروبار شروع کیا تھا اوور ہیڈ برج بنانے سے انکے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں انک جو حق بنتا تھا اتنا معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔ اب سب سے بڑا مسئلہ مرکزمندرہ کی یونین کونسل ساہنگ میں کچرا کنڈی کا ہے جس کے لیے حکومت نے اراضی خریدلی ہے کچھ لوگ اس منصوبے حق میں دلائل دے رہے ہیں اور کچھ لوگ اس پر سخت سراپا احتجاج ہیں حکومت جہاں ہزاروں ترقیاتی کاموں کی دعوے دار ہے وہاں ان کو بنیادی مسائل کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ ہمارے اس قصبے کو بنیادی ضروریات فراہم آ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: