گرما گرم خبریں

پریس کلب سکھو کے الیکشن ، راجہ پرویزاختر صدر منتخب ہوگے
ضمنی الیکشن حلقہ پی پی 20کے سلسلہ میں مسلم لیگ ن پوری طرح متحرک ہوگئی، میجر(ر) طاہر اقبال
پریس کلب سکھو کو کامیابی صحافتی سال مکمل کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، راجہ ہارون کیانی
سردار گروپ کو بدستور اپنے حامیوں کی اندورنی بغاوت کا سامناہے
عمران خان ملک کے عوامی کی جنگ لڑ رہے ہیں،را جہ طا رق کیانی
گو جر خان میں بجلی کی غیر اعلانیہ لو ڈ شیڈنگ کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

ختم نبوت اور آج کا مسلمان 

تحریر : عبدالستار نیازی ۔ گوجرخان
قارئین کرام ! ختم نبوت پر ہر ذی شعور مسلمان بلاتفریق رنگ ونسل بلاتفریق مسلک ، فقہ ، عقیدہ و جماعت کا ایمان ہے اورختم نبوت ایمان کا لازمی جزو ہے،چودھویں صدی کے اس جدید دور میں ختم نبوت کے حساس ترین مسئلہ کو جس انداز میں حکومت وقت ہلکا لے رہی ہے یہ مسئلہ ان کے گلے کا پھندا بن سکتاہے، ختم نبوت کا مسئلہ آج نومبر 2017 ؁ء کا مسئلہ نہیں ہے،نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور کے بعد سے لے کر آج تک مختلف ادوار میں مختلف جھوٹے اشخاص نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا، جنہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑی،مسیلمہ کذاب نے بھی جھوٹا دعویٰ کیاتھا جس کے مقابلے میں جنگ کی گئی تھی اور اس جنگ میں 1200صحابہ نے خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا، پاکستان بننے سے پہلے مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا جس کو اس وقت کے مجدد اعلیٰ حضرت پیر سید مہرعلی شاہ گولڑویؓ نے چیلنج کیا تھا اور اسے مناظرے کا چیلنج دیا تھا، مناظرے کی تاریخ 25اگست 1900 ؁ء مقرر تھی، اعلیٰ حضرت گولڑویؓ لاہور بادشاہی مسجد تشریف لے گئے ، مگر مرزاقادیانی نہ آیا، اس دن کو آج بھی گولڑہ شریف سمیت اندرون و بیرون ممالک میں یوم فتح دین مبین کے نام سے منایاجاتاہے،حضرت اعلیٰ پیر مہر علی شاہؓ کا فرمان ہے کہ ختم نبوت کاکام جو بھی شخص جس دور میں بھی کرتاہے اس کی پشت پر نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ ہوتاہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں اب تک مرزائیوں نے ہر لحاظ سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں کردار ادا کیا، سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے پارلیمنٹ میں بل پاس کراکر اس فتنے کو دفن کیا ، آئین پاکستان کے تحت قادیانی کافر ہیں ، وہ اپنی عبادت گاہ تعمیر نہیں کرسکتے ، وہ اذان نہیں دے سکتے ، نیز علی الاعلان عبادت بھی نہیں کرسکتے، موجودہ دور میں قادیانی نواز حکومتوں نے ان کو ایک گھناؤنی سازش کے تحت کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، عالمی طاقتوں کے دباؤ پر پاکستان میں قادیانیوں کیساتھ نرمی برتی جارہی ہے، جو کسی طور پر درست نہیں، پاکستان اسلامی جمہوری ملک ہے اور اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی، اس ملک پاکستان میں اسلام اور آئین پاکستان کا پرچار ہونا چاہیے مگر افسوس کیساتھ لکھنا پڑرہاہے کہ ملک پاکستان صرف نام کی حد تک اسلامی ملک ہے، آئین پاکستان کی پاسداری جس طرح ہر شہری پر لازم ہے اسی طرح حکمرانوں پر بھی اس کی پاسداری لازم ہے، گزشتہ دو ماہ میں ہونے والی ملکی تبدیلیوں کے باعث حکمران خاندان اور حکمران جماعت عجیب کشمکش کا شکار ہے، اپنے بچاؤ کیلئے قادیانیوں کی تابعداری کرتے ہوئے ختم نبوت حلف نامہ کی شق میں ترمیم کی گھناؤنی سازش کا ارتکاب کیا گیا، اس سارے معاملے میں حکومتی جماعت ملوث ہے ، جس میں سب سے بڑی ذمہ داری وزیرقانون پر عائد ہوتی ہے، اس تمام واقعے کی نشاندہی طاقتور اپوزیشن شخصیت شیخ رشید احمد نے کی، پہلے پہل تو حکومت نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، کوئی ترمیم نہیں کی گئی، مگر جب معاملہ ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوا تو غلطی مانتے ہوئے انکوائری تشکیل دے دی ، جس کا سربراہ ن لیگ کے ہی رہنما راجہ ظفر الحق کو بنایا گیا، کمیٹی نے تمام تر انکوائری تو مکمل کی مگر رپورٹ پبلک نہ کررہی ہے اور نہ ہی کرنے کا کوئی ارادہ ہے کیونکہ ذمہ داران ن لیگ کے ہی کرتا دھرتا ہیں ، پاکستان میں کمیشن اور انکوائریاں ہوتی ہی اسی لیے ہیں کہ معاملے کو دبا دیا جائے ، حکومت نے ایک بار پھر بل پیش کرکے اسی ترمیم شدہ بل کو دوبارہ بحال کر کے پارلیمنٹ سے منظور کرالیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سارے معاملے کا پیچھے کونسی طاقتیں کارفرما ہیں کہ اتنی بڑی سازش کی گئی، یہاں بہت سارے سوال جنم لیتے ہیں کہ آیا حکومت نے یہ دیکھنے کی کوشش کی پاکستان میں مسلمان جاگ رہے ہیں یا نہیں ؟ حکومت نے عالمی طاقتوں کو خوش کرنے کی غرض سے ایسا کیا ہے ؟ گزشتہ روز امریکہ اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے ایک بیان دیکھنے میں آیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون کو ختم اور سزائے موت کے قانون پر نظرثانی کی جائے ، میرا ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ آئین کی تشکیل پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اس سے امریکہ اور برطانیہ کا کیا تعلق بنتاہے اور وہ کیوں ڈکٹیشن دے رہے ہیں؟ دال میں کچھ کالا ہے یا ساری دال ہی کالی ہے؟ پاکستانی عوام کو آئندہ ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا پڑے گا، اس ساری صورت حال پر پچھلے ماہ ادارہ صراط مستقیم نے لاہور سے اسلا م آباد تک احتجاجی ریلی نکالی تھی، ایک ہفتہ تک ڈی چوک پر دھرنا دینے کے بعد مذاکرات کر کے وہ واپس چلے گئے تھے، اس کے بعد 6نومبر سے شروع ہونے والے تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج تاحال جاری ہے، فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیئے بیٹھے قائدین و کارکنان کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنی سازش کے پیچھے کارفرما چہروں کو بے نقاب کیا جائے، انکوائری رپورٹ میں جن افراد پر ذمہ داری عائد ہوئی ہے ان کے نام قوم کے سامنے رکھے جائیں، دھرنا قائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زاہد حامد کی برطرفی تک مذاکرات بھی نہیں کئے جائیں گے، اس ساری صورتحال میں حکومت تاحال ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور دوسری جانب تحریک لبیک والے بھی کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہ ہیں، جس کے باعث ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہاہے دوسری جانب راولپنڈی اسلام آباد کی عوام بھی ذہنی کوفت کا شکار ہیں،جنوری 2013 ؁ء کی یخ بستہ سردی میں ڈاکٹر طاہرالقادری اور انکے کارکنان نے ڈی چوک پر دھرنا دیا تھا اب نومبر 2017 ؁ء کی سردی میں تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا دیا ہواہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کس طرح ہوگا، دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیاجانا اشد ضروری ہے جس کے نتیجے میں مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: