گرما گرم خبریں

پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی
ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا

راجہ تصورحسین منہاس۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے دور کا “فلائنگ ہارس” تحریر طارق نجمی


خطہء پوٹھوہار کو ہمیشہ یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ ہر دور میں یہاں ایسے نگینے پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اپنی آب و تاب سے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنا نام روشن کیا بلکہ ان کی بدولت پاکستانی پرچم سربلند رہا ایسا ہی ایک نام راجہ تصوّر حسین (مرحوم) کا بھی ہے راجہ سکول دور میں ہی ایتھلیٹکس میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور مختلف گیمز میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ ان کے والدِ محترم فوج سے وابستہ رہ چکے تھے اور راجہ کے پردادا جنرل شہوار خان نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں منڈی بہاؤالدین کے گاؤں موجیاں والا کے مقام پر انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا تھا۔ جن کے نام کی تختی آج بھی وہاں آویزاں ہے۔ راجہ صاحب کا خاندان زراعت کے پیشے سے وابستہ تھا لیکن فوج سے اس قدر گہرا ربط ہونے کی وجہ سے 1966 میں راجہ صاحب نے پاک آرمی میں شمولیت اختیار کر لی۔ فوج میں شمولیت کے بعد ان کی اصل خوبیاں سامنے آئیں۔ آرمی میں کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور بڑے بڑے کھلاڑی جنہوں نے دنیا بھر میں اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کیا، زیادہ تر کا تعلق پاک آرمی سے ہی رہا ہے۔راجہ صاحب کی خوش نصیبی تھی کہ اوائل دور میں ہی انہیں صوبیدار خالق حسین جیسے کوچ میسر آئے ، جنہیں 1965ء4 کی جنگ میں گرفتار ہونے پر انڈیا کی اخبارات میں جلّی حروف میں خبر شائع ہوئی تھی کہ “ہم نے پاکستان کا اڑتا پرندہ پکڑ لیا ہے”۔ راجہ صاحب نے ابتدا میں دوسری کھیلوں میں بھی حصہ لیا اور ہاکی کے کھیل میں اپنی یونٹ کو وِکٹری سٹینڈ تک پہنچایا لیکن وہ چونکہ نیچرل سپرنٹر تھے اور ان کی اصل خوبیاں 400 میٹر کی ریس میں سامنے آئیں۔ گو کہ اس دور میں 400 میٹر کی ریس میں بہت سے اور نام بھی نمایاں تھے اس لئے 400X4 ریلے ریس میں اپنی جگہ بنا لی۔ لاہور میں 1979 ء4 میں بین الاقوامی ایتھلیٹکس چیمپئن شِپ میں بھی انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1980ء میں کراچی میں منعقد ہونے والے سترھویں انٹرنیشنل گیمز میں بھی انہوں نے طلائی تمغہ جیتا۔ ان گولڈ میڈلز کے علاوہ راجہ صاحب نے دوسرے مقابلوں میں کم و بیش 36 سلور اور براؤنز میڈل حاصل کئے ہیں۔ راجہ کے کیئریر میں جو بات باعثِ افتخار ہے وہ ہے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا حصول۔ اس طرح راجہ صاحب پاکستان کی اس محدود فہرست میں شامل ہیں جو ایشین کلر ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ 1976ء4 میں سولہویں بین الاقوامی گیمز میں (جو کہ لاہور میں منعقد ہوئی تھیں) انہوں نے پہلی بار طلائی تمغہ حاصل کیا اور اس کے بعد تو گویا کامیابیوں کا ایک لامتناعی سلسلہ شروع ہو گیا۔ 1976 ء4 میں ہی قائدِ اعظم کے صد سالہ جشن کے سلسلے میں ایک بین الاقوامی سپورٹس فیسٹیول منعقد ہوا جس میں انفرادی طور پر انہوں نے 400 میٹر کی دوڑ میں سلور میڈل حاصل کیا اور 400×4 ٹیم ایونٹ میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا 1977 ء4 میں ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل مقابلوں میں انہوں نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔1978 ء میں چین کے شہر پیکنگ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا اور پھر اْسی سال یعنی 1978 ء4 میں ہی چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے بعد پاکستان کے شہر پشاور میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں بھی انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بھارت کے شہرہْ آفاق ایتھلیٹ میکھا سنگھ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ میں نے اپنے پورے کیریئر میں راجہ تصوّر حسین کو سب سے خطرناک پایا۔ راجہ کے ساتھ اس وقت کے مایہ ناز سپرِنٹر موجود تھے۔ جن میں صوبیدار محمد یونس کا نام سب سے نمایاں تھا۔ جو بعد میں اپنے اِسی ٹیلنٹ کی وجہ سے آنریری کپتان کے عہدے پر پروموٹ ہو گئے تھے۔ ریلے ریس میں پہلے اور آخری کھلاڑی پر مکمل انحصار ہوتا ہے ، پہلا کھلاڑی اگر مخالف سپرِنٹرز پر دو چار قدم کی سبقت حاصل کر لے تو دوسرے ساتھیوں کے لئے آگے کے مراحِل آسان ہو جاتے ہیں۔ راجہ صاحب پہلے کھلاڑی کے طور پر ریس کی ابتدا کیا کرتے تھے اور ابتدائی مرحلے میں ہی دوسرے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ جاتے تھے۔ راقم الحروف نے متعدد بار ان کی ریس ا?ن میدانوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور راجہ صاحب کو وِکٹری سٹینڈ پر میڈلز لیتے دیکھا ہے۔ پاک آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد راجہ صاحب مختلف سیکنڈری سکولز میں فزیکل انسٹرکٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے اور ہمیشہ نوجوانوں کو کھیلوں میں شامل ہو کر اپنا نام پیدا کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آج بھی ان کے کچھ شاگِرد قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے علاقے اور اپنے مْلک کا نام روشن کر رہے ہیں۔راجہ نے 2010 ء4 میں فزیکل انسٹرکٹر کی حیثیت سے محکمہْ تعلیم سے ریٹائرمنٹ لی اور تھوڑے ہی عرصے بعد یعنی 2014ء4 میں مختصر سی علالت کے دوران اچانک ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح سپورٹس کی دنیا کا ایک تابناک باب بند ہو گیا۔ آج راجہ صاحب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے کارنامے رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ راجہ کے تین صاحبزادے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہو کر اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑے بیٹے راجہ یاسر عباس اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے ایران میں مقیم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: