گرما گرم خبریں

دو منشیات فروشوں کے قبضہ سے مجموعی طور پر دو کلوگرام چرس برآمد کر کے گرفتار کر لیا
محرم الحرام کے دوران سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے،ایس ایچ او جاتلی
کلر سیداں اور گردونواح میں سوئی گیس کی غیر ا علا نیہ لوڈ شیڈنگ
مندرہ کا نوجوان طالب علم ٹرین کی زد میں آکر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا
فنڈزکی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف دائر کی گئی رٹ پٹیشن کا بدھ کو بھی فیصلہ نہ سنایا جاسکا
زمین کے تنازع پربھائیوں نے کلہاڑیوں کے وار کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا گیا
رورل ہیلتھ سینٹر دولتالہ میں بے قاعدگیوں کے بارے میں خبروں کی اشاعت پر ہسپتال انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی
سلیمان فاؤنڈیشن کے سربراہ شیخ محمد ساجد مختصر دورے پر متحدہ عرب امارات سے پاکستان پہنچ گئے

راجہ محمد علی کی کاوشوں سے ٹی ایم اے کہوٹہ کے دس ملازمین کو بحال کر دیاگیا

Raja Muhammad Ali, PML-Nکہوٹہ(بیورو رپورٹ)مسلم لیگ ن کے رہنما ایم پی اے راجہ محمد علی کی کاوشیں رنگ لے آئیں۔ٹی ایم اے کہوٹہ کے دس ملازمین کو بحال کر دیا گیا ان کی عمریں زیادہ تھیں تو ان کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا۔تفصیل کے مطابق ٹی ایم اے کہوٹہ کے د س ملازمین جن کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا جن میں محمد بشارت کلرک، محمد اکبر ڈرائیور، شکیل احمد نائب قاصد، عبدالوھاب وال مین، محمد عمران وال مین، محمد یاسر بیلدار، رخسار مالی، راجہ عامر اشتیاق نائب قاصد، راجہ نوید نائب قاصد، ارشد محمود نائب قاصد شامل ہیں۔اب ان کا کنٹریکٹ ختم ہو گیا تھا اور ان کو گھر بھیجا جا رہا تھا کہ ایم پی اے راجہ محمد علی نے سیکرٹری محکمہ لوکل گورنمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات کر کے ان کی برطرفی کو روک دیا گیا ہے اور ان کو سروس پر بحال کر دیا گیا ہے۔ جس پر ان گھرانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ راجہ محمد علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد عوام علاقہ کی بلا تفریق خدمت ہے مجھے خوشی ہے کہ ان دس گھرانوں کی کفالت کرنے والوں کو بحال کرایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر رمضان شریف کے مقدس مہینے میں لوگوں کو ریلیف دیا جائے گا سستا رمضان بازار اور رمضان دستر خوان کے انتظامات کی نگرانی کی جارہی ہے اور اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ کیپٹن (ر) بلال ہاشم کی قیادت میں انتظامیہ رمضان کے مقدس مہینے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے گی اور سستے بازار میں معیاری سستی اشیاء4 خوردونوش کے سٹا ل لگائے جائیں گے جن کو باقاعدہ مانیٹر کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: