گرما گرم خبریں

ہاؤسنگ سکیم نمبر1میں نئی سیوریج لائنیں آبادی مکینوں کیلئے وبال جان بن گئی
سلنڈر کی ری فلنگ کے دوران سلنڈر پھٹ جانے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا
بر ما کے مسلما نو ں پر ظلم ا و ر ز یا د تی ا نسا نی حقو ق کی خلا ف و ر ز ی ہے ،سا ئیں شعبا ن فر ید
تھانہ جاتلی کے علاقہ نتھیہ عالم شیر میں دیرینہ رنجش پر ایک شخص قتل
مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک کی صورت حال کو بہتری کی جانب گامزن کردیا ہے،ملک تنویر اسلم سیتھی
گوجرخان کی دھرتی کا قرض ہم نے فرض سمجھ کر ادا کیا، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف
واپڈا اہلکار نے غریب کی جمع پونجی لوٹ لی
ٹکال میں پل اور رجام رابطہ سڑک کے لیئے سروے مکمل کر لیا گیا

سرکار سائیں چٹنی جلالی مرحوم۔۔۔.تحریر ۔طارق نجمی

چک راجگان بستی کو ہر دور میں یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ یہاں کوئ نہ کوئ ایسا ولی موجود رہا ہے کہ جن کی روحانی کرامات اور برکات سے نہ صرف چک راجگان بلکہ قرب و جوار کی آبادیوں کے لوگ بھی مستفیض ہوتے رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی حال ہی میں انتقال فرمانے والے بابا سا ئیں چٹنی جلالی سرکار تھے۔ایک طویل عرصے تک لوگوں نے ان سے فیض حاصل کیا۔ سرکار جب گفتگو کرتے تھے تو عقیدت مندوں کا ایک ہجوم ان کی باتوں کو انتہائ عقیدت اور توجہ سے سنتے تھے۔ان کی ہر بات میں ایک پیغام ہوتا تھا۔ اپنے مخصوص طرزِ گفتگو کی وجہ سے ان کی ہر بات براہِ راست دل میں اترتی تھی۔ راقم کو متعدد بار ان کی صحبت اور محفل میں بیٹھنے کا شرف نصیب ہوا. زندگی کے ہر پہلو پر محیط ان کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا. کسی بھی موضوع پر بات ہو ان کے پاس تازہ ترین معلومات کا ذخیرہ ہوتا تھا۔اپنی محفل میں سب کو بولنے کا موقع دیتے تھے۔اور ان سے اسی موضوع پر سوالات کر کے اپنی دلچسپی اور انہماک کو ظاہر کیا کرتے تھے۔ روحانی قوتوں سے مالا مال ان کی شخصیت انتہائ پر کشش تھی۔ جوانی کے دور میں ہی انتہائ مشکل ترین چِلےً کاٹ کر اور وظائف کر کے انہوں نے بہت کچھ حاصل کر لیا تھا.
ان کے روحانی کرشموں کو ابھی تک لوگ انتہائ عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے عقیدت مندوں کا سلسلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ سرکار کو حکمت میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ اپنے ہاتھ سے بناےُ ان کے نسخے بہت سے مریضوں کے لےُ باعثِ شفا ہوا کرتے تھے۔ پیچیدہ ترین امراض کے حامل ان کے آستانے پر آتے ہی یوں لگتا تھا جیسے ان کو کوئ مرض تھا ہی نہیں۔ہم نے اپنی آنکھوں سےکیُ فالج زدہ مریضوں کو ان کی ایک ہی نگاہِ کرم سے رفتہ رفتہ قدم اٹھاتے اور اپنے قدموں سے واپس جاتے دیکھا ہے۔حکمت کے شعبے کا کام اب ان کے فرزندِ ارجمند صاحبزادہ غلام مجتبےٰ کو منتقل ہوا ہےجو بڑی محنت اور لگن سے اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں گو ان کی نقل و حرکت محدود ہو گئ تھی اس کے باوجود بھی وہ ہر معاملے کی خبر رکھتے تھے۔ عقیدت مندوں کی محفل میں بیٹھتے وقت اکثر ان کی جسمانی کیفیت یکسر بدل جایا کرتی تھی۔وجدان کی سی صورتِ حال پیدا ہو جاتی تھی۔اسی دوران ان کی مبارک زبان سے ہر عقیدت مند کے سوالات (جو وہ صرف سوچ کر ہی آتا تھا اور ابھی بیان نہیں کیے تھے) کے جوابات مل جایا کرتے تھے۔ دورانِ بیماری جس ہسپتال میں بھی گےُ وہاں نہ صرف وہاں کا عملہ بلکہ انچارج ڈاکٹر بھی ان کے معتقد ہو جاتے تھے۔اور پوری توجہ اور عقیدت سے خدمت کرتے تھے۔ زندگی کے آخری لمحات تک ان کے چہرے کا تقدس اور نْورانی کیفیت برقرار تھی۔ ان کی نمازِ جنازہ میں رشتہ داروں اور عقیدت مندوں کے علاوہ قرب و جوار سے ہزاروں لوگ شامل تھے۔
آج کل ان کا مزارِ اقدس زیرِ تعمیر ہے۔شاندار محلِ وقوع پر ایک عالیشان مزار ان کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔چند دن قبل علاقائی ایم این اے وفاقی پارلیمانی سکریٹیری راجہ جاوید اخلاص صاحب تشریف لائے تھے اور انہوں نے تعمیراتی امور کا جائزہ لیا تھا۔
سرکار کے سب سے چھوٹے فرزند صاحبزادہ غلام رضا شاکر صاحب آجکل سجادہ نشین ہیں۔ اپنی پر کششش شخصیت اور ادبی ذوق کی وجہ سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: