گرما گرم خبریں

سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی
شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری

شہاددت حسین اور عالم اسلام

از۔۔۔ صفیہ انور صفی

اسلام میں شہادت حسین کاذکرذہنوں میں سوچ کو پرواز لگائے ہر لمحہ زیست کا سفر طے کر رہا ہے۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اگر میں اس تناظر میں دیکھوں تو اپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ نواسۂ رسول نے جس انداز اپنے نانا کے دین کو بچایا وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ہمارے اسلامی کیلنڈر کے مطابق پہلے ہی مہینے کے پہلے دس دن اسلام کی تاریخ میں زندہ و جاوید مثال ہے۔جب سبط رسول نے نیزے آگے سر نہ جھکایا بلکہ دین کی خاطر سر کٹا کر اسلام کا سچا دعوی دار ہونے کا پختہ یقین دلایا۔
دوستو۔۔۔ہم یکم الحرام سے شہادت حسین کو یاد تو کرتے ہیں مگر ان کی قربانیوں پر غور نہیں کرتے۔
دین اسلام پیغام کی صورت میں رسول پاک کے ہاتھوں ہم تک پہنچا جس میں نسخۂ کیمیا قران پاک ایک مقدس کتاب ہے اور پوری زندگی کے لئے لائحہ عمل ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارادین آج کہاں ٹھرا ہے۔۔۔۔
یکم محرم الحرام سے ہی ہماری اندر کی خرافات۔۔۔ ہمارا فتوری ذہن پروان چڑھنے لگتا ہے۔جس میں فرقہ پرستی عروج پر دکھائی دینے لگتی ہے۔ہمارا اسلام بھائی بھائی کا درس دیتا ہیجہاں بھائی چارے کی عمدہ مثال انصار و مہاجرین کی صورت میں نظر اتی ہے۔مگر مجھے بہت ہی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے یقیناًآپ بھی میری اس بات سے اتفاق کریں کہ فرقہ پرستی۔خود غرضی۔حرص۔لالچ۔دین کی دوری کا مظہر ہے۔دین اسلام میں شہادت حسین ایک عمدہ مثال ہے۔جو دین کی خاطر اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر شہادت کے منصب پر فائز ہوئے اور عالن اسلام میں مسلمانوں کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھا گئے۔میرے نزدیک یقیناًہم مسلمان تو ہیں مگر کیا ہمارے اندر اسلام کی تڑپ پائی جاتی ہے؟؟؟ کیا نیزے پر سر لٹکانے کا حوصلہ ہم میں ہے۔۔۔کہیں نہ کہیں اس کا جواب” ہاں” ہوگا پھر یہ فرقہ پرستی کیوں؟؟؟ عالم اسلام آج جس مقام پر کھڑا ہے اس کی حالت نہایت دگرگوں ہے۔کشمیر 249 برما،فلسطین کے مظالم سب کو دکھائی تو دے رہے ہیں مگر ہماری بے حسی کہ ہم لاشوں کی تصاویر بنانے کے عادی ہو چکے ہیں۔کہاں ہے وہ جذبہ جو شہادت حسین میں جاگزیں تھا؟؟؟کہاں ہے وہ تڑپ کہ جب ایک مسلمان کو تکلیف ہوتی تھی تو درد پورا عالم محسوس کرتا تھا
اہ۔۔۔۔ میں مسلمان ہوں آج کا ترقی یافتہ مسلمان۔جو مشینی دور میں نجانے احساسات اور جزبات کو کہاں چھوڑ ایااوراسلاف کی قدروں کو بھلا بیٹھا ہے۔افسوس!مجھے کیوں دکھائی نھیں دے رہا وہ مسلمان جو درد رکھتا ہو؟؟؟
شہادت حسین کی عمدہ مثال سے سبق سیکھ کر اپنے اتنے فرائض سے سبکدوش ہو رہا ہو؟؟؟ بھائی چارے کی راہ پر چل رہا ہو؟؟؟
حیف صد حیف دل خون کے انسو روتا ہے۔روح تڑپ اٹھتی ہے جب میں عالم میں بے حسی۔۔۔بے بسی دیکھتی ہوں۔کہ آج کا مسلمان
کہاں رواں دواں ہے۔
اگر بحثییت مسلمان ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں تو شاید شرمندگی سے سر نہ اٹھا سکیں کیونکہ ہم نے آنسو تو بہائے مگر وقت کی ٹرین پر سوار قربانیوں کو بھول گئے۔

محبت سے سرشار انسان ہو جا
حقیقت میں سچا مسلمان ہو جا
صفی اس جہاں سے ستم کو مٹاکر
حسینی عقائد کا نگران ہو جا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: