گرما گرم خبریں

کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا
ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی

ضلعی چیئرمین بنانے میں آخر تاخیر کیوں؟

ضلعی چیئرمین بنانے میں آخر تاخیر کیوں؟
ضلع راولپنڈی کے عوام کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا ازالہ آخر کار کون کرے گے،بلدیاتی نظام کو ضلع راولپنڈی میں مفلوج کرنے کے پیچھے کیا سازش رچی کس کو اس کا فائدہ پہنچا اور کس کو نقصان سے ہاتھ دھونا پڑھا اس کی مکمل تفصیل میں کچھ حقائق کے ساتھ بیان اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم پاکستان عزت مآ ب جنا ب شاہد خاقان عباسی صاحب ،چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب تک اور ہماری عدالتی حکام ججز تک عوامی مشکلات سے آگاہ کیا جا سکے ،میں اپنی بات کا رخ اصل حقائق کی طرف موڑتا ہوں جس سے تحصیل گوجرخان سمیت ضلع راولپنڈی کی تمام تحصیلیں متاثر ہو رہی ہیں میں اپنے قا رئین کی توجہ جس طرف مبذول کروانے جارہا ہوں اس میں تنقید کم اور اصلاحاتی پیغام زیادہ پیش کروں گا،بلدیاتی الیکشن کو گزرے قریب دو سال ہو گئے ہیں مگر راولپنڈی ضلع کی ضلعی چیئرمین کی سیٹ تاحال خالی پڑی ہوئی ہے ،اتنے عرصے گزر جانے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوئی اور نہ فی الحال ہوتی نظر آرہی ہے،ضلعی چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے ،دو سال گذرنے کے باوجود ضلع کونسل کی طرف سے ماسوائے پچیس لاکھ کے ایک روپے کی گرانٹ حکومتی چیئرمینوں اور کونسلر ز کو نہ مل پائی اس کی شاید اصل وجہ ضلع کے چیئرمین کی سیٹ خالی ہونا ہے،اس بار ضلعی چیئرمین صرف اور صرف گوجرخان کو دی جانی تھی ،جو کچھ لوگوں کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور اپنی غلط روش سے نہ صرف ضلع کے چیئرمین کی سیٹ کو خالی چھوڑا گیا بلکہ معاملہ عدالت میں پیش کر کے ضلعی چیئرمین کے الیکشن کروانے پر پابندی عائد کروا دی گئی ،ہماری اطلاع کے مطابق ضلعی چیئرمین کی سیٹ کے الیکشن پر پابندی کو بھی ایک سال گزر گیا جس کا تاحال معزز عدالت نے بھی کوئی فیصلہ نہ کیا بلکہ لمبی لمبی تاریخیں ڈال دی گئیں جس کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں پڑھ گیا،اسی دوران حکومتی حالات تبدیل ہوئے اور ضلعی گورنمنٹ کے اربوں روپے صرف اور صرف تحصیل پنڈی کی تمام یونین کونسلوں میں بانٹ کر گوجرخان،کوٹلی ستیاں اور ٹیکسلا کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا،اور ماسوائے راولپنڈی تحصیل کے باقی تحصیلوں کی یونین کونسلوں کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ دی،جس سے پنڈی کے علاوہ تمام یونین کونسلیں دیکھتی رہ گئیں،حلقہ NA-51میں پی پی فور اور پی پی تھری میں ایم این اے راجہ جاوید اخلاص اور ایم پی راجہ شوکت عزیز بھٹی نے اپنے زور بازو پر ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز دیے جسکی وجہ سے تمام یونین کونسلوں میں چیئرمینز اور کونسلر منہ دکھانے کے قابل ہوئے وگرنہ تو ضلع کونسل راولپنڈی کا فنڈ اکیلے اکیلے ایسے ہڑپ کیا گیا جیسے باقی تحصیلوں کی عوام اس ضلع کے باسی ہی نہیں،جو سوتیلی ماں کا سلوک تحصیل گوجرخان کے عوام سے کیا گیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،معزز عدالت میں پڑا کیس حل نہ ہونے کی وجہ سے جو نقصان ہماری تحصیل کو ہوا وہ شاید صدیوں تک پورا نہ ہوسکے مگر فاضل عدالت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اسلام آباد کے ساتھ جڑا راولپنڈی ضلع جس کو اسلام آباد کی ٹون سٹی ہونے کابھی اعزاز حاصل ہے ،مگر اس کا ضلعی نظام مکمل طور پر مفلو ج ،پاکستان کے تمام اظلاع میں ضلعی چیئرمین کی سیٹ مکمل کی جاچکی ہیں مگر انتہائی دکھ اور پریشانی کی بات ہے کہ ضلع راولپنڈی جو سب سے بڑا ضلع ہے اس میں رہنے والے عوام کے ساتھ کیا جانے والا یہ مذاق عوام کو تاریکیوں میں ڈبو رہا ہے،ضرورت اب اس امر کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صاحب اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثا ر خصوصی نوٹس لے کر ہمیں اس اضطراب سے باہر نکالیں اور ضلعی حکومت کی تکمیل کے لیے اپنے احکامات صادر فرمائیں تاکہ بلدیاتی اداروں کو فحال بنایا جا سکے اور عوام کا حق ان کو ان کی دہلیز پر دیا جا سکے۔
تحریر۔کامران قریشی نمائندہ راول پریس کلب مندرہ 0310-9259535

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: