گرما گرم خبریں

ڈاکٹر را جہ سہیل کو تحصیل ہیڈ کوا رٹر ہسپتال کا میڈیکل سپر نٹنڈنٹ تعینات کیا گیا
پاکستان تحریک انصاف عوام کے شعور کو بند کر رہی ہے،راجہ الطاف حسین
گوجرخان چوک میں مال روڈ لاہور کے جلسہ میں شرکت کیلئے استقبالیہ کیمپ لگایا گیا
سانحہ قصوربربریت و سفاکیت کا بدترین واقعہ ہے،شیخ طاہر اشفاق
سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشتگردی ہوئی ہے،خرم پرویز راجہ
الیکشن سر پر ہیں احتجاجی سیاست کا کوئی جواز نہیں،چو ہدری محمد ریا ض
ٹریکٹر ٹرالی پل سے نیچے گر نے پر ایک نو جوان جا ں بحق ہو گیا

عد م بر داشت کا بڑ ھتا ہوا رجحا ن

تحر یر حکیم عبدا لر ؤ ف کیا نی

( تحر یر حکیم عبدا لر ؤ ف کیا نی )
عد م بر داشت ایک ذہنی مر ض ہے ۔ تنگ نظری عدم برداشت کی ما ں ہے ۔ ہم اپنے نظر یا ت اور عقا ئد کا پر چا ر علی الا علا ن چا ہتے ہیں ۔ ہر شخص دوسرے کے عقا ئد و نظر یا ت سے اختلا ف رائے کا حق رکھتا ہے ۔ مگر تذلیل ، ہتک اور بد تمیز ی کا نہیں ۔
بر داشت اور حسن اخلا ق سے معا شرے گل و گلزار ہو تے ہیں ۔ عد م بر داشت اور بد اخلا قی ہما رے رشتوں ، نا طوں ، معا شرتی و خا نگی زند گی تک کو تبا ہ و بر با دکر دیتی ہے ۔
عد م بر داشت کا مر ض تنگ نظری سے جنم لیتا ہے انا اس کی آبیاری کر تی ہے اور اس کا نتیجہ شد ت پسند ی کی صو رت میں معا شرے کے حسن کو بھسم کر کے رکھ دیتا ہے ۔
وسیع سو چ اورکشا دہ دلی کے ما لک لو گو ں کو ایسے لو گ سیکو لر اور ملحد قر ار دیتے ہیں اور خو د اپنے اوپر نظر یا تی کا لیبل لگا کر دوسروں کی زند گیاں جہنم بنا دیتے ہیں ۔
آپ اپنے اردگر د کا مشا ہدہ کریں سیا سی جلسہ ہو یا مذ ہبی ،ہز اروں لا کھو ں لو گو ں کے قا ئد و رہنما سر عام دوسروں کی ہتک کر تے ہیں اور خو د کو صا دق اور کھرا گر دانتے دیکھا ئی دیتے ہیں ۔
آپ کتنے بھی صا دق اور کھر ے کیوں نہ ہوں آپ دوسروں کو کا ذب یا برا کہتے وقت خو د برا ئی کا مجسمہ نظر آتے ہیں۔
اسٹیج پر کھڑے ہو کر دوسروں کو گا لی گلو چ کر نا ۔عدا لتوں اوراداروں کی تضحیک کرنا کسِ معا شر ے کی روش ہے ۔ کیا یہ ہما ری مذہبی تعلیما ت یا تاریخی و رثہ ہیں ؟
کیا ہم ایسا کر تے وقت مصلح یا رہنما کہلو انے کے مستحق ہو سکتے ہیں ؟
ہم اپنے ما ننے اور تقلید کر نے والے حضرات کو کس طر ف لے کر جا رہے ہیں؟ بد زبا نی اور بد کلا می تعلیم یا فتہ اقوا م کا شیو ہ نہیں ہے آجکل سو شل میڈ یا پر اس طو فا ن بد تمیزی کا مظا ہرہ زور و شو ر سے جا ری ہے فیس بک پر کا رکنوں کی طر ف سے سیا سی یا مذ ہبی جما عت کے رہنما کی تصو یر اپ لو ڈ کر تے ہی اس با رے رائے کا اظہا ر شروع ہو جا تا ہے ۔ ہر طرف سے گا لی گلو چ کر دار کشی ایسے الفاظ اور گند گی سے الٹے الفاظ کی بھر ما ر شروع ہو جا تی ہے ۔
اور اس پر بھی بس نہیں کیا جا تا با قا عد ہ طو ر پر گا لی گلو چ بحث کی شکل اختیا ر شروع کر جا تی ہے اور کئی کئی دن اس پر کمنٹس لکھنے کا سلسلہ جا ری رہتا ہے ۔اور آخر میں سیا سی یا مذ ہبی بحث ایک طرف اور ایک دوسرے کی ما ں بہن کو گا لیاں لکھنے کا سلسلہ ایک طرف، اور یہ بحث دھمکیوں پر منتج ہوتی ہے ۔
مو جو د ہ حا لت میں دانا لو گ مذ ہبی اور سیا سی پوسٹ پر کمنٹس کر نے سے گر یزاں نظر آتے ہیں ۔
اگر ایسی پو سٹ پر فقط پسند ید گی کے کمنٹس بھی کر دیے جا ئیں تو بحث کے تسلسل میں اجنبی لو گو ں کی جا نب سے اچھے کمنٹس کر نے پر پو چھ کچھ شروع ہو جا تی ہے کہ آپ نے انہیں اچھا کیو نکر کہا ہے لہذا کسی بھی مذہبی یا سیا سی شخصیت کو اچھا یا برا کہنا ہر دو صو رتو ں میں جُرم ٹھہرا
اب ایک نظر سیا سی و مذ ہبی رہنما ؤ ں کے حا لا ت پر ڈالتے ہیں ۔
اوے ڈاکو ، چو ر ، قا تل بد معا ش ایسے الفاظ تقا ریر میں استعما ل ہو نے کی روایت تحریک انصا ف کے چیئر مین عمران خا ن نے ڈالی اور یہ نا شا ئستہ الفاظ اور انداز گفتگو ہما رے سیاسی کلچر کا حصہ بنتا چلا گیا ۔ ایسی گفتگو کا جواب اگر کسی سیا سی رہنما نے دینے سے گر یز بھی کیا ہے تو ان کے وزراء اور مشیران نے اپنے رہنما ؤں کی ہتک کا بد لہ ضرور لیا ہے ۔
ایسی ہی گفتگو کا تذکرہ ان کے کا رکنا ن کے ہاں بھی ملتا ہے پھر یہ سلسلہ دو قدم مزید آگے بڑ ھتے ہو ئے سیا سی رہنما ؤں کے تضحیک آمیزکارٹون بنا ئے جا تے ہیں ۔ جس میں حجا مت بنا تے ہو ئے انہیں نا ئی اور لو ہے کو ضرب لگا تے ہو ئے لو ہا ر اورگڈ ریے وغیرہ کے روپ میں سو شل میڈ یا پر دکھا یا جا تا ہے ۔
کچھ لو گو ں نے تو تضحیک کی آخری منزل کو بھی چھو لیا انہوں نے ان رہنما ؤں کے چہرے کتے اور بندوں کے دھڑوں پر لگا کر انہیں جا نوروں کی شکل میں چو پا ئے ظا ہر کیا ۔
تفصیلا ت لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دوسروں کو بر ے الفاظ میں پکا رنے اور ان کی تضحیک کر تے ہو ئے خو د کو کس لا ئن میں کھڑا دیکھتے ہیں ؟
دوسروں کو بر ے بر ے نام رکھنا اور انہیں جا نو روں سے بھی بد تر سمجھنے والے دراصل اپنی شنا خت لو گو ں کو متعا رف کر وا رہے ہو تے ہیں کہ ہم بد تہذیب ، غیرشا ئستہ اور گھٹیا ہیں ۔
با زار چلتے کسی شریف آدمی کو گا لی گلو چ کر نے والے کو لو گ بہا دری یاجر ات کا تمغہ نہیں دیتے بلکہ اسے بد معا ش اور بے حیا کہتے ہیں جبکہ بد کلا می کا جواب حسن اخلا ق سے دینے والے کے حو صلے کی داد دیتے ہیں ۔
حضرت عمر فاروقؓ آپؐ کے ساتھ ایک سفر سے واپس آرہے تھے ۔ ایک شخص حضرت عمرؓ کے پا س سے گزارا اور ان سے بد کلا می شروع کر دی آپؐ پا س کھڑے مسکرا رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد حضر ت عمرؓ کاحو صلہ جواب دے گیا انہوں سے اسے بد کلا می کے جواب میں ایسے ہی الفاظ کہے تو آپ ؐنا راضی سے چل پڑے۔ حضر ت عمرؓ نے آپ ؐ کو نا راض پا یا تو بھا گتے ہو ئے دوڑے اور آپؐ سے پو چھا آنخضرتؐ اس شخص نے مجھے اس قد ر بر ابھلا کہا تو آپ ؐ مسکرا تے رہے لیکن جب میں نے جواب دیا آپ ؐنا راض ہو گے ۔
آپ ؐ نے فر ما یا جب و بد کلا می کر رہا تھا تو اس کے ساتھ شیطان کھڑا تھا اور تمھا رے پا س رحمت کا فر شتہ کھڑا تھا جو تمھا رے لئے رحمت اور حفاظت کا طلب گا ر تھا ۔ جب آپؓ نے جواباً ایسا ہی طرز عمل اپنا یا تو فر شتہ غا ئب ہو گیا اور آپ کے ساتھ بھی شیطان کھڑا ہو گیا لہذ ا اس شیطان کی مو جو دگی میں میں وہاں نہیں رک سکتا تھا ۔
آج کل بد اخلا قی کا سلسلہ مشر ف بہ سیا ست ہو نے کے بعد مشر ف بہ مذ ہب بھی ہو رہا ہے گز شتہ دنوں فیض آباد میں نا مو س رسالت ؐ کی خا طر مذ ہبی جما عت کے دھر نے میں خا دم حسین رضو ی نا می مو لوی نے سر عام گا لیاں دیں یہا ں تک کے عبدالستا ر اید ھی کو نا جا ئز بچوں کی پر ورش کر نے والا کہا گیا ، ججز کو گا لیاں دیں اپنے ہی مکتبہ فکر کے عالم دین کو پا دری اور کیا کیا نہ کہا گیا اور نئی نئی گا لیاں ایجا د کر کے بخشی گئیں ۔ اس کے بعد مو لو ی صا حب کی لُغت اختتام پذیرہو گی ورنہ وہ مزید صلواتیں سنا نے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔
ان کی تقلید میں وہاں مو جود دیگر مو لو یوں نے بھی مروج سینہ بہ سینہ لغت سے اظہا ر تبصرہ کا سلسلہ جا ری رکھا ۔
آپر یشن کے مو قع پر نامو س رسالت ﷺکے جا نثا روں نے میڈ یا پر ڈنڈے بر سا ئے ،ان کے کیمر ے تو ڑے اپنی ہی املا ک کو نقصا ن پہنچا یا ۔ اپنے ہی ملک کے سب سے خو بصو رت میٹرو سٹیشن کے شیشے تو ڑے ،سٹریٹ لا ئٹس تو ڑیں اور سب کچھ نو چ ڈالا یہ سب دیکھ کر گمان گز رتا ہے کہ ڈارون کا نظریہ حقیقت کا آئینہ ہے ۔ شا ید انسان بند ر کی ہی اولا د ہو ورنہ انسا نوں کی نسل میں ایسا نہیں ہو نا چا ہیے ۔ کچھ دن پہلے ایک دوست نے سو شل میڈ یا پر ایک پو سٹ شئیر کی ۔خبر دار ۔ شیزان قادیا نیوں کی ہے اور پیپسی یہو دیوں کی ہے اور با زار میں ملا وٹ شدہ اشیا ء اور زہر یلے مصا لحے سب مسلمانوں کے ہیں ہو شر باپو سٹ تھی جسے پڑھ کر میر ے رو نگٹھے کھڑے ہو گئے ۔
آج کے پر فتن دور میں شر فا ء اور تہذیب یا فتہ لو گ سیا سی اور مذہبی گفتگو سے اتنا ہی پر ہیز کر تے ہیں جتنا ممنو عہ مذہبی احکا ما ت میں بر تنا چا ہیے اور ان لو گو ں کو داد دینی چا ہیے جو حسن اخلاق کا دامن نہیں چھو ڑتے ان میں پا کستان عوامی تحریک کے رہنما طا ہر القا دری کو دیکھ لیں وہ جسٹس با قر شا ہ کی رپو رٹ میں واضع نشا ندہی کے با و جو د رانا ثنا ء اللہ اور نواز شر یف کو احترام کے الفاظ سے پکا رتے ہیں انہیں نواز شریف صاحب اور رانا ثنا ء اللہ صا حب کہہ کر پکا رتے ہیں ، مجھے طا ہر القا دری کے نظر یا ت اور مشن سے کئی اختلا فا ت ہیں میں ان کی تحریک کا ہر گز حا می نہیں ہوں۔ مگر ان کا حسن اخلاق شا ئستگی و تہذیبی رویہ قا بل داد ہے بلا شبہ ایک تہذ یب یا فتہ یا مذہبی شخص حسن اخلا ق کا پیکر ہو نا چا ہیے ۔
مذ ہبی انسان زیا دہ نرم ، شا ئستہ اور حسن اخلا ق کا پیکر ہو تا ہے کیو نکہ وہ خدا کو عام انسان سے زیا دہ اور دل کی گہرائیوں سے ما نتا ہے
اور اس کے اند ر خدا کی مخلو ق کے لیے نر م گو شہ اور محبت کا جذ بہ مو جو د ہو تا ہے ۔
دنیا دارشخص کے اند ر نر م دلی اور محبت کا جذ بہ کم ہو تا ہے ۔مذ ہبی انسان اپنے اعمال کی با ز پر س کے عقیدے کے با عث اپنے اعما ل میں خلو ص اور پا گیز گی لا نے کا خواں ہو تا ہے ۔
مگر جد ید دور میں مذ ہبی انسان متکبّر ہو چکا ہے اور وہ اپنے عقیدت کی شدت پر راسخ ہو چکا ہے اور اس عقیدے کو وہ پو ری دنیا کے لیے ضروری خیال کر تا ہے یہی چیز تبا ہی اور بر با دی کا ذریعہ ہے اسلا م نے میا نہ روی اورا عتدال کا رستا اپنا نے کا درس دیا ہے حسنِ اخلاق اور خند ہ پیشا نی سے دوسروں کو بر داشت کا جذبہ دنیا کے حسن میں بے پنا ہ اضا فے اور خدا کی رضا و خو شنو دی کا مو جب بن سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: