گرما گرم خبریں

نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری
سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان

عوامی مسلم لیگ اور عوامی لیگ 

تحریر محمد یعقوب شیخ پور
درج بالا دونوں سیاسی پارٹیوں کا سربراہان کا تعلق شیخ فیملی سے ہے ان میں سے ایک تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور دوسرے کا راولپنڈی سے ہے ان پارٹیوں کے سربراہان پر بحث سے پہلے پاکستان کے موجودہ حالات پرمختصربات کے بعد ذکر کروں گا، سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نا اہلی کے بعد ایک دفعہ پھر مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہو گئے ہیں سیاسی ہوا گرم سرد ہوتی رہتی ہے لیکن ملکی مفادات کو ترجیح دینا حب الوطنی کہلاتا ہے جو دور دور تک نظر نہیں آ رہی ہے موجودہ سیاسی حالات پاکستان کے لئے اور پاکستانی عوام کے لئے درد سر بن گئے ہیں ایک منتخب وزیر اعظم کی حکومت کو سازش کے تحت ہٹا دیا گیا ، عدلیہ اور مسلح افواج پاکستانی عوام کی جان ہیں ان حالات میں ہر پاکستانی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے عمرانی ٹولہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے قومی الیکشن بھی ہونے والے ہیں عوام نے فیصلہ کرنا ہے اس فیصلے کا حترام کرنا سب پارٹیوں کا فرض ہے اب آتے ہیں درج بالا دونوں پارٹیوں کے سربراہان کا تقابلی جائزہ لیا لیتے ہیں اصل میں ان دونوں میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہے ، شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان میں تنظیم بنا کر مشرقی پاکستان میں جلاؤ گھراؤ کی تحریک چلائی اور مسلح پاکستانی افواج پر حملے کروائے ہندوستان سے مل کر متحدہ پاکستان کو سازش کے تحت دولخت کیااس نے جو کیا آج عوام نے اسے معاف نہیں کیا ،دوسرا شیخ رشیدکاپتہ نہیں شیخ عبداللہ کی فیملی سے ہے یا شیخ مجیب کا رشتہ دار ہے وہی کردار ادا کر رہا ہے ،عمران نیازی کا دھرنا ہو یا شیخ القرآن کنیڈین شہری طاہر القادری کے لانگ مارچ اور تحریکیں سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اشتعال انگیز تقریریں ،پرانے بوسیدہ گھسی پٹی سیاسی چالبازیاں اور انداز اور نازیبا الفاظ کا ستعمال اچھل اچھل کر جذباتی تقاریر کرنا جلاؤ گھراؤ کی باتیں کرنا ان جیسے ہی خاندان کا پتہ دیتے ہیں جن سے حب الوطنی کی بجائے وطن دشمنی ٹپکتی ہو ،اسلام آباد کے دھرنے ہوں یا مال روڈ کے دھرنے بھاگ بھاگ کر شرکت کرتا ہے اور مرو یا مارو پر اکساتا ہے پرویز مشرف کا یہ فرنٹ مین اور اب اوپننگ بیٹسمین امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ دھرنوں اور غیر قانونی تحریکوں کا ماسٹر مائنڈ ہے ،چین کے دورہ پاکستان سے قبل 2014کا پلان بھی اسی کا تھا ،سی پیک منصوبے کی تاخیر کا باعث یہ شخص ہے ،پاک فوج کو ستو پی کر سونے کا طعنہ بھی یہی شخص دیتا رہا ہے فوج اور عدلیہ کا ناکام ترجمان بننے کی ناکام کوششیں کرتا رہا ہے ، ،جعلی نجومیوں کی طرح بونگیاں مار نے کو اپنی پشین گوئیاں کر کے اپنے آپ کو کسی نجومی کی اولاد ظاہر کرتا رہا ہے ،منتخب جمہوری حکومتوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر سازشیں کرتا رہا ہے،معزز ججوں کے بارے میں کہتا رہا ہے کہ انہوں نے شریف فیملی کے اربوں روپوں کو ٹھکرا دیا ،سوال یہ ہے کہ اس ناہنجار کو کس جج نے بتایا تھا کہ شریف فیملی نے رشوت کی پیشکش کی ہے ،اس کے خلاف امن و امان بحال کرنے والے ادارے ، اور ایماندار آزادعدلیہ کیوں چپ ہے ؟وہ از خود نوٹس کیوں نہیں لیتے؟اس شیخی بگھار کو کس کی آ شیر باد حاصل ہے ،میں ذاتی طور نجی ٹی وی چینلز کے مالکان اور پروگرام ڈائریکٹرزسے بھی حیران ہوں کہ اپنی ریٹنگ کے لئے ایک ایسے شخص کو دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی اجازت کیونکر دیتے ہیں ،جھوٹے الزامات دھڑلے سے لگاتا ہے اسے ٹاک شوز مین کسی کے ساتھ بٹھائیں تو اسے بھی آٹے کا بھاؤ کا معلوم ہو ،بعض چینلز کے نام نہاد تجزیہ نگار اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں انہیں بھی احساس ہونا چاہئے کہ یہ مسئلہ نواز شریف یا مسلم لیگ کا نہیں ملک و قوم کا ہے اگر انہیں اقتدار سونپ دیا جائے تو وہ کونسا آسمان سر پر اٹھائیں گے 20اگست2017کوبلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن سنیٹرسردار محمد یعقوب خٓن ناصر کے بارے میں بھی جھوٹے الزامات لگائے اور کہا کہ سردار صاحب کو سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے کرپشن کے الزام میں رلوے کی وزارت سے برطرف کیا تھا یہ جھوٹا اور بد نیت شخص بھی ریلوے کا وزیر رہا ہے اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ سردار صاحب 1996میں ریلوے کے وزیر تھے جبکہ محمد خٓن جونیجو 1988سے پہلے ہی وزارت عظمی سے معزول کر دیا تھا اس عادی جھوٹے شخص کے اس بیان پر حیرت نہیں کیوں کہ عوام جانتے ہیں کہ یہ اس نے بڑی بونگی ماری تھی ، حیرت اس بات پر ہے کہ اس وقت وہاں بیٹھے صحافیوں نے بھی کچھ نہ کہا تھا ، ،کیااس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اسوقت واہاں بیٹھے صحافی حضرات کو بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ جونیجو صاحب کی حکومت کب سے کب تک تھی اور موصوف نے جونیجو کی حکومت 1996میں بنا دی اور سردار صاحب کو ریلوے کا وزیر بنا دیا اور پھر کرپشن کروا کے برطرف بھی کروا دیااب عوام با شعور ہیں اور تاریخ سے واقف ہے انہیں ریکارڈ یا دہے ، مجید نظامی ،عبدالقادر حسن ، خلیل الرحمان جیسے صحافی کمال کی یاداشت اور اپنے پروگرامز پر عبور رکھتے تھے ،عوام کو یاد ہے جیکب آباد کے اڈے امریکیوں کو کس نے دیئے ؟ کس نے امریکہ کی ایک کال پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹااور اس میں کس نے کیا کردار ادا کیا ؟ اسی تسلسل میں آج ترمپ نے دھمکی دے دی جو ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے مو جودہ حکومت کے خلاف ان کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ،،موکودہ حکومت پاکستان اور مسلح افواج پاکستاناور شیخ رشید کے دور حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت امریکیوں کا ہر مطالبہ تھالی میں رکھ کر پیش کیا جاتا تھا جبکہ اب ڈومور کے مطالبے کو جوتی کی نوک پر بھی نہیں رکھا گیا،ایران اور شمالی کوریا جب آنکھیں نکالتا ہے تو اریکہ بیادر بھیگی بلی بن جاتا ہے ،بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ عزت، ذلت ، زندگی اور موت اللہ ہی کی جانب سے ہے ہم نے پچاس ہزار سے زائد کی قربانیاں پیش کھربوں کا نقصان کیا آج بھی دہشت گردی کیخلاف بر سر پیکار ہیں ،اگر کوئی برا وقت آجائے تو بین الاقوامی سیاسی اور سفارتی سطح پر موثر جواب دینے کی ضرورت ہے ابھی حالیہ جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطاب سے پاکستان کے امیج میں بہتری آئی دنیا کو ایک مضبوط پیغام ملا چودھراہٹ اور ہٹ دھرمی سے بات کرنے والوں کو منہ توڑ جواب ملے گا تو انہیں دن میں تارے نظر آئیں گے ، اگر پاکستان افغانستان جانے والے کنٹینرز کو بند کر دے تو وہی امریکی تلوے چاٹے گا ویسے بھی شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندسی سے بہتر ہے

One comment on “عوامی مسلم لیگ اور عوامی لیگ 

  1. Idrees Zafran says:

    lafay kaam kartay hain………..nazar a ra hey……..writter sahib
    kalam ko ghoor say parain …confuse hey lakinay wala….pr keya karay majboor hey bichara…………attay ka pahoo b tu kamana hey……..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: