گرما گرم خبریں

نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی

مجھے کیوں ہرایا؟

تحریر عقیل خان
aqeelkhancolumnist@gmail.com
سیاست کا رنگ بھی عجیب ہے ۔ جب تک ایک دوسرے پر تنقید یا کیچڑ نہ اچھالاان لوگوں کو سکون نہیں ملتا۔ اس کھیل میںآج کے دوست دشمن بن جاتے ہیں اورکل کے دشمن دوست بن جاتے ہیں۔مثلاً کل تک جوشخص شیخ رشید کوچپڑاسی نہیں رکھنا پسند نہیں کرتا آج وہ یک جان دو قالب بنے ہوئے ہیں۔ ایسی مثال نوازشریف اور زرداری کی بھی سامنے ہے جنہوں نے اپنے مفاد کے لیے ایک دوسرے کی کرسی کو سہار ادیا۔ سیاست میں سیاستدانوں کے نظریات بہت کم ہوتے ہے صرف وہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں 2013کے الیکشن سے جو جنگ چھڑی تھی وہ آج تک جاری ہے۔ چند ماہ بعد دوبارہ نئے الیکشن ہونے والے ہیں مگر ان کی روایتی جنگ ابھی تک جاری ہے۔ اس جنگ میں تحریک انصاف نے ن لیگ پرکئی بارچڑھائی کی ۔دھرنے دیے ، ہر ہفتے جلسہ کیا، کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب عمران خان نے نوازشریف کوہدف تنقید نہ بنایا ہو۔
عمران خان نے 2013کے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے بہت سے الزامات لگائے جس کے جواب میں عدلیہ کی طرف سے کامیاب امیدوارنااہل بھی ہوئے مگر جب دوبارہ الیکشن ہوا توزیادہ تر جیت انہی کا مقدربنی جو پہلے جیتے تھے۔ عمران خان کو دیگر سیاسی جماعتوں کے تعاون سے صرف ایک بڑی کامیابی ملی کہ انہوں نے پانامہ کا شور مچا کر اقامہ پر نوازشریف کو نااہل قرار دلوادیا۔نوازشریف کی نااہلی کے بعد اس خالی سیٹ پر ویسے تو بہت سے امیدوار کھڑے ہوئے مگر اصل مقابلہ ن اور جنون میں تھا ۔ دونوں پارٹیوں کی طرف سے خواتین آمنے سامنے آئیں جن کے بارے میں سوشل میڈیا پر ہر روز کوئی نہیں چٹخلا ہوتا تھا ،کوئی کہتا ڈاکٹر اور مریض کا مقابلہ ہے تو کوئی بولتاحکومتی مشینری اور پی ٹی آئی کامقابلہ ہے۔ہر امیدوار نے اپنا اپنا زور لگایا مگراصل مقابلہ ن اور جنون کا تھا ۔ این اے 120کے نتائج کے مطابق یہ سیٹ ایک بار پھر ن لیگ کی باندی ثابت ہوئی۔
حلقہ این اے 120 میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 321786 ہے۔ حلقہ میں کاسٹ ہونے والے ووٹوں کی تعداد 126860 ہے جبکہ 1731ووٹ مسترد کیئے گئے۔ مردوں نے 80944 ووٹ جبکہ خواتین نے 45916 ووٹ کاسٹ کئے۔ ضمنی الیکشن میں مجموعی طور پر 39.42 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی بیگم کلثوم نواز 61745ووٹ لے کے پہلے نمبر آئیں۔پاکستان تحریک انصاف کی یاسمین راشد 47099 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔ مسلم لیگ ن کواپنے قریبی حریف پر 14646 ووٹ کی برتری حاصل ہے۔ آزاد امیدوار شیخ اظہر حسین نے 7130 ، ملی مسلم لیگ کے امیدوار نے 5822، پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 1414 جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار نے 592 ووٹ حاصل کیے۔
اس حلقے میں مجموعی طور پر 44 امیدوار میدان میں تھے ۔ پیپلزپارٹی سمیت کل 12 سیاسی جماعتوں نے اس انتخاب میں امیدوار میدان میں اتارے ہیں جب کہ 32 امیدوار آزاد حیثیت میں انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔حلقے کے تمام 220 پولنگ اسٹیشنز کا حساس قرار دیتے ہوئے وہاں فوج کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔چند ایک مقامات پر حریف امیدواروں کے کارکنوں کے آمنے سامنے آنے اور ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کے علاوہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ ووٹنگ کے شروع سے اختتام تک سوائے پیپلز پارٹی کے ہر کوئی الیکشن کی شفافیت کی باتیں کررہا تھا۔ یہاں تک کہ ابتدائی نتائج آنا شروع ہوئے تو جنون کی اکثریت تھی اور ان کی امیدوار پرامید تھی کہ وہ اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔
این اے 120کا الیکشن ختم ہوا۔ وہ ووٹر زاور سپورٹر جن کا کھانا پینا بن رہا تھا وہ بھی ختم ہوا۔وہ تجزیہ نگار، صحافی اور کالمسٹ جو اپنی اپنی پارٹی کے گن گا رہے تھے ان کا کام ختم ہوا۔پھر دوبارہ سے زندگی وہیں سے شروع ہوگی جہاں پر وقفہ آیا تھا۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اس الیکشن میں جیتا کون؟جس کو نااہل قرار دیا گیا اسی پارٹی کوعوام نے اپنے اہل سمجھ لیا۔کیا لاہور ن لیگ کا ہے یا نواز شریف اب بھی عوام میں اسی طرح اپنی مقبولیت رکھتے ہیں؟
وہ سیاستدان جو کہہ رہے تھے کہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی؟ نااہل نوازشریف کی پارٹی کو ووٹ نہیں ملے گا، کرپٹ لوگوں کا وقت ختم ہوگیا، نوازشریف کا ساراخاندان کرپشن میں ملوث ہے۔ کسی نے کہا کہ میاں برداران کے لیے اڈیالہ جیل تیار ہے تو کسی نے کہا کہ ن لیگ اب نااہل لیگ بن گئی ہے۔جتنے منہ اتنی بات کے مترداف ہر کوئی اپنا اپنا تبصرہ جھاڑ رہا تھا۔ اپنا اپنا فلسفہ سنا رہا تھا۔ اگر ان سب کی بات مان لی جائے تو کیا اس حلقے کے ساٹھ ہزار سے زائد لوگ جنہوں نے ن لیگ کو ووٹ دیے اب ان کو کیا سمجھا جائے؟
سیاست کے بھی نرالے رنگ ہیں۔ایک طرف جمہوریت کا راگ الاپا جارہا ہے تو دوسری طرف جمہوریت کا گلہ بھی گھونٹا جارہا ہے۔ الیکشن میں ہارنے والااس الیکشن کو سلیکشن بنا دیتا ہے۔جنرل الیکشن ہو یا ضمنی اکثر ہم نے فوج کی نگرانی میں ہوتے دیکھے ہیں مگر پھر بھی ان میں دھاندلی کا رونا رویا جاتا ہے۔ یہی نہیں جولوگ دھاندلی کو رورہے ہوتے ہیں وہ لوگ نہ صرف ان ووٹرز کی توہین کرتے ہیں جنہوں نے اس امیدوار کو جتوایا بلکہ اگر عدلیہ میں کیس جائے اور وہ فیصلہ ان کے حق میں نہ آئے تو وہ اس پر بھی تنقید سے باز نہیں آتے۔ ابھی ن لیگ کا پانامہ کیس میں جے آئی ٹی میں بننے پر مٹھائیاں بانٹنا سب کو یاد ہوگا مگر جب فیصلہ مخالفت میں آیا تو اس فیصلے پر اعتراض شروع ہوگئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری سیاستدانوں کی سیاست عوام کی بجائے اپنی ذاتی مفاد کے لیے ہوتی ہے؟ جب جس کا دل چاہیے اپنے حلقے کی عوام سے مشورے کے بغیر جس مرضی پارٹی کو جوائن کرلیں اور جس کو چاہیں چھوڑ دیں۔کیا ان کی نظر میں عوام کی بس اتنی اہمیت ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان لوگوں کو عوام کی ترجیحات کو صفحہ اول پر رکھیں ،عوام کی پریشانیوں کو اپنی پریشانی سمجھیں مگر یہاں تو ہر کام الٹ ہوتا ہے۔ عوام ذلیل و خوار ہوتی اور سیاستدان سکون سے سوئے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: