گرما گرم خبریں

سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی
شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی

نشے سے انکار زندگی سے پیار

نشے سے انکار زندگی سے پیار
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی چھبیس جون کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا بڑا مقصد لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے کہ اس کا استعمال کتنا نقصان دہ اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اس دن کی مناسبت سے اینٹی نارکوٹیکس فورس سال بھر میں پکڑی جانے والی منشیات کو جلا کر یہ پیغام بھی دیتی ہیں کہ نشے سے :انکار اور زندگی سے پیار کرنا سیکھو: پاکستان میں منشیات کا استعمال افغانستان میں روس کی مداخلت سے شروع ہوتا ہے اوراسی کی دھائی کے بعد پاکستان میں افغانستان کے توسط سے سب سے بڑی برائی جو بہت تیزی سے پھیلی وہ منشیات تھی یہ ایک ایسا ناسور تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اتنی تیزی سے ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ ہم چاہتے ہوئے بھی اس کو ختم نہ کر سکے منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔اس میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو اپنی ڈیپریشن کو ختم یا کم کرنے کے لئے جبکہ نوجوانوں میں اسے بطور فیشن اور بطور ایڈوانچر بھی اپنایا جاتا ہے جو بعد ازاں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ آتا کہاں سے ہے؟ اور کس طرح اس کو مقررہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے؟ کیا اس کی خبر انسداد منشیات کے اداروں کو نہیں ہوتی ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات برحال ڈھونڈنے ہیں۔ اس کے بیوپاری مختلف طریقوں سے اپنے گاہکوں کو تیار کرتے ہیں مثال کے طور پر سکول ،کالجز اور اب تو اعلیٰ تعلیمی اداروں مثلا یونیورسٹیز میں ان لوگوں کے خاص کارندے ہوتے ہیں جو پہلے پہل تو یہ نشہ ان لوگوں کو فری میں مہیا کرتے ہیں اور جب یہ نوجوان پوری طرح اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں تو ان سے منہ مانگے دام لیے جاتے ہیں اوربعض اوقات ان سے ایسے ایسے کام لئے جاتے ہیں جو ملک دشمن عناصر کی فہرست میں آتے ہیں ایسے ہی کئی مثالیں ہماری سامنے میڈیا میں آئے دن رپورٹ ہوتی رہتی ہیں نوجوانوں کو نشہ کا عادی بنانے کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں اس ضمن میں ڈانس پارٹیوں کو ایک اہم ذریعہ بنایا جاتا ہے ملک کے پوش علاقوں میں نہایت عمدہ رہائشی عمارتوں کے اندر ان کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں صرف جوڑے شرکت کر تے ہیں ان ڈانس پارٹیوں میں مہنگی ماڈلز اور رقاصاؤں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے شرکاء کو ساری رات ڈانس کرنے کے لیے ایک گولی کھلائی جاتی ہے جس کی قیمت ہزاروں روپوں ہوتی ہے جس کا مقصد ان نوجوانوں کو پوری رات تروتازہ اور چاق و چوبند رکھنا ہوتا ہے تاہم یہ گولی دوران خون تیز کر دیتی ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے ا س کے علاوہ اور کئی قسم کی خطرناک بیماریاں جو عمو مااس وقت ظاہر نہیں ہوتی لیکن بعد میں وہ انسانی جان کے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہیں ان پارٹیوں میں ڈانس کرنے والی اداکارائیں اور ماڈلز کوکین کا نشہ بھی کرتی ہیں جو کہ پوش علاقوں میں بطور فیشن استعمال کی جاتی ہیں اور ان استعمال کرنے والوں میں اپر کلاس کے وہ نوجوان شامل ہوتے ہیں جو نشے کو بطور ایڈ وانچر استعمال کرتے ہیں اس خطرناک قسم کے نشے کی وجہ سے بہت سی ماڈلز اور اداکارائیں موت کا شکار بھی ہوتی رہی ہیں جو کہ ریکارڈ پر ہیں اس کے علاوہ بڑے گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں کوکین اور دیگر نشہ بھی کرتے ہیں جو انتہائی مہنگے اور نقصان دہ ہیں ان لڑکے لڑکیوں کے لیے ان کی قیمت ادا کرنا مشکل نہیں ہوتا لیکن ان کے برے اثرات ان کی صحت کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں نشہ کی لت پوری کرنے کے لیے بعض لڑکیاں اس کی قیمت ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں تو وہ نشہ خریدنے کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی اداکاری کرنے والی بہت سی فنکارائیں ڈانس پارٹیوں میں جا کر کوکین کی عادی ہو جاتی ہیں اور اپنی بعد کی تمام زندگی اسی نشے کے نام کر جاتی ہیں نشہ کرنے والے بعض ادویات کو بھی بطور نشہ استعمال کرتے ہیں نشے کے عادی افراد کی اکثریت ان نوجوانوں میں سے ہوتی ہے جو انتہائی حساس یا ذہین ہوتے ہیں یہ نوجوان زمینی حقائق سے فرار کی راہ تلاش کرنے کے لیے نشہ کے غار میں پناہ لیتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے کے آسودہ حال طبقات اور خاندانوں کے چشم و چراغ اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ کوکین، ہیروئن ، شراب، چرس اور مہنگی نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں نشہ کا عادی اعصابی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے شہروں، دور افتادہ دیہات تک نشہ ایک وبا کی طرح پھیل چکا ہے نشے کا عادی ہر فرد بنیادی طور پر مریض ہوتا ہے جو ہمیشہ ہمدردی اور توجہ کا مستحق ہوتا ہے توجہ اور ہمدردی سے ہی انہیں اس دلدل سے نکالا جا سکتا ہے خاندان، معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نشہ کے عادی افراد کی بحالی کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کریں اس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ منشیات فروشی کے تمام اڈوں اور ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے اور ہمسایہ ملک چین اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے تعریزی قوانین کی طرح منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔ گزشتہ تین چار دنوں سے مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر کئی ایسے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو منشیات بیرون ملک میں سمگل کرنے کی کوشش میں تھے یہ بہت بڑی بات ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے لوگوں کو گرفت میں لایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہماری قومی ائیر لائن میں تسلسل کے ساتھ ایسی کاروائیاں ہوتی رہی ہیں کہ خود ہمارے ادارے حیران ہیں کہ ان جہازوں میں یہ منشیات کس نے چھپائی تھیں برحال ہمارے قومی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اگر معاشرے کو اس ناسور سے پا ک کرنا ہے تو پھر تمام کام نیک دلی اور غیر جانبداری سے کرنا ہو گا اس میں کسی دباؤ لالچ یا خوف کو بلاطاق رکھتے ہوئے اس کے لئے بھر پور کام کرنے کی اشد ضرورت ہے اس دن کومنانے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف دو چار تقریبات کر لی جائیں ایک دو، واک اور کام ختم یہ کام اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک ملک میں ایک بھی نشے کا فرد موجود ہے
اگر بات کی جائے محکمہ انسداد منشیات تو اس کی کارگردگی اب پہلے سے کہیں بہتر ہے ہر سال اس کی کارکردگی میں اآفہ ہو را ہے اور کئی بڑے سمگلروں پر ہاتھ ڈال کر انھیں قانون کی گرفت میں لایا جا چکا ہے ساتھ ساتھ ملک میں کئی بری اور تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں جن کی بدولت اس لعنت سے کسی حد تک چھٹکارا مل سکا ہے لیکن اس کام کو مذید تیز تر کرنے کی ضرورت باقی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ طاہر محمود
03005242865

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: