گرما گرم خبریں

چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد

نفسیاتی جنگ

“” تحریر : عزیز الرحمن (ہیرو)

0344-5476008
seven8six008@gmail.com
صدیوں پہلے جب دو یا دو سے زائد قوتیں آپس میں ٹکراتی یا جنگ کرتی تو ان کے ہتھیار صرف تیر ، تلوار، خنجر،نیزہ یا تیز دھار آلات تھے جو صرف افرادی قوت اور سالاروں کی موجودگی میں بازو طاقت اور دلیری سے لڑی جاتی تھی جو کہ صرف مخصوص ریاستوں اور بادشاہت تک محدود ہوتی تھی لیکن برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کے قبضہ اور جنگ عظیم دوئم کے فوراً بعد ہی امریکہ اور یورپین ممالک نے نفسیاتی جنگ کی اصلاح سے Psychological War (OCPW) جیسے بے شمار ادارے اور ایجنسیاں قائم کی جن پر اربوں ڈالرز خرچ کئے جاتے ہیں اور ان اداروں کو فوجی مشقوں اور ہتھیاروں سے زیادہ ترجیحات دی جاتی ہیں تاکہ وہ ساری دنیا پر اپنی حکومت اور سکہ جما سکیں بعض لوگوں کے خیال میں نفسیاتی جنگ کی اصلاح صرف فوجی اور جنگی مقاصد تک محدود ہے یا ایسا پروپیگنڈہ جس کا ہدف صرف مخصوص افراد یا افواج ہے لیکن علم صحافت کی تحقیق اور اخذ شدہ نتائج سے نفسیاتی جنگ کے دائرہ کار کو چیدہ چیدہ اور لفظ بلفظ مختلف نصابی کتب و نصاب میں اندراج کروایا گیا جس کو موجودہ سسٹم اور نفسیاتی جنگ میں پھنسے ہوئے ماحول نے ان دیکھا ، نا سمجھا کر دیا ہے۔
چونکہ اب دور خطرناک ایٹمی ہتھیار ، کیمیکل گیسز اور وائرس میں بٹا ہوا ہے جس سے بڑی طاقتیں اس ناسور کا سہارا لینے کی بجائے نفسیاتی جنگ کے ذریعے بالخصوص عالم اسلام پر غلبہ پانے میں کوشاں ہیں جس کی موجودہ مثالیں شام ، عراق ، فلسطین ، افغانستان ، یمن اور سعودی عرب جیسے ممالک ہیں۔ اس وقت موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ جیسی طاقتیں پاکستان کو ہماری ایٹمی ، فوجی اور عوامی طاقت سے مقابلہ کرنے کی بجائے پروپیگنڈہ ، افواہیں اور نفسیاتی کیمیاوی عمل کے ذریعے تباہ کرنے میں مکمل طور پر سخت جدو جہد کر رہے ہیں جو کہ پاکستان میں مختلف ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع سے ہمارے سسٹم اور معاشرے کو تباہ کرنے میں تلے ہوئے ہیں صرف درج بالا تحریر سمجھنے کیلئے ناکافی ہے غور اس بات پر کرنا ہے کہ اس وقت پاکستان کو کوکھلا کرنے کیلئے چار قسم کے ایسے گروہ موجود ہیں جو پاکستان کو جڑوں سے اکھاڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو امریکن ، بھارتی اور یہودی پالیسی کے تحت جو حضرت عیسیؑ کے دور میں بھی رومی فوج اور یہودی تکبر کی وجہ سے اپنا چکے ہیں۔ جس سے پاکستانی عوام نہ صرف نفسا نفسی کا شکار ہے بلکہ معاشی طور پر بھی ترقی یافتہ ہونے کی بجائے ابھی تک ترقی پذیر ہی ہے پاکستان کے دشمنوں نے بالترتیب ایک دو تین چار گروہ استعمال کئے لیکن ناکام رہے اب چار گروہ مل کر ہماے ملک کی سا لمیت کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں ۔
پہلا گروہ سیاسی ، فوجی اور معاشی وسائل کو استعمال کرنے کی بجائے پروپیگنڈہ اور افواہ کا سہارا لے کر سیاسی اور معاشی اور عالمی سطح پر کمزور کر رہا ہے جیسا کہ موجودہ خارجی حالات تجارتی منصوبہ ” سی پیک” میں رکاوٹیں معاشی نقصان درآمدات میں اضافہ برآمدات میں کمی افراط زر مہنگائی اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی واضح مثالیں ہیں ۔
دوسرا گروہ خوفزدہ کرنے کی ترغیب مثلاً دہشت گردی ، جاسوسی تخریب کاری اور قتل و غارت جیسے پروپیگنڈہ کے ذریعے عوامی رویہ ، حوصلوں اور معیشت کو مفلوج بنا رہا ہے تاکہ عوام خوفزدہ ہوکر تجارت ، ترقی، جہالت و بھوک افلاس کا شکار رہے اور ترقی کی طرف نہ جا سکے جس کی مثال پچھلے 20 سالوں میں دھماکوں ، اسٹریٹ کرائم اور قانون کی موجودگی میں لا قانونی نظا م ہے ۔
تیسرا گروہ ایسا خطرناک گروہ ہے جو Emotional Blackmailاور نفسیاتی کیمیاوی عمل کے ذریعے Hypnosis یعنی تنویم کے عمل کے ذریعے عوام کے Brain Wash کرکے اقدار اور اداروں کو تباہ کررہا ہے مثلاً سوشل میڈیا ابلاغ انٹرنیٹ جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال ، سینما گھر ، گندہ فیشن بے مقصد احتجاج دھرنے ، مذہبی اختلافات ، ناموس رسالت اور مسلک کی نفسیاتی جنگ کے ذریعے آپس میں لڑا کر اپنی طرف مائل کر رہاہے ۔ جس سے ہماری عوام ذہنی طور پر مفلوج اور دشمن کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو رہی ہے جس سے ہم نہ صرف معاشی طور پر تباہ ہورہے ہیں بلکہ بے شمار ذہنی بیماریوں ، سستی اور بے راہ روی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ۔
چوتھا گروہ ایسا جو اب ان دنوں ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت پاکستان کے خلاف عوام کو اور افواج کو نفسیاتی طور پر گیرے میں لینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جس میں ٹرمپ حکومت اور بھارت چاہتا ہے کہ عراق، فلسطین، شام اور افغانستان کی طرح پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزام لگا کر نیم فوجی کاروائی کر کے اپنے ہتھکنڈے جما لے لیکن بے سود۔ کیونکہ پاکستانی افواج اور عوام نے دہشت گردی کا مقابلہ کرے اپنی بے شمار قیمتی جانیں قربان کی جس پر بھارت کی اور امریکہ اکی ایجنسیاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں اور اب امریکہ اور بھارت نے خود خوفزدہ ہو کر اپنے چاروں جال ہمارے ملک میں اکٹھے بچھارکھے ہیں ۔ لہٰذا! ضرورت اس بات کی ہے اسلامی معاشرے اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو سامنے رکھ کر ترقی کی طرف اقدام اٹھائیں آپسی بھائی چارے فوج کی مدد آزادی صحافت کی ترجیحات اسلامی نظام اور معاشی عوامل کو اپنایا جائے اور ملک دشمن پر کڑی نظر رکھیں تب ہی ہم ایک اچھی اور باوقار قوم ثابت ہوسکتے ہیں وگرنہ کوئی حال نہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: