گرما گرم خبریں

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی
شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان
نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری

پاکستان کلر ہولڈر باکسر…علی رضا بھٹی

پاکستان کلر ہولڈر باکسر…علی رضا بھٹی.

تحریر …. طارق نجمی

گوجرخان کی دھرتی کو ابتدا سے ہی یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ ہر شعبہُ زندگی میں یہاں کے نوجوانوں نے اپنا اور اپنے علاقے کا نام نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں روشن کیا ہے.اور پاکستانی پرچم کو سر بلند رکھا ہے. تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان, ہر میدان میں گوجرخان کا نام نمایاں رہا ہے. اسی گوجرخان کے معروف گاوُں چک راجگان سے تعلق رکھنے والے حوالدار علی رضا بھٹی اپنے دور کے مایہ ناز باکسر رہ چکے ہیں. انہوں نے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی ٹورنامنٹس میں بھی میڈلز حاصل کیے. 1967 سے 1985 تک ان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا . ایک انتہائ غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے علی رضا بھٹی زمانہُ طالبِ علمی سے ہی اپنے پھرتیلے جسم کی وجہ سے اچھے ایتھلیٹ مانے جاتے تھے. بعد میں پاک فوج میں بھرتی ہوےُ. وہاں پر ابتدا میں ہاکی میں دلچسپی لی اور اپنی یونٹ کو فاینل ایونٹ تک پہنچا دیا. لیکن ان کے کوچ صوبیدار محمد صدیق اور سوار شاہ نے ان کی صلاحیتوں کو کسی اور ہی زاویے سے دیکھا اور ان کو باکسنگ ٹیم میں شمولیت کا مشورہ دیا. اسی شام باکسنگ رِنگ میں انہوں نے اپنی پُھرتی سے کوچز کو متاثر کیا. اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر باکسنگ ٹیم میں شمولیت اختیار کر لی اور لایٹ فلائ ویٹ میں اپنی جگہ بنا لی. اپنے پورے کیریُر میں اپنے وزن کو کنٹرول کر کے ا نہوں نے اسی ویٹ میں اپنا نام اور مقام بناےُ رکھا. اُسی سال ایک انٹرنیشنل ایونٹ میں سری لنکا کے دارالخلافہ کولمبو میں تھایُ لینڈ کے باکسر کو فاینل میں شکست دے کر اپنی کامیابیوں کی ابتدا کی. بعد میں نیشنل گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا اور ہر طرف ان کا نام گونجنے لگا. اس دور میں انہوں نے ہر ٹورنامنٹ جیتا. آرمی گیمز,نیشنل گیمز, انٹر سروسز باکسنگ ٹورنامنٹ غرضیکہ ہر ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈلز جیتے. ایشین گیمز میں گو وہ فاینل میں چایُنا کے باکسر سے پواینٹس پر ہار گےُ لیکن ان کی تیکنیک اور سٹایل کو خوب سراہا گیا. 1967 سے 1985 6 تک تقریبا تمام ٹورنامنٹس میں شرکت کی اور میڈلز حاصل کےء. ان کے گھر میں موجود لگ بھگ 50 میڈلز دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے. راول نیوز کی ٹیم جب انٹرویو کے لےء ان کے پاس گءی تو میڈلز دکھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے. بہت ہی دکھی انداز میں انہوں نے بتایا کہ جب تک میں پاکستان کا نام ہر میدان میں روشن کرتا رہا تب تک مجھے ہر قسم کی سہولتیں میسّر تھیں. پاک فوج نے ہمیں بہت عِزّت دی لیکن فوج سے ریٹآئرمنٹ کے بعد کسی نے ہماری طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی. ہمارا کوئ پرسانِ حال نہیں تھا. جن کھلاڑیوں کی کوئ اپروچ تھی ان کو بڑے بڑے اداروں میں بطور کوچ تعینات کر دیا گیا لیکن ہم جیسے غریبوں کو ہمارے حال پر چھوڑ دیا گیا. علی رضا آجکل انتہائ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے.ایک چھوٹی سی دکان سے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہے. جس باکسر کی دہشت اور خوف سے رنگ میں اتے ہی مخالف باکسر گھبرا جایا کرتے تھے آجکل وہی باکسر گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا ہے. بحیثیت قوم ہمارے لیے یہ لمحہء فکریہ ہے. یا تو ان کو ابتدا سے ہی اتنی عزت نہ دی جائے جو بعد میں انہیں ًیادِ ماضی عذاب ہے یا رب ً کے مصداق دکھی نہ کرے. یا پھر ایسے ہیروز کو وہ درجہ دیا جائے جس کے وہ حق دار ہیں. ہم نے دوسرے ممالک میں ایسے ہیروز کو ایک انتہائ خوشحال زندگی گذارتے دیکھا ہے. حکومتیں ان کی آخری وقت تک سرپرستی کرتی ہیں. آخر میں متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کو اکیلا نہ چھوڑا جائے. اگر وہ کسی اہل نہیں رہے تو ان کی اولاد میں سے کسی کو حکومتی سرپرستی میں یا کسی حکومتی ادارے میں جگہ دی جائے. اس حکومتی اقدام سے اپنی نوجوان نسل کو ایک پیغام ملے گا اور پوری توجہ سے اور تندہی سے اپنے اپنے شعبے میں اپنا نام پیدا کرنے کی کوشش کریں گے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: