گرما گرم خبریں

بر ما کے مسلما نو ں پر ظلم ا و ر ز یا د تی ا نسا نی حقو ق کی خلا ف و ر ز ی ہے ،سا ئیں شعبا ن فر ید
ہاؤسنگ سکیم نمبر1میں نئی سیوریج لائنیں آبادی مکینوں کیلئے وبال جان بن گئی
سلنڈر کی ری فلنگ کے دوران سلنڈر پھٹ جانے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا
ٹکال میں پل اور رجام رابطہ سڑک کے لیئے سروے مکمل کر لیا گیا
تھانہ جاتلی کے علاقہ نتھیہ عالم شیر میں دیرینہ رنجش پر ایک شخص قتل
مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک کی صورت حال کو بہتری کی جانب گامزن کردیا ہے،ملک تنویر اسلم سیتھی
واپڈا اہلکار نے غریب کی جمع پونجی لوٹ لی
گوجرخان کی دھرتی کا قرض ہم نے فرض سمجھ کر ادا کیا، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف

چیف ایگزیکٹوو راول گروپ آف نیوز پیپر و جنرل سیکریٹری گوجر خان یونین آف جرنلسٹ جناب سید منور نقوی صاحب کا خصوصی انٹرویو

naqvi

گوجر خان کے نواحی قصبہ دولتالہ  سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی سید منور نقوی صاحب کا تعلق ایک ایسے سادات خاندان سے ہے جن کو علا قہ بھر کے لوگ عقیدت،احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ نقوی صاحب عرصہ بیس سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ انہوں نے گوجر خان ایکسپریس کے نام سے ایک نیوز ویب سائیٹ کی بنیاد رکھی اور اس کے علاوہ ہفت روزہ ” راول نیوز“ بھی شائع کر رہے ہیں ۔ اُنہوں نے اپنی قابلیت اور خداداد ذہانت کے بل بوتے پر مقامی صحافت میں نئے انداز متعارف کرائے، یہی وجہ ہے کہ آج صرف مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ان کے کئے ہوئے کام کو سراہا جاتا ہے۔ گذشتہ روز میں محترم سید منور نقوی صاحب سے انٹرویو کیلئے دولتالہ گیا، اسی بہانے پہلی مرتبہ گوجر خان اور دولتالہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا اور ساتھ ہی محترم نقوی صاحب سے انٹرویوکیا۔میں محترم سید منور نقوی صاحب کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے انٹرویو کے لئے مجھے وقت دیا۔ مجھے اُمید ہے کہ ان کے اس دلچسپ انٹرویو میں صحافت سے متعلق بہت سی نئی باتیں آپ کے علم میں آئیں گی ۔

سوال: آ پ نے کہا ں تک تعلیم حاصل کی اوراپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

جواب: جی میرا خاندان صدیوں سے قصبہ دولتالہ میں آباد ہے ہمارے خاندان کا شجرہ نسب اوچ شریف سے ملتا ہے 27102013272بابا حاجی صاحب اپنے بھائی کے ہمراہ یہاں آباد ہوئے جبکہ ان کے بھائی بعد ازاں چواسیدان شاہ کے قریب ڈھری سیداں میں آباد ہوئے اور اس خاندان نے قصبہ دولتالہ کے ابتدائی زمانے میں اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اب بھی سادات برادری کا شہر میں قلیدی کردار ہے میرے پڑدادا سید گلاب شاہ علاقہ کے نامور شخصیت تھے انگریز دور میں وہ اعزازی نامخور تھے جبکہ میرے والد سید باقر شاہ آرمی میں کچھ عرصہ خدمات سرانجام دیتے رہے اور سیاست میں بھی ان کا کردار انتہائی متحرک رہا 1988میں ان کا انتقال ہوگیا ۔میں نے ابتدائی تعلیم دولتالہ سے ہی حاصل کی اور گورنمنٹ کالج چکوال اور اصغر مال کالج راولپنڈی میں بھی زیر تعلیم رہا ۔

سوال: آپ عرصہ بیس سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں ، یہ بتائیے کہ آپ نے شعبہ صحافت کا انتخاب ہی کیوں کیا؟

جواب: میں اتفاق سے اس شعبہ میں آگیا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اپنی طبیعت کے لحاظ سے میرے لئے یہ انوکھا تجربہ تھا میں خاموش طبیعت اور الگ تھلگ رہنے والا تھا اور آج یہ سب عزت و شہرت صحافت کی وجہ ہے۔

سوال: آپ کی سب سے پہلی تحریر کس اخبار میں شائع ہوئی اور اپنی پہلی تحریر کی اشاعت پر آپ کے کیا تاثرات تھے؟

جواب: میری پہلی تحریر1985میں روزنامہ جنگ راولپنڈی میں میگزین میں بچوں کے صفحات میں ’میرا گاﺅں دولتالہ‘کے نام سے شائع ہوئی تھی یقینا مجھے خوشی ہوئی تھی ۔

سوال: بحیثیت صحافی آپ کو کن صحا فتی تنظیموں میں ذمہ داریا ں ادا کرنے کا موقع ملا؟

جواب: میں نے قصبہ دولتالہ میں پریس کلب دولتالہ کی بنیاد رکھی میں پریس کلب دولتالہ کا صدر ہوں اور گوجرخان میں سینئر صحافی احمد نواز کھوکھر صاحب کی زیر قیادت گوجرخان یونین آف جرنلسٹس کا جنرل سیکرٹری ہوں احمد نواز کھوکھر نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور راول نیوز اور گوجرخان ایکسپریس کو بنانے میں انھوں نے بہت مدد کی میں آج بھی ان سے رہنما ئی لیتا ہوں بلاشبہ احمد نواز کھوکھر کا گوجرخان کی صحافت میں کوئی ثانی نہیں ،تحصیل گوجرخان کی علاقائی صحافت کو اجاگر کرنے میں انھوں نے اہم کردار اد ا کیا صحافت میں وہ میرے استاد اور سرپرست ہیں ۔

سوال: آپ نے باقائیدہ کالم لکھنے کا آغاز کب کیا اور آپ کے خیا ل میں ایک اچھے کالم نگار کو کالم لکھتے وقت کن اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہئے ؟

جواب : جی میں نے’ گردونواح ‘کے عنوان سے کالم کا آغاز 1995سے کیا اور مختلف قومی اور مقامی اخبارات IMG_20131027_122225میں یہ سلسلہ جاری ہے بہت زیادہ مصروفیت کی وجہ سے اکثر تسلسل نہیں رہتا جہاں تک کالم نگار کے اصول کی بات ہے کالم نگار کو صرف اردگرد کے حالات کے مطابق حقیقت پر مبنی تحریر ہی لکھنی چائے وہ اس میں اپنی رائے تو دے سکتا ہے مگر اپنی ذات اور سیاسی وابستگیوں سے باہر نکل کر، ایک اچھا صحافی اپنی تحریر میں معاشرے کی اصلاح کرتا ہے مگر آج کل اس کے برعکس کام ہورہا ہے ۔

سوال: آپ صحافت کے شعبہ میں جدیدٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں، آپ کے خیال میں اب ویب سائٹ کا رسپانس زیادہ ملتا ہے یا پرنٹ میڈیا کا؟

جواب : میرے خیال میں پرنٹ میڈیا ،الیکٹرنک یا سائبر میڈیا کی اپنی اپنی جگ اہمیت ہے موجودہ دور میں جہاں لوگ ٹی وی پر لمحہ بالمحہ خبریں لائیو دیکھ رہے ہیں ان حالات میں اس وقت پرنٹ میڈیا میں کام کرنا سب سے مشکل ہے گو پرنٹ میڈیا کی آج بھی اہمیت برقرار ہے مگر اب لوگوں کے پاس چوائس موجود ہیں کسی زمانے میں صرف نوائے وقت اور جنگ کا دور تھا جہاں تک ویب نیوز کی بات ہے میں سمجھتا ہوں کہ جو ں جوں پاکستان میں آ ئی ٹی ترقی کررہی ہے ویب نیوز کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے آج تو لوگوں کی اکثریت پرنٹ اخبارات بھی انٹر نیٹ پر بیٹھ کر ہی پڑھتے ہیں ۔

سوال: آپ کا پسندیدہ رائیٹر کون ہے اور آپ کس صحافی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟

جواب : جی میں سید طلعت حسین،حامد میر اور نجم سیٹھی کو بہت پسند کرتا ہوں میں احمد نواز کھوکھر سے زیادہ متاثر ہوں ۔

سوال: صحافت کے شعبے میں آنے کے بعدآپ کو گوجر خان کے صحافیوں اور عوام کی خدمت کے لئے کیا کیا جدو جہد کرنا پڑیں؟

جواب : جب میں اس شعبہ میں آیا تھا تو اس وقت ہمارے علاقہ میں صرف دو صحافی جناب محمد ریاض چشتی اور اصغر جاوید مرحوم اس شعبہ سے منسلک تھے اور آپ کو خود معلوم ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت تو بہت ہی کم ہے اس لئے صحافی برداری اکثر زیر عتاب آجاتی ہے مگر ہم نے ہر دور میں وقت کے یزیدوں کا خوب مقابلہ کیا جب کسی صحافی کے ساتھ کوئی مسلہ درپیش آیا تو ہم نے بھر پور مقابلہ کیا اور صحافیوں کو نہ صرف قانونی معانت کی بلکہ ان کی فلاح بہبود کے لئے بھی کوشاں ہیں جبکہ عوامی مسائل کے لئے گوجرخان کی صحافی Munawar Naqviبرادریوں کی جدوجہد بہت طویل ہیں ہم نے اپنے اپنے علاقہ میں رہ کر صرف اور صرف عوام کی خوشحالی کے لئے ہمیشہ اپنی آواز بلند کی ہے ۔

سوال : موجودہ حالات میں صرف صحافت اوردوسروں کی خدمت سے گھر کا چولہا جلانامشکل ہو گیا ہے کیا آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟

جواب: جی بلکل یہ درست بات ہے صحافی ویسے بھی مظلوم طبقہ ہے اور موجودہ دور میں عام آدمی کے لئے زندہ رہنا بھی مشکل ہے مگر صحافی تو اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر اپنی قلم کی حرمت برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ مقامی صحافت کا تو آپ کو معلوم ہے کہ وہ اعزاز ی نمائندے ہوتے ہیں وہ تو تنخوا ہ کے بغیر ہی صحافت کرتے ہیں ۔

سوال : گوجر خان کی خبروں کے حوالہ سے معروف ہفت روزہ اخبار ” راول نیوز“ اور” گوجر خان ایکسپریس“ ویب سائیٹ کو کتنے افراد پر مشتمل ٹیم مینج کرتی ہے، انکا تھوڑا تعارف کرادیں ؟

جواب : ہماری ٹیم میں دس افراد ہیں ان میں جناب نوید افسر راجہ سب سے اہم اور میرے معاون بھی ہیں یہ دونوں Moneeb Junior with Mr. Syed Munawar Naqvi and Naveed Afsar Rajaاخبارات ان کے بغیر کچھ نہیں وہ راول نیوز گروپ آف نیوز پیپرز کے دونوں اخبارات راول نیوز اور گوجرخان ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر ہیں اور اخبار کے بہت سے شعبوں کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں نوید افسر راجہ گوجرخان کی صحافت میں ایک اہم نام ہیں وہ بہت ہی اچھے لکھاری ہیں ،رپورٹنگ کے شعبہ میں ان کا کوئی ثانی نہیں، اعلیٰ پائے کے کالم نگار اور نیک نام انسان ہیں علاقہ بھر میں راجہ صاحب کی خدمات کو اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان کے علاوہ ایڈیٹر چوہدری عابد حسین بہت محنتی ہیں وہ بھی بہت اچھے کالم نگار ہیں چوہدری عابد نے بہت کم وقت میں اپنا نام بنایا ،عامر مقبول چوہدری راول نیوز کے سینئر ایڈیٹر ہیں وہ بھی گوجرخان کی صحافت میں ابھرتے ہوئے ستارے ہیں میںذاتی طور پر ان کے اندر موجود صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوں وہ بہت ہی کم وقت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں سید ساجد نقوی مندرہ سے ان کا تعلق ہے اچھے لکھاری ہیںگوجرخان ایکسپریس کے بانیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے انھوں نے گوجرخان ایکسپریس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا محمد ریاض چشتی غربی گوجرخان کی صحافت کے با بائے صحافت ہیں اور بہت اچھے لکھاری ،اچھے انسان ہیں انھوں نے ہمیشہ راول نیوز اور گوجرخان ایکسپریس میں ہماری بھر پور معاونت کی جبکہ دیگر بہت سے لوگ جو گوجرخان شہر ،مندرہ جبر اور بیول سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں سب نے راول نیوز کی کامیابی میں بھر پور کردار ادا کیا مگر ایک ایسے شخص کا ذکر بھی ضرور کرنا چاہوںگا وہ ہیں ڈھڈیال کے سینئر صحافی ریاض بٹ جنھوں نے گوجرخان ایکسپریس بنانے میں میری مدد کی اور پھر ویب میکر اور ڈھڈیال نیوز کے ایڈیٹر محمد سعید نے اسے عملی شکل دی جبکہ راجہ حاجی احمد،چوہدری محمد نواز،نوید اسلم فرحت اور دیگر بھی باصلاحیت لوگ اس ٹیم کا حصہ ہیں۔

سوال: آپ کے خیال میں گوجرخان کے کون سے سیاسی گھرانے یا سماجی شخصیا ت ایسی ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں گوجر خان کے عوام کی خدمت کی ہے؟

جواب : بہت سے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے گوجرخان کے لوگوں کی بلا امتیاز خدمت کی ،راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیر اعظم گوجرخان میں بہت زیادہ فنڈز استعمال کیا مگر ہماری بدقسمتی کہ ان کو تمام کام مکمل کرنے کا وقت نہیں مل سکا تاہم ان کے وزیر اعظم بننے سے گوجرخان دنیا بھر میں مشہور ہوا جبکہ سید اختر امام رضوی نے گوجرخان کے کلچر اور زبان کی بے مثال خدمت کی۔

سوال: پاکستان کے موجودہ حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل کو حل کر لے گی ؟

جواب : جی میری دعا ہے کہ یہ حکومت کامیاب ہو اور اپنی مدت مکمل کرے اگر ہمارا ملک خوشحال ہوگا تو ہمارا گھر بھی خوشحال ہوگا حالات ضرور مشکل ہیں مگر دعاگوں ہوں کہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کامیاب ہو، ان کی ٹیم تجربہ کار ہے ۔

سوال: آپ کے میڈیا گروپ کے ساتھ مقامی صحافیوں کی بہت بڑی تعداد وابستہ ہے ، وہ مقامی نوجوان جو صحافت کے شعبہ میں آنے کے خواہش مند ہوں تووہ آپ سے کس طرح رابطہ کر سکتے ہیں؟

جواب : میں نے اپنے علاقہ میںشعبہ صحافت میں نئے آنے والے دوستوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ اگر کوئی اس سلسلے میں ہمارے پاس آئے گا تو اسے مایوسی نہیں ہوگی ۔

سوال: آپ نے دولتالہ کی تاریخ مرتب کی وہ کب تک کتابی شکل میں منظر عام تک آجائے گی اور کوئی مزید کام جو کرنا چائیں گے ؟

جواب : جی دولتالہ کی تاریخ اب مکمل ہوچکی ہے اور بہت جلد کتابی صورت میں شائع ہوجائے گی، مصروفیت کی وجہ سے اس میں کچھ دیری ضرور ہوئی مگر اب وہ مکمل ہوچکی ہے جہاں تک مزید کام کی بات ہے انسان ہمیشہ آگے بڑھنے کی سوچتا ہے بہت عرصہ سے میں بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی خدمات ان کی کارنامے منظر عام پر لانے کے حوالے سے ایک انٹرنیشنل میگزین نکالنے کا خواہاں ہوں، اس سلسلے میں ہماری ٹیم نے ابتدا کردی ہے بہت جلد یہ میگزین منظر عام پر آجائے گا جبکہ راول نیوز کو بطور روزنامہ اخبار نکالنے کا بھی ارادہ رکھتا ہوں، انشاءاللہ ۔

www.gujarkhanexpress.com

www. rawalnews.net

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: