گرما گرم خبریں

مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی میں ہزاروں کشمیریوں کا لہو شامل ہے ،حاجی راجہ محمد جواد
گوجرخان شہر میں کیمیکل ملا ملا وٹ شدہ دودھ فروخت جاری
لیبیا میں کشتی حادثہ میں جاں بحق ہونے والے غلام فرید وارثی کی رہائش گاہ پر ڈپٹی کمشنر،سی پی او رجاوید اخلاص کی آمد
عمران خان ایماندار اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھنے والے لیڈر ہیں ،راجہ طارق کیانی
عالمی امن داؤ پر لگتا جا رہا ہے ،دنیا پاک بھارت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی ،شیخ محمد ساجد
گوجرخان ریلوے روڈ پر تجاوزات کے باعث ٹریفک جام معمول بن گیا
قوم نے میاں نواز شریف کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے،راجہ شوکت عزیز بھٹی

کونتریلہ میں 150 سال قبل تعمیر شدہ عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار

۔تحریر و تحقیق۔۔۔۔راجہ طارق نجمی

کونتریلہ کی پرشکوہ تین منزلہ عمارت جسے عرفِ عام میں ماڑی کہا جاتا ہے ، 150 سال قبل غالباً 1885ء4 میں مقامی تاجر سردار بخشی رام سنگھ نیتعمیر کروائی تھی۔ فنِ تعمیر کی ایک شاہکار عمارت جو کہ زمانے کے نشیب و فراز سے گذر کر اب کافی شکستہ حال ہو چکی ہے لیکن پھر بھی عمارت کو دیکھ کر عہدِ رفتہ کی عظمت اور اس دور کی بود و باش کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا یے۔عمارت کے چاروں طرف کھڑکیاں اور دریچے اس قدر خوبصورتی سے بنے ہیں کہ بس دیکھتے ہی رہنے کو جی چاہتا ہے۔ ہر کمرے میں بنے ہوئے شمع دان اور اس دور کی لالٹینوں سے نکلنے والے دھویں کے نشان اب بھی دیواروں پر موجود ہیں اور بلا شبہ دیکھنے والے کو مسحور کر دیتے ہیں۔عمارت کی ایک طرف تہہ خانہ بنا ہوا ہے جس کی نیچے جاتی ہوئی باقاعدہ سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔اس عمارت سے بہت سی دیو مالائی کہانیاں بھی منسوب ہیں جو کہ سینہ بسینہ چلتی آ رہی ہیں۔ تہہ خانے کا راستہ دور تک جاتا ہے۔ یہ راستہ کس مقصد کی لئے استعمال ہوتا تھا، اس بارے میں متضاد روائتیں ہیں۔عمارت کو ہوادار بنانے کے لئے مرکزی جگہ کو خالی رکھا گیا ہے اور اردگرد انتہائی خوبصورت کمرے ، برآمدے اور بالکونیاں بنائی گئی ہیں۔ گو کہ اب ان کی حالت انتہائی مخدوش ہے، زیادہ تر چھتیں گر چکی ہیں لیکن طرزِ تعمیر اور تعمیراتی حسن دیکھ کر اس دور کے مکینوں کے اعلیٰ ذوق کی داد دینی پڑتی ہے۔شہتیروں اور بالوں کے لئے جو لکڑی استعمال ہوئی ہے انتہائی کاریگری سے تیار کی گئی ہے اور ابھی تک دیمک سے محفوظ ہے۔ دروازوں پر بہت خوبصورت کام کیا گیا ہے جو کہ اس دور کی ہنرمندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ عمارت چونکہ سکول انتظامیہ کی تحویل میں ہے ، راقم کو عرصہ پہلے سکول دور میں وہاں کلاسز اٹینڈ کرنے کا موقع بھی ملتا رہا ہے ، اس دور میں عمارت قابلِ استعمال تھی اور ہمارے کچھ اساتذہ وہاں قیام پذیر بھی تھے۔: عمارت ک تعمیر میں جو گارا یا سیمنٹ استعمال ہوا ہے وہ گوند، مٹی، ریت اور نباتاتی چھلکوں سے بنایا گیا ہے اور انتہائی مضبْوط ہے۔ اس عمارت کی شکستہ دیواریں چیخ چیخ کر سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ اب بھی اگر متعلقہ ادارے اس پر توجہ دیں تو یہ تاریخی عمارت بچ سکتی ہے اور ہماری آئندہ کی نسلوں کو عہدِ گذشتہ کی عظمت کو دیکھنے اور سمجھنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ ہماری متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ خدارا اس تاریخی ورثے پر توجہ دی جائے اور اس کی مناسب مرمت کروا کر اس کو محفوظ کیا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: