گرما گرم خبریں

گوجرخان پوٹھوہار پریس کلب کے سالانہ انتخابات، احمد نواز کھوکھر صدرجبکہ ملک جاوید اقبال جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے
آز۱دی کشمیر نوشتہ دیو۱ر،بہت جلد قربانیاں رنگ لائیں گی، مشال ملک
آمدہ انتخابات میں بھی فتح مسلم لیگ ن کی ہوگی ،راجہ امیرکاظم
سماج دشمن عناصر کیخلاف بھرپور مہم جاری رکھی جائے، ڈی ایس پی گوجرخان
شہر بھر میں سٹریٹ کرائمز کا سلسلہ جاری ہے،شیخ احتشام الطاف
جاتلی پولیس انصاف کی فراہمی میں ناکام اہل علاقہ پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا
تھانہ گوجرخان میں ایس ایچ او کی تعیناتی میرٹ پر کی جائے ،حاجی چوہدری محمدا قبال

کونتریلہ میں 150 سال قبل تعمیر شدہ عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار

۔تحریر و تحقیق۔۔۔۔راجہ طارق نجمی

کونتریلہ کی پرشکوہ تین منزلہ عمارت جسے عرفِ عام میں ماڑی کہا جاتا ہے ، 150 سال قبل غالباً 1885ء4 میں مقامی تاجر سردار بخشی رام سنگھ نیتعمیر کروائی تھی۔ فنِ تعمیر کی ایک شاہکار عمارت جو کہ زمانے کے نشیب و فراز سے گذر کر اب کافی شکستہ حال ہو چکی ہے لیکن پھر بھی عمارت کو دیکھ کر عہدِ رفتہ کی عظمت اور اس دور کی بود و باش کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا یے۔عمارت کے چاروں طرف کھڑکیاں اور دریچے اس قدر خوبصورتی سے بنے ہیں کہ بس دیکھتے ہی رہنے کو جی چاہتا ہے۔ ہر کمرے میں بنے ہوئے شمع دان اور اس دور کی لالٹینوں سے نکلنے والے دھویں کے نشان اب بھی دیواروں پر موجود ہیں اور بلا شبہ دیکھنے والے کو مسحور کر دیتے ہیں۔عمارت کی ایک طرف تہہ خانہ بنا ہوا ہے جس کی نیچے جاتی ہوئی باقاعدہ سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔اس عمارت سے بہت سی دیو مالائی کہانیاں بھی منسوب ہیں جو کہ سینہ بسینہ چلتی آ رہی ہیں۔ تہہ خانے کا راستہ دور تک جاتا ہے۔ یہ راستہ کس مقصد کی لئے استعمال ہوتا تھا، اس بارے میں متضاد روائتیں ہیں۔عمارت کو ہوادار بنانے کے لئے مرکزی جگہ کو خالی رکھا گیا ہے اور اردگرد انتہائی خوبصورت کمرے ، برآمدے اور بالکونیاں بنائی گئی ہیں۔ گو کہ اب ان کی حالت انتہائی مخدوش ہے، زیادہ تر چھتیں گر چکی ہیں لیکن طرزِ تعمیر اور تعمیراتی حسن دیکھ کر اس دور کے مکینوں کے اعلیٰ ذوق کی داد دینی پڑتی ہے۔شہتیروں اور بالوں کے لئے جو لکڑی استعمال ہوئی ہے انتہائی کاریگری سے تیار کی گئی ہے اور ابھی تک دیمک سے محفوظ ہے۔ دروازوں پر بہت خوبصورت کام کیا گیا ہے جو کہ اس دور کی ہنرمندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ عمارت چونکہ سکول انتظامیہ کی تحویل میں ہے ، راقم کو عرصہ پہلے سکول دور میں وہاں کلاسز اٹینڈ کرنے کا موقع بھی ملتا رہا ہے ، اس دور میں عمارت قابلِ استعمال تھی اور ہمارے کچھ اساتذہ وہاں قیام پذیر بھی تھے۔: عمارت ک تعمیر میں جو گارا یا سیمنٹ استعمال ہوا ہے وہ گوند، مٹی، ریت اور نباتاتی چھلکوں سے بنایا گیا ہے اور انتہائی مضبْوط ہے۔ اس عمارت کی شکستہ دیواریں چیخ چیخ کر سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ اب بھی اگر متعلقہ ادارے اس پر توجہ دیں تو یہ تاریخی عمارت بچ سکتی ہے اور ہماری آئندہ کی نسلوں کو عہدِ گذشتہ کی عظمت کو دیکھنے اور سمجھنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ ہماری متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ خدارا اس تاریخی ورثے پر توجہ دی جائے اور اس کی مناسب مرمت کروا کر اس کو محفوظ کیا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: