گرما گرم خبریں

مسقط میں حا دثہ کا شکار ہو نے والی گو جر خان کی فیملی کی میتیں منگل کو پا کستان پہنچ گئی ہیں
ہمارا مشن دیہاتی عورتوں میں شعور اجاگر کرنا ہے، ثمینہ امیر راجہ
راجہ عامر سعید آف نتھہ چھتر نے دولتالہ میں نوجوانوں کیلئے حاجی فیض علی سٹیڈم بنانے کا اعلان کردیا
اسسٹنٹ کمشنر مہرین فہیم عباسی کی قیادت میں آ زادی واک ہو ئی
جعلی سیاستدانوں سے چھٹکارا وقت کی ضرورت بن چکا ہے،ریاض محمود مغل
گوجرخان : پولیس کی بروقت کاروائی، جواری گرفتار ، پولیس نے بھاری رقم قبضے میں لے لی
گوجرخان،فرانس پلٹ جوان کے قتل کی ایف آئی آر درج کر لی گئی
سلیمان فاؤنڈیشن کے تحت دولتالہ میں جشن آزادی کا شاندار پروگرام

کیپیٹل آف اسلامک کلچر مشہد ۲۰۱۷ء

WhatsApp Image 2017-02-11 at 6.43.58 PMتحریر: سید آل عمران
اسلامی جمہوریہ ایران (عرف عام : ایران ، سابق نام : فارس ، موجودہ فارسی نام: جمہوری اسلامی ایران) جنوب مغربی ایشیاء کا ایک ملک ہے ، جو مشرق وسطیٰ میں واقع ہے۔ لفظ ایران کا مطلب آریاؤں کی سرزمین ہے۔ ایران دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے ۔ ایران کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ یورپ اور ایشیاء کے وسط میں ہونے کے باعث اس کو تاریخی اہمیت حاصل ہے ۔ ایران اقوام متحدہ ، اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی ) اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کا بانی رکن ہے۔ تیل کے بڑے ذخائر کی بدولت بین الاقوامی سیاست میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے ۔ ایران کی سرحدیں شمال میں آرمینیا ، آذربائیجان اور ترکمانستان ، مشرق میں پاکستان اور افغانستان اور مغرب میں ترکی اور عراق سے ملتی ہیں۔ مزید برآں خلیج فارس بھی اس سے ملحق ہے۔ ایران کا سرکاری مذہب اسلام اور فارسی قومی زبان ہے۔
ملک کے اکثریت باشندے فارسی زبان بولتے ہیں جو اکثریتی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کی سرکاری زبان بھی ہے۔ دیگر زبانوں کی بات کی جائے تو ایران کے شمال مغرب میں آذر بائجانی ، شمال میں ترکمن اور مشرق میں پاکستانی سرحدوں کے قریب علاقے میں بلوچی زبان بولی جاتی ہے۔ ایران میں 35فیصد افراد فارسی ، 16فیصد کی آذربائجانی ، 10فیصد کی کردی ، 7فیصد کی گیلکی اور مزدارین ، 7فیصد کی لوری ، 2فیصد کی عربی اور 2فیصد کی بلوچی مادری زبان ہے۔ تاہم ان تمام مادری زبانوں کا استعمال صرف بطور علاقائی زبان کیا جاتاہے باقی ملک بھر میں فارسی ہی استعمال ہوتی ہے۔
ایران کا اسلامی انقلاب ایک مردقلندر حضرت امام خمینی ؒ کی قیادت میں یکم فروری ۱۹۷۹ ء میں کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اڑھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ ہوا اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پوری دنیا میں حقیقی اسلام کی خوشبو پھیلی اور ایرانی عوام نے محنت و لگن کے ساتھ علمی سائنسی ادبی اور دیگر شعبہ جات میں بیمثال کامیابیاں حاصل کی جن سلسلہ اب بھی جاری ہے
ایران کی سرزمین عقیدت کے رنگ و نور کے حوالے سے دُنیائے اسلام میں پہچانی جاتی ہے ۔ مشہد میں فرزند رسولؐ حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور قم میں حضرت بی بی فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا کے مزارات اور نور محل خوشبوئے رسالت مآب ؐ ، اہل بیت کرام ؑ کو مہکائے ہوئے ہیں۔ جہاں زائرین کے دن رات مودت کے رنگ و نور مہکتے رہتے ہیں ۔ خدا کے حضور حاجات اور دعائیں مانگی جاتی ہیں ، حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مزار کے قریب ’’احاطہ بیمار‘‘ میں زندہ معجزات دن رات ہوتے ہیں اور بیمار شفاء پاتے ہیں۔
ایران اہل علم وہنر اور فن کا گلستان جانا جاتاہے جہاں آج بھی جابر بن حیان ، فرید الدین عطار نیشا پوری، عمرخیام نیشاپوری، حکیم ابوالقاسم فردوسی ، شیخ طوسی ، خواجہ نظام الملک ، امام محمد غزالی طوسی ، احمد غزالی طوسی ، خواجہ نصیر الدین طوسی ، فاضل بسطامی ، شیخ مجتبیٰ قزوینی ، آیت اللہ میلانی ، ڈاکٹر علی شریعتی ، شہید مطھری، آیت اللہ شیرازی کا نام اور فن گونجتا ہے ، اہل ایران آج بھی ان روشن ناموں سے قلبی تعلق رکھ کر فیض پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ معروف مصنفین ، شعرا ، فنکار اور ہنرمند جن کا تعلق ایران سے ہے، انہوں نے ثقافتی ادبی اور ہنری میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیئے جن میں استاد محمود فرشیان(مینی ایچئیر) استاد میرخانی(خطاط)اور دیگر شامل ہیں۔
ایران اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے سے محبتوں اور عقیدتوں کے رشتوں کے علاوہ تاریخی ، علمی ، ثقافتی اور ادبی حوالوں سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انقلاب ایران کے زمانے وقت حضرت علامہ اقبال ؒ کی شاعری کو بے حد اہمیت حاصل رہی اور آج بھی وہاں شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری اور فکری نظریے کو جانا اور مانا جاتاہے۔ اس محبت اور فکری نظریے کے طفیل ایک چوک کا نام بھی ’’اقبال لاہوری‘‘ ہے۔ جہاں قریب ہی علامہ اقبال ؒ کا مجسمہ بھی عزت و احترام کے ساتھ نصب کیا گیا ہے۔ مشہد یونیورسٹی میں شعبہ اقبالیات بھی قائم ہے جبکہ تہران یونیورسٹی میں شعبہ اردو زبان و ادبیات بھی انتہائی فعالیت کے ساتھ سرگرم ہے۔
اسلامی ممالک کے تعاون سے منسلک تنظیم اسلامک ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (آئی سیسکو) کی جانب سے ۲۰۱۷ء کے لئے عالم اسلامی کے ثقافتی دارالحکومت کے طور پر ’’مشہد ‘‘ کو منتخب کئے جانے کے حوالے سے مشہد شہر میں کیپیٹل آف اسلامک کلچر مشہد ۲۰۱۷ء کی خصوصی افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا گیا اور پھر پورا سال مشہد میں ایسی ثقافتی تقریبات منعقد ہوتی رہیں گی۔ ۲۰۱۷ء میں مشہد مقدس کو عالم اسلام کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کئے جانے کی تقریب گزشتہ دنوں فرزند رسول حضرت امام علی رضا ابن موسیٰ علیہ السلام کے حرم مطہر کے ’’قدس ہال‘‘ میں منعقد ہوئی ۔ تقریب میں ایران کے وزیر ثقافت ، حرم مطہر کے متولی اور دیگر اہم ایرانی شخصیات کے ساتھ ساتھ دُنیا کے اکیاون اسلامی ملکوں کے مہمانوں نے شرکت کی جن میں وزراء ، اراکین پارلیمان ، ایران میں متعین غیر ملکی سفرااور دیگر ملکوں کی مذہبی اور ثقافتی شخصیات نے حصہ لیا۔ تقریب میں پاکستان ، تنزانیا ، افغانستان ، یوگینڈا، اموریطانیہ ، الجزائر اور شام کے وزراء نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف ملکوں کی دیگر سیاسی ، ثقافتی اور سماجی شخصیات اس تقریب میں شریک ہوئیں ۔ پاکستان سے ممبر قومی اسمبلی عاصمہ ممدوٹ ، ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب بیگم ذکیہ شاہنواز ، پرووائس چانسلر اسلامیہ کالج پشاور پروفیسر ڈاکٹر نوشاد خان ، کوئٹہ کے معروف عالم دین عبدالرحمان ، کراچی سے سکالر فائزے زہرامرزا اور راقم نے شرکت کی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرثقافت اسلامی سید رضا صالحی امیری نے کہا کہ عالم اسلام میں انتہا پسندی پر غلبہ پانے کا بہترین طریقہ اتحاد ہے اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات سے اس اتحاد کو عملی شکل دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشہد مقدس کو عالم اسلام کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کئے جانے سے اتحاد کی آواز کو پوری دُنیا تک پہنچایا جاسکتاہے۔ ایران کے وزیر ثقافت و ہدایت اسلامی نے اس بات کا ذکر کرتے کہا کہ موجودہ صورت حال میں اسلامی معاشروں میں اتحاد اور اخلاق کا نعرہ پوری قوت کے ساتھ بلند کیاجانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ؐ حضرت محمد مصطفی ؐنے اپنی بعثت کا مقصد مکارم اخلاق کو قرار دیا تھا اور عالم اسلام کا ثقافتی دارالحکومت مقرر کرنے کے تعلق سے آئی سیسکو کا معیار بھی اسی بنیاد پر استوار ہوا ہے ۔ انہوں نے مشہد مقدس کو عالم اسلام کا ثقافتی دارالحکومت بنائے جانے کو اسلامی ثقافت کے فروغ میں سنگ میل قرار دیا ۔ سید رضا صالحی امیری نے کہا کہ عالم اسلام کے ثقافتی درالحکومت کی حیثیت سے مشہد کا انتخاب اس عظیم شہر کو دُنیا کے سامنے متعارف کرانے کا بہترین موقع ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دین ، روحانیت اور اہل بیت ؑ عصمت طہارت کی تعلیمات کے سوتے مشہد مقدس میں بارگاہ حضرت علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے پھوٹتے ہیں لہٰذا اس موقع سے بہترین فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
صوبہ خراسان رضوی کے گورنر علی رشیدیان نے اس موقع پر کہا کہ عالم اسلام کے ثقافتی دارالحکومت کی حیثیت سے مشہد مقدس تمام مکاتب فکر کے درمیان اتحاد اور دوستی کے مرکز میں تبدیل ہوسکتاہے۔ مشہد مقدس صرف ایران اور مشرقی وسطیٰ کا اہم شہر نہیں بلکہ ایک عالمی مذہبی شہر ہے۔ جہاں عقیدت کے رنگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔ علی رضا رشیدیان نے مزید کہا کہ مشہد مقدس کو عالم اسلام کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کئے جانے سے یہ گرانقدر موقع ہاتھ آیا ہے کہ عالم اسلام میں نئے اسلامی تمدن کو متعارف کرایاجائے ۔ مشہد مقدس عالم اسلام کے مستقبل میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے کہ یہ شہر عالم اسلام کے بڑے مذہبی شہروں میں سے ایک ہے اور علاقے میں ثقافتی اور نظریاتی رابطوں کا مرکز شمار کیا جاتاہے ۔
تقریب کے اختتام پر حرم امام علی رضاؑ نور محل کی مسجد میں نماز ظہرین حرم اما م علی رضا ؑ کے متولی کی امامت میں ادا کی گئی۔نماز کے بعد معزز مہمانوں کو قرآن کمپلیکس میں لے جایا گیا جہاں قیمتی اور نادر قرآن پاک کے قلمی نسخے انتہائی اہتمام کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں ، وہیں ایران کے نامور خطاط بھی خطاطی میں مصروف تھے۔ حرم امام علی رضا کی سب سے خاص بات کہ وہاں کا ’’لنگر رضوی‘‘ ہے جوخاص طور پر بلاتفریق مہمانوں کو پیش کیاجاتاہے ۔ سب مہمانوں نے لنگر رضوی عقیدت کے ساتھ کھایا اور یوں افتتاحی تقریب کا پہلا دن مکمل ہوا۔ عقیدت محبت اور میزبانی کا جذبہ ابھی تک آنکھوں کو اُجلا کئے ہوئے ہے ، زندگی کا ہررنگ عقیدت کے رنگ کے آگے ماند پڑجاتاہے اور میری رب کریم سے یہی دُعا ہے کہ تمام اسلامی ممالک آپس میں بھائی چارے ، امن و محبت اور اتفاق کے فروغ کے لئے کام کرتے رہیں۔ اس ثقافتی سفر کیلئے راولپنڈی میں قائم ایران ثقافتی مرکز خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانہ نے خصوصی تعاون کیا اس ضمن میں متعلقہ تمام دوستوں خاص طور پر ڈائریکٹر جنرل علی آقا نوری ، پریس اتاشی آقائی بدری فر اور افسر تعلقات عامہ واجد علی خرم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی محبت سے اس عالمی تقریب میں شرکت کا موقع میسر آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: