گرما گرم خبریں

سو کے وی کا ٹرانسفارمر نہیں لگ رہا ،واپڈا چیئرمین ،ایس ڈی او اور ایکسین کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر
گلیانہ موڑ گوجرخان موٹرسائیکل ورکشاپ میں آتشزدگی،سامان جل کر خاکستر ہوگیا
حکومتی دعوے دھرے کے دھرے، سحرو افطار میں لوڈشیڈنگ ،عوام بلبلا اُٹھے ، حکومت کو بددعائیں
منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،بدنام زمانہ منشیات فروش آصف عرف آصو بٹ ساتھیوں سمیت گرفتار
گوجرخان : الیکشن کمیشن میں زیرسماعت جعلی ڈگری کیس میں لیگی ایم پی اے حلقہ پی پی فور راجہ شوکت عزیز بھٹی نااہل
واپڈا اِن ایکشن، عدم ادائیگی بل کی بناء پر پاسپورٹ آفس گوجرخان کابجلی کنکشن کاٹ دیا گیا، عوام ذلیل و خوار
گو جر خان میں اندھیر نگری چوپٹ راج، سٹریٹ لائٹس خراب، پانی کی شدید کمی، تجاوزات کی بھرمار ، گندگی کے ڈھیر، بلدیہ تنخواہیں لینے کیلئے بنی ہے ؟؟

گھریلو نا چا قی پر 4بچوں کی ماں ٹرین کے نیچے آ کر جاں بحق ہو گئی

5گوجرخان(نمائندہ راول نیوز)گھریلو نا چا قی پر 4بچوں کی ماں ٹرین کے نیچے آ کر جاں بحق ہو گئی۔ لواحقین کا جی ٹی روڈ پر مظاہرہ ،نعش سڑک پر رکھ کر روڈ بلاک کر دی۔مقتولہ کے والد نے اپنے دا ماد کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی۔تفصیلات کے مطابق خان اسحاق گلیانہ موڑ کے پاس ریڈی ایٹر مرمتی کا کام کر تا ہے اور کچھ فاصلے پر اسکا گھر واقع ہے ۔اسکی شادی نسرین بی بی سے ہو ئی ہے جس میں سے اسکے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔ دو نوں میاں بیوی کے مابین اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔جمعہ کی صبح بھی انکے مابین جھگڑا ہوا اور نسرین بی بی گھر سے نکل گئی۔ ساڑھے سات بجے کے قریب پو لیس کو اطلاع ملی کہ ایک خاتون ٹرین کے نیچے آگئی ہے جسے ر یسکیو1122کے ذریعے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا یا گیا ہے۔ وہاں اسکا شو ہر خان اسحاق اور خاتون کے والد رفیق اور انکے دیگر عزیز بھی پہنچ گئے۔ جنہوں نے اسحاق پر الزام عائد کیا کہ اس نے نسرین کو قتل کر کے ٹرین پر پھینکا ہے ۔ اسکے بعد مقتولہ کے لواحقین نے نعش سڑک پر رکھ دی۔ ایس ایچ او تھانہ گو جر خان شیخ محمد قاسم نے موقع پر پہنچ کر لواحقین کو انصاف کی یقین دہا نی کرائی۔جس پر انہوں نے احتجاج ختم کر دیا۔ پوسٹمارٹم کے بعد نعش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ بعد ازاں مقتولہ کے والد محمد رفیق کی رپورٹ پر پولیس نے خان اسحاق کے خلاف ایف آئی درج کر کے اسے گرفتا ر کر لیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: