گرما گرم خبریں

شرقی علا قہ میں ہو نے والی ڈکیتی کی واردات کا ضرور سراغ لگا یا جا ئے گا ،ایس ایچ او تھا نہ گو جر خان
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی میرٹ پر کی جا ئے گی
اسلام آ باد بندش کے ذمہ دار تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مظا ہرین نہیں بلکہ حکمران ہیں ،پی پی پی گو جر خان
نکاسی آ ب کے منصو بے سے شہریوں کو بے پناہ فا ئدہ حاصل ہو گا ، سید ندیم عباس بخاری
سی پیک کا منصو بہ نواز شریف کاعظیم تحفہ ہے ،را جہ طا ہر کیانی

ہم سب کی پہچان’’ پاکستان‘‘ 

تحریر عقیل خان آف جمبر (بات سے بات)
aqeelkhancolumnist@gmail.com
14اگست پاکستان کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور 14اگست دنیابھر میں پاکستان کی پہچان بن چکا ہے۔ ہم لوگوں نے پاکستان کو اسلام کے نام حاصل کیا اور اسلامی مہینے محرم، صفر سے شروع ہوتے ہیں اور پاکستان رمضان کے ماہ میں وجود میں آیاتھااس لیے اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہمیں یہ دن بھی اپنے اسلامی مہینے کے مطابق منانا چاہیے مگر ہم نے انگریزوں سے آزادی ضرور حاصل کی مگر ان کے طور طریقہ نہیں چھوڑے۔ اسی وجہ سے ہم نے اپنی پہچان اسلامی ماہ’’ رمضان‘‘ کے بجائے انگریزی ماہ’’ اگست ‘‘میں رکھی ہے ۔
ہر سال 14اگست کو پاکستان میں آزادی کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن ہم اپنے ان محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں ، مال و دولت، عصمتیں لٹاکے ہمیں آزادی دلائی۔ آزادی خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت کا شکریہ ادا کرنا سب سے بڑی سعادت مندی ہے۔ آئیے آج ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھتے ہیں کہ ہم نے کس حد تک آزادی کی نعمت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جو خدا اور خلق سے وعدہ کیے انہیں کہاں تک پروان چڑھایا؟ہم نے نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان میں خدا کا قانون جاری کریں گے۔ رحمت عالم کی سنت کی پیروی میں زندگی کی راہیں طے کریں گے۔ نیکی کو پھیلائیں گے اور بدی کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیں گے۔ یہ تھے وہ مقاصد جن کے حصول کے لیے برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کیا۔ جس حصول کے لیے آگ اور خون کے دریاؤں سے گزرنا پڑا تھا ۔
قیام پاکستان کی داستاں ہم یا تو ان لوگوں سے سن سکتے ہیں جنہوں نے اس کی بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا پھر صرف کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں۔الحمد اللہ میری والدہ حیات ہیں جنہوں نے پاکستان کومعرض وجود میں آتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔جب بھی پاکستان کے موضوع پربات ہوتی ہے تو وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اس کی قدر کیا ہے؟ کس طرح اس کو حاصل کیا؟ جب بھی پاکستان کا قومی دن (23مارچ، 14اگست)یا قومی ہیروز (قائداعظم ، علامہ اقبال)کے دن آتا ہے تو ہم اکثر اپنی والدہ سے اس موضوع پر بات کرتے ہیں اور پھر وہ ہمیں اس کے متعلق بڑی اہم معلومات دیتی ہیں۔قیام پاکستان کے 70 سال مکمل ہونے پر ایک بار پھر پاکستان بھر میں بڑی زور و شور سے 14اگست منانے کی تیار ی جاری ہیں۔ گلیوں ، بازاروں ، سکولوں، مسجدوں اور سرکاری اداروں کو سجایا جارہا ہے۔ بڑے سے بڑا قومی پرچم بنا یا جارہا ہے۔ بازاروں میں ہرطرف جھنڈیاں او رقومی پرچم والے سٹال لگے ہوئے ہیں۔ جن پر بڑے اور بچے سب شاپنگ کرتے نظر آتے ہیں۔
ہم بہن بھائیوں نے پھر اس دن کے حوالے سے اپنی والدہ سے باتیں شروع کردیں تو والدہ نے پاکستان کی بنیاد کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ہندوؤں نے کس طرح مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے؟ ہمارے گھر وں پر کس طرح حملے کئے؟ ہمارے آنکھوں کے سامنے ہمارے مسلمانوں پر بے پناہ تشدد کیا۔ ہم پاکستان آنے کے لیے جن گاڑیوں پر سوار ہوئے تو راستے میں ہماری گاڑیوں پر تلواروں سے وار کیے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے اپنوں کو شہید کردیا ۔کس طرح ہم ہجرت کے وقت اپنے جسم پر ایک کی بجائے تین ،تین سوٹ پہن کر گھر نکلے۔ ہر کوئی اپنا مال و زر چھوڑ کر صرف پاکستان کی محبت میں ہندوستان سے نکل رہا تھا۔ آج ہم جس ملک میں بیٹھے ہیں ہم اس کو باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر بیٹھے ہیں مگر اس کی بنیاد میں کتنا لہو ہے یہ ان کو پتا ہے جن کے عزیزو اقارب ان کی آنکھوں کے سامنے شہید ہوئے۔
آج جمو ں وکشمیر کو دیکھ لیں اس کی کیا حالت ہے ؟ وہاں پر کتنا ظلم وستم ڈھایا جارہا ہے؟کتنی لاشیں روز اٹھائی جارہی ہیں؟ پاکستان کی جیت پر وہاں پر خون کی ندیاں بہہ جاتی ہیں۔ پاکستان کا نام لینے پر وہاں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی حد یں توڑ دی جاتی ہیں۔ آج میڈیا آزاد ہے اور بڑی دیدہ دلیری سے وہ سب دکھا دیا جاتا ہے جس کا سوچابھی نہیں جاسکتا لیکن اگر کسی کو نظر نہیں آرہا تو صرف کشمیر ہے ، پاکستان کی شہ رگ ہے۔ میں کھلم کھلا کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر اگر مسلمانوں کا نہ ہوتا اور اس میں بسنے والے غیر مسلم ہوتے تو اب تک یہ کب کا آزاد ہوجاتا۔ اگر یہ آزاد نہیں ہورہا تو اس کی وجہ مسلمان ہونا ہے۔بھارت جو ظلم وستم ڈھا رہے اس پر عالمی دنیا خاموش کیوں ہے؟ کہا ں گئی انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ آج ہمارے اسلامی ممالک میں غیر مسلم بڑی دیدہ دلیری سے مداخلت کرکے ان پر اپنی فوجیں تعینات کررہا ہے مگر افسوس ہے کہ ہم مسلمان کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔آج بھی اسلامی ممالک آپس میں اتحاد کی بجائے کفار پر انحصار کررہے ہیں۔
جس جس پہلو سے دیکھا جائے ہماری زندگی کی کوئی کل ٹھیک نہیں ہے۔ غرض معاشرت و معشیت ، تہذیب و تمدن سب کے سب چوپٹ ہوچکے ہیں۔ زندگی کی اس تاریک شب کو صبح نور میں بدلنا ہمارا فرض ہے۔ اس کے نفع و نقصان کے ہم ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو اور کون کرے گا؟ یہ ایک بیڑا ہے جس میں ہم سب سوار ہیں۔ خدانخواستہ یہ ڈوب گیاتو ہم میں سے کوئی نہیں بچے گا۔پاکستان کو ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے تمام اسلامی ممالک کو یکجا کرکے غیر مسلم طاقتوں کے خلاف علم بلند کرنا ہوگا۔
آج ستر سال پورے ہونے پر اپنے رب سے یہی دعا کرتا ہوں کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاکستان کو قائم و دائم رکھے اور اس کو نظر بد سے بچائے۔ اس وطن کی مٹی پر کبھی کوئی آنچ نہ آنے دے۔ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ ہمارے ملک کو کرپٹ لوگوں ، رشوت خوروں اور ملک دشمنوں عناصر سے بچائے رکھے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: