گرما گرم خبریں

تھانہ جاتلی کے علاقہ نتھیہ عالم شیر میں دیرینہ رنجش پر ایک شخص قتل
گوجرخان کی دھرتی کا قرض ہم نے فرض سمجھ کر ادا کیا، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف
سلنڈر کی ری فلنگ کے دوران سلنڈر پھٹ جانے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا
ٹکال میں پل اور رجام رابطہ سڑک کے لیئے سروے مکمل کر لیا گیا
ہاؤسنگ سکیم نمبر1میں نئی سیوریج لائنیں آبادی مکینوں کیلئے وبال جان بن گئی
واپڈا اہلکار نے غریب کی جمع پونجی لوٹ لی
بر ما کے مسلما نو ں پر ظلم ا و ر ز یا د تی ا نسا نی حقو ق کی خلا ف و ر ز ی ہے ،سا ئیں شعبا ن فر ید
مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک کی صورت حال کو بہتری کی جانب گامزن کردیا ہے،ملک تنویر اسلم سیتھی

Archive for: August 11th, 2017

گوجرخان میں نواز شریف کا استقبال،مقامی قیادت وممبران اسمبلی سخت ناراض

گو جر خان(نمائندہ راول نیوز) گو جر خان میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا شا یان شان استقبال نہ ہو نے پر اور انکی ممکنہ نا را ضگی پر مقامی قیادت سخت پر یشان ہے تا ہم کا رکن مقامی قیادت پر خوب تنقید کر رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ کسی اور سے کیا گلہ ممبران اسمبلی کی عدم دلچسپی کے باعث ہمیں یہ دن دیکھنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ گو جر خان سے منتخب ہو نے والے تینوں ممبران اسمبلی را جہ جا وید اخلاص، افتخار احمد وارثی اور شو کت بھٹی نے کا رکنوں کو دہی علاقوں سے لا نے کے لیے کسی سر گر می کا مظاہرہ نہیں کیا اور خود اپنی گا ڑیوں میں تن تنہا استقبالیہ کیمپوں میں پہنچے انکا خیال تھا کہ لو گ خود بخود با ہر نکلیں گے ۔ تا ہم پارٹی کے حامی یوتھ ونگ کے ان حامیوں کے جو ش و جذبہ کو زبردست سرا ہا رہے ہیں جنہوں نے نواز شریف کی تیزی سے جا تی گاڑی کو نہ صرف رکنے پر مجبور کیا بلکہ نواز شریف کو چند فقرے بو لنے پر بھی مجبور کیا ان کا رکنوں میں سر فہرست مبشر حسن اور شیخ احسن تھے ۔نواز شریف کے حامی ان لو گوں کو خوب آ ڑے ہا تھوں لے رہے ہیں جو نواز شریف کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتے نہیں تھکتے مگر وقت آ نے پر کوئی نظر ہی نہیں آ یا ۔

پا رٹی قیا دت حلقہ پی پی فور میں جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے قبول ہے،چو ہدری محمد ریاض 


گو جر خان(نمائندہ راول نیوز) مسلم لیگ ن کے را ہنما اور سابق صو بائی وزیر چو ہدری محمد ریاض نے کہا ہے کہ گو جر خان کے صوبائی حلقہ پی پی 4میں امیدوار کے بارے میں پا رٹی قیا دت جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے قبول ہے راول نیوز سے گفتگو کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ مجھ سے پا رٹی کے اہم را ہنماؤں نے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے کیو نکہ میں نے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر اس حلقہ میں کا میابی دلا ئی ہے اور خود بھی جیتا ہوں مگر ان انتخا بات میں پا رٹی قیاد ت کو سو چ سمجھ کر فیصلہ کر نا ہو گا۔ چو ہدری ریاض نے کہا کہ نواز شریف کو سیکورٹی خدشات کی بنا پر یہاں سے تیزی سے گذرنا پڑا تا ہم انہوں نے میری رہا ئش گاہ کے باہر اپنے پر تپاک خیر مقدم کو سرا ہا اور مجھ سے خو شی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں بر وقت پتہ چل جا تا کہ نواز شریف نے یہاں سے جلدی گذرنا ہے تو انکا ستقبال دیدنی ہو تا ۔

گو جر خان کے عوام نے مو جو دہ حکومت کے خلاف فیصلہ دیدیا ہے،پی ٹی آئی گو جر خان


گو جر خان(نمائندہ راول نیوز) پی ٹی آئی کے را ہنماؤں نے کہا ہے کہ گو جر خان کے عوام نے مو جو دہ حکومت کے خلاف فیصلہ دیدیا ہے۔گوجر خان کی دس لا کھ سے زاید کی آ با دی میں سے پانس سو افراد کا نہ نکلنا اس بات کی دلیل ہے کہ گو جر خان کے لو گوں نے نواز شریف کی نا اہلی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ان خیا لات کا اظہار پی ٹی آئی تحصیل گو جر خان کے صدر اور سابق تحصیل ناظم چو ہدری محمد عظیم نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا اس موقع پر انکے ہمراہ پی ٹی آئی کے دیگر مقامی را ہنما نا یاب خاور ایڈوکیٹ،امین ڈار اور عظمت مغل بھی تھے۔ چو ہدری محمد عظیم نے کہا کہ نواز شریف نے سارے پتے ایک ہی بار کھیل کر اپنا بہت بڑا نقصان کر لیا ہے۔ تیس سال تک پا کستان پر حکمرانی کر نے والوں کو ابھی تک ملکی سیاسی مزاج کی سمجھ نہیں آئی اور آج رو نا رو رہے ہیں کہ فلاں فلاں نے مجھے اقتدار سے نکا لا۔کیا ملک کے سارے ادارے غلط ہیں ایک آپ ہی ٹھیک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو آ نے والے دنوں میں بہت کچھ ہو نا با قی ہے۔

تجاوزات کمیٹی کے چئیرمین را جہ سہیل کیانی کی کا ر کر دگی مثالی ہے، کا مران بن ظہور قریشی 


گو جر خان(نمائندہ راول نیوز) یونین کو نسل ساہنگ کے کو نسلر کا مران بن ظہور قریشی نے کہا ہے کہ بلدیہ گو جر خان کی تجاوزات کمیٹی کے چئیرمین را جہ سہیل کیانی کی کا ر کر دگی مثالی ہے اور اب شہر کی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ گو جر خان میں چئیرمین محمد شاہد صراف اور سہیل کیانی سے ملا قات کے بعد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یوں محسوس یو ں لگ رہا تھا کہ گو جر خان سے تجاوزات کا خاتمہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ بلدہ کے نا اہل اور کر پٹ اہلکاروں کی بدو لت تجاوزات ما فیا بہت مضبوط ہو چکا تھا مگر سہیل کیانی نے چئیرمین شاہد صراف کے ساتھ مل کر پہلے کرپٹ اہلکاروں کو ہٹا یا اور پھر تجا وزات کا اس طرح خا تمہ کیا کہ محسوس تک نہیں ہوا۔ نہ کو ئی ہنگامہ ہوا اور نہ ہی شور و غل ہوا۔ کا مران بن ظہور قریشی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ کا روائیاں جا ری رہیں گی۔

نواز شریف جہلم میں ٹریفک جی ٹی روڈ کے کنارے رو ک دی


گو جر خان(نمائندہ راول نیوز) ہا ئی وے، مو ٹر وے پو لیس نے جمعہ کو علی الصبح سے ہی جہلم کی جانب جا نے والی ہیوی ٹریفک جی ٹی روڈ کے کنارے رو کنا شروع کر دی اور ایک گھنٹہ بعد ہی بڑے ٹرکوں، ٹرالروں اور آئیل ٹینکروں کی لا ئینیں لگ گئیں۔ ٹریفل رو کنے کا سلسلہ مسہ کسوال سے شروع ہوا اور چھنی پل سے آگے تک دراز ہو تا گیا ۔ یہ ٹریفک سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے کی جہلم سے لا ہور کیا جا نب روانہ ہو نے تک رکی رہی تا ہم انکے قافلے کے روانہ ہو نے کے بعد انکو جا نے کی اجازت دی گئی۔

میاں محمد نوازشریف کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں،سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم


ڈھڈیال ( بیورو رپورٹ)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ وہ اپنے قائد میاں محمد نوازشریف کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔ راول نیوز کو دئیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 8اگست کی شام اور 9اگست کو دن گیارہ بجے لاہور روانگی سے قبل پنجاب ہاؤس میں میاں محمد نوازشریف سے ملاقات کی جس میں میاں نوازشریف نے انہیں رائے ونڈمیں ملنے کی دعوت دی ۔انہوں نے کہا کہ وہ میاں نوازشریف کے لاہور پہنچتے ہی ملاقات کیلئے رائیونڈ جائیں گے جس میں ملک کی تارہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اظہار تشکر


ڈھڈیال ( بیورو رپورٹ)مشیر اعلیٰ ایم پی اے ہاؤ س برائے یونین کونسل پادشاہان چوہدری مسرت اقبال نے کہا ہے کہ سینئر پارلیمنٹرین چوہدری لیاقت علی خان کے فرزند چوہدری حیدر سلطان کی جانب سے یونین کونسل کے دیہات کیلئے دئیے گئے80لاکھ کے فنڈز سے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ یونین کونسل میں نامکمل موہڑہ الہو مسوال لنک روڈ، قصبہ ڈورے کی وسطی روڈاور ڈھوک رگ تا افضل کھر لنک روڈ کی تعمیر کیلئے پنجاب ہائی وے نے سروے مکمل کرلیا ہے اور ایم پی اے کے تعاون سے ان تینوں منصوبوں کیلئے بھی80لاکھ سے زائد کے فنڈز فراہم کیے جائیں گے ۔ چوہدری مسرت اقبال نے یونین کونسل پادشاہان کے ترقیاتی منصوبوں میں خصوصی دلچسپی لینے پر چوہدری حیدر سلطان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ دیگر منصوبوں کی تکمیل کیلئے بھی فوری طور پر فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔

قصبہ ڈورے میں نیا ٹرانسفارمر لگا دیا گیا


ڈھڈیال ( بیورو رپورٹ)ممبرقومی اسمبلی میجر(ر) طاہرا قبال کی خصوصی دلچسپی سے قصبہ ڈورے کے محلہ شمالی میں ہنگامی بنیادوں پر نئے ٹرانسفارمر جو کہ مرمت شدہ تھا شدید گرمی کے باعث لوڈ برداشت نہ کرنے کے باعث ناکارہ ہوگیاجس سے آبادی کا ایک بڑا حصہ بجلی سے محروم ہوگیا ۔ ٹرانسفارمر ناکارہ ہونے کے بارے میں ممبر قومی اسمبلی میجر(ر) طاہر اقبال سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے ایس ای واپڈا کو ہنگامی بنیادوں پر قصبہ میں ٹرانسفارمر کی تنصیب کیلئے ہدایت کی جس کے بعد راولپنڈی سے 100کے وی کا نیا ٹرانسفارمر منگواکر قصبہ کو بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ۔ علاوہ ازیں ایم این اے بیگم عفت لیاقت علی خان نے بھی واپڈا حکام کو ٹرانسفارمر کی تنصیب کیلئے ٹیلی فون کیا ۔ا ہل دیہہ نے نئے ٹرانسفارمر کی بروقت اور فوری تنصیب میں خصوصی دلچسپی لینے پر میجر (ر) طاہر اقبال اور بیگم عفت لیاقت علی خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

نواز شریف کا استقبال، لیگی قیادت نے بظاہر کوئی دلچسپی نہ دکھائی


گوجرخان (تحصیل رپورٹر) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا جی ٹی روڈ لاہور سفر ، گوجرخان میں مسلم لیگیوں کا استقبال اور تیاریوں کے حوالہ سے دلچسپ صورتحال رہی، ن لیگ کے ارکان اسمبلی اور مقامی لیگی قیادت نے بظاہر کوئی دلچسپی نہ دکھائی جس کے باعث استقبال میں جوش و خروش اور افراد کی تعداد بھی نمایاں نہ ہوئی، بدھ کے روز جی ٹی روڈ پر آنے والی ریلیاں ٹولیوں میں تبدیل ہوگئیں ، بلدیہ ملازمین نے بھی شرکت کر کے رونق بخشی، مقامی ایم پی اے افتخار وارثی نے بھی اپنی علاقے سے کوئی خاطر خواہ جلوس نہ لاسکے، جاوید اخلاص، راجہ علی اصغر کی ریلی میں شریک ہوکر قیادت کرنے کے بعد مندرہ ٹال پلازہ جاپہنچے، چیئرمین بلدیہ اور ن لیگ کے کئی سٹی کونسلروں نے بھی جی ٹی روڈ سے ریلی گزاری ، جمعرات کے روز نواز شریف کا گوجرخان پہنچنے پر استقبال بھی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں نہ آیا، مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی ناقص حکمت عملی کے باعث خاطر خواہ استقبال نہ ہوسکا، اسی لحاظ سے چکوال کے ارکان اسمبلی اور مسلم لیگیوں کے مندرہ چکوال موڑ پر جلوس اور افراد کی تعداد کو دیکھا جائے تو انہوں نے صحیح معنوں میں لوگوں کو استقبال کیلئے لایا جہاں پر خاص تعداد موجود تھی، گوجرخان میں نواز شریف کا استقبال اور نواز شریف کی طرف سے بھی کوئی خاص لفٹ نہ کرانے پر مقامی سیاسی حلقوں میں معاملہ زیربحث ہے کہ جی ٹی روڈ پر مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر اور کاروان گزرتے ہیں تو گوجرخان میں ہونے والے استقبال لوگوں کی آمد کو عرصہ دراز یاد رکھا جاتاہے لیکن نواز شریف کے استقبال کے حوالہ سے جو منظر سامنے آیا وہ نواز شریف اور گوجرخان کے مسلم لیگیوں کو بھی یاد دلاتارہے گا

 

ریلی کے گوجرانوالہ تا لاہور جی ٹی روڈ سفر کے دوران ٹریفک ڈائیورزن پلان کا اجراء کر دیا گیا


اسلام آباد ( نمائندہ راول نیوز) موٹروے پولیس N-5 نارتھ زون کی طرف سے ریلی کے گوجرانوالہ تا لاہور جی ٹی روڈ سفر کے دوران ٹریفک ڈائیورزن پلان کا اجراء کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا کہ مورخہ ۱۲ اگست 2017 گوجرانوالہ سے لاہور جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ سے کالا شاہ کاکو تک بہت زیادہ تعداد میں چھوٹے بڑے جلوس اور ریلیاں گزرنے کا امکان ہے ۔ جس کی وجہ سے ٹریفک کا بہاؤ معمول سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ ۔ لہذا عوام سے التماس ہے کہ گجرانوالہ تا لاہور جی ٹی روڈ پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ کسی قسم کی ناخوشگوار صورت حال سے بچا جا سکے۔ راولپنڈی سے گوجرانوالہ جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بہاؤ معمول کے مطابق ہو گااورجی ٹی روڈ ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی۔ راولپنڈی سے لاہور اور لاہور سے راولپنڈی جانیوالی ٹریفک موٹروے کا استعمال کرے جبکہ راولپنڈی سے گوجرانوالہ تک جانے کے لیے جی ٹی روڈ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا ہے کہ کالا شاہ کاکو سے جی ٹی روڈ کی ٹریفک کو موٹروے کی جانب موڑ دیا جائے گا ۔ گوجرانوالہ جانے والی ٹریفک کو ناروواال چوک سے گوجرانوالہ کے لیے اور راولپنڈی اسلام آباد جانے والی ٹریفک کو شیخوپورہ کے لیے موڑ دیا جائے گا جہاں سے وہ موٹروے جوائن کر سکیں گے ۔ ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا کہ چن دا قلعہ بائی پاس سے ٹریفک کو گوجرانوالہ شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جن کو جی ٹی روڈ پر اعوان چوک سے گوجرانوالہ شہر میں ڈایؤرٹ کر دیا جائے گا۔ ترجمان موٹروے پولیس نے روڈ یوزرز سے کہا کہ ٹریفک کو روانی کے ساتھ متبال روٹس پر رواں رکھنے کے لئے عوام موٹروے پولیس کے ساتھ تعاون کریں ۔ سفرشروع کرنے سے پہلے ٹریفک پلان سے متعلق موٹروے پولیس ہیلپ لائن (130)پر رابطہ کریں تاکہ سفر کے دوران کسی قسم کے ٹریفک مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید موٹروے پولیس افسران کو ہدایات د ی گئی ہیں کہ موٹرویز سفر کرنیوالوں کی حفاظت کیلئے تمام انتظامات احسن طریقے سے کئے جائیں تا کہ عوام اپنے آپ کومکمل طورپر محفوظ تصور کریں

پولیس کی منشیات فروشوں اورناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی 


راولپنڈی (نمائندہ راول نیوز) راولپنڈی پولیس نے منشیات فروشوں اورناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے08ملزمان کو گرفتارکر کے ان کے قبضہ سے1520گرام چرس،05لیٹر کھلی شراب،03پستول 30بور معہ11روند،01عدد ریوالور32بور معہ02روند برآمد کر کے ملزما ن کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے۔تفصیلات کے مطابق تھانہ گنجمنڈی پولیس نے خرم سے1520گرام چرس، عادل سے05لیٹر کھلی شراب، تھانہ صدر بیرونی پولیس نے عبداللہ سے01عدد پستول30بور معہ03روند، تھانہ کلرسیداں پولیس نے عمران سے01عدد پستول30بور معہ03روند، تھانہ وارث خان پولیس نے عمران سے 01عدد پستول30بور معہ05روند، تھانہ روات پولیس نے عبدالرحمن سے 01عدد ریوالور32بور معہ02روند،تھانہ نصیر آباد پولیس نے شاہد سے50پتنگیں معہ02ڈوریں جبکہ نجیب اللہ کو غیر قانونی طور پر گیس ری فلنگ کرتے ہوئے قابوکرکے اس کے قبضہ آلات ری فلنگ برآمد کرکے ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے

ہم سب کی پہچان’’ پاکستان‘‘ 

Read more

چودہ اگست۔۔۔یوم قیام پاکستان

تحریر: مرزا روحیل بیگ
چودہ اگست 1947 وہ دن ہے جس دن آگ و خون کی ایک وادی سے گزر کر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بے مثال قربانیوں کے بعد اپنے لیئے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے نہ صرف انگریز راج کو شکست دی بلکہ کانگریس،نیشنلسٹ مسلمانوں اور علمائکرام کی مضبوط جماعت بھی ان کے مد مقابل تھی۔ تاہم مسلمانوں کی فتح ہوئی اور پاکستان مسلم ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن عوام پاکستانی پرچم کو فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔اور سارے فساد کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی۔مسلمانوں کی املاک اور جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ان کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔مسلمانوں کے لیئے سرکاری ملازمتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔مسلمانوں کو سیاسی تنہائی کا شکار بنایا گیا۔ان حالات میں سر سید احمد خاں نے مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کا بیڑہ اٹھایا۔اور علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی،سماجی اور معاشی حالت میں بہتری لانا تھا۔سر سید احمد خاں ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو قومیں سمجھتیتھے۔سر سید احمد خاں کے اس قومی نظریے کی سیاسی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے رکھی۔علامہ اقبال کی آواز قوم مذہب سے ہے نے مسلمانوں کے شعور کو جلا بخشی۔قائد اعظم نے اس نظریے کو سیاسی طور پر اتنے مضبوط طریقے سے پیش کیا کہ انگریزوں کو پاکستان کے مطالبے کے سامنے ہار ماننا پڑی۔قائداعظم نے فرمایا کہ مسلمان اقلیت نہیں وہ قوم کی ہر تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں۔قائد نے فرمایا کہ ہندوستان کبھی ایک ملک نہیں رہا اور نہ اس کے رہنے والے ایک قوم۔ان حالات میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیئے 30 دسمبر 1906 میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔1928 میں نہرو رپورٹ پیش کی گئی جس پر اگر عمل ہوتا تو مسلمانوں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔نہرو رپورٹ کے جواب میں قائداعظم محمد علی جناح نے 1929 میں گیارہ نکات پیش کیئے۔1930 میں علامہ اقبال نے الگ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔23 مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔اس قرارداد نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔اس جدوجہد کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام وجود میں آیا۔تقسیم ہند کے وقت جو ظلم و ستم ہندوستانی سرکار کی زیر سرپرستی مسلمانوں پر ڈھائے گئے اس کی نظیر ملنا محال ہے۔ ہندوؤں کو کئی ماہ پہلے علم تھا کہ پاکستان ضرور بنے گا۔14 اگست 1947 کے ساتھ ہی مسلمانوں سے نفرت اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی۔اور ان کو کہا جانے لگا کہ مسلمانو تمہارا نیا وطن بن گیا ہے ہندوستان سے چلے جاؤ۔مسلمان اپنا جتنا اثاثہ ساتھ لا سکتے تھے وہ بیل گاڑیوں اور دوسری سواریوں پر لاد کر بچوں اور عورتوں کو سواریوں پر بٹھا کر اور آنکھوں میں نئے وطن کے خواب سجا کر رواں دواں ہو گئے۔ راستے میں مسلح ہندو برچھیاں،کرپانیں اور تلواریں ہاتھوں میں لیئے معصوم اور نہتے مسلمانوں کو تہ تیغ کرتے۔جن مسلمانوں نے بذریعہ ریل نقل مکانی کی ان کے ریلوے اسٹیشنز پر ٹرینوں کو روک کر قتل و غارت شروع کر دیتے اور جب گاڑیاں لاہور پہنچتیں تو بوگیاں خون سے بھری ہوتیں۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کا لہو خول اٹھتا اور دونوں اطراف سے قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے سیاستدان یہ کہنے لگے کہ پاکستان چل نہیں سکے گا۔یہ نوزائیدہ مملکت ہے۔ہندوستانی سیاستدان یہ کہنے میں حق بجانب تھے کیونکہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں جو کچھ آیا تھا وہ کسی طور بھی ایک نئی مملکت کو قائم رکھنے کے لیئے کافی نہیں تھا۔ہندوستان کی بیوروکریسی انگریزوں اور ہندوؤں پر مشتمل تھی۔اور جو پڑھے لکھے مسلمان تھے ان کا تعلق ایسے علاقوں سے تھا جو پاکستان کا حصہ نہیں بنے تھے۔ایسے حالات میں ایک نئی مملکت کا چلنا محال دکھائی دیتا تھا۔اس حوالے سے ہندوستانی خواہشات پوری نہ ہو سکیں اور پاکستان آگے بڑھتا رہا۔آج پاکستان ایک اہم ایٹمی ملک ہونے کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر جگمگا رہا ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا وہ آج ہمیں نظر نہیں آتا۔اس وقت ہم ذات،پات اور لسانی گروہوں کی بجائے ایک ملت تھے۔جو کلم? طیبہ کی بنیاد پر اکھٹے ہوئے تھے۔کلم? طیبہ کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمان اکٹھے ہوئے جس کے باعث ہمیں الگ وطن ملا۔لیکن آج وہ جذبہ ہم میں موجود نہیں۔آج ہم ذات،پات اور لسانی گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔ مگر آج ہم اسلام کے تابندہ اور روشن اصولوں سے منہ موڑ چکے ہیں۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں نے صرف اللہ کے نام پر اپنے گھر بار، جائیدادیں چھوڑیں۔ہزاروں لوگ شہید ہوئے صرف اس لیئے کہ ایک ایسا خطہ زمین حاصل کیا جائے جس کو اسلام کے اصولوں کی تجربہ گاہ بنایا جا سکے۔1947 سے پہلے ہم ایک قوم تھے جس کو ملک کی ضرورت تھی۔مگر افسوس آج ہمارے پاس وطن تو ہے مگر ہمیں ایک قوم کی ضرورت ہے۔آج ہم پاکستانی کہلانے کی بجائے بلوچی،سندھی،پنجابی اور مہاجر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ عوام اپنے حکمرانوں، سیاستدانوں،جرنیلوں،بیوروکریٹس اور صنعتکاروں سے قائد اعظم کا پاکستان مانگتی ہے۔جہاں فیصلے عام لوگوں کی بھلائی کے لیئے ہوں۔ جہاں قانون کی پاسداری ہو۔ جہاں امیر اور غریب کے لیئے یکساں قانون ہو۔پاکستان اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے 27 رمضان المبارک کو ایک الگ وطن بن کر دنیا کے نقشے پر ظہور پزیر ہوا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی قدر کریں اور شکر ادا کریں۔اور دعا ہے کہ جس پاکستان کا خواب قائداعظم اور حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا اس کو شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دیکھ سکیں۔آمین

error: