گرما گرم خبریں

نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی

Archive for: April 16th, 2018

گوجرخان کو ضلع بناکر دم لیں گے،چوہدری محمد عظیم،چوہدری ساجد محمود،راجہ طارق عزیز بھٹی


دولتالہ(نامہ نگار)حکمرانوں نے تحصیل گوجرخان کے عوام سے کئے گئے وعدے وفا نہیں کئے،پانچ سال گزرنے کے بعد بھی تحصیل گوجرخان کے عوام ضلع بننے کے منتظر ،پوٹھوہار یونیورسٹی کا قیام بھی اب تک خواب ہی ہے جبکہ ٹراما سینٹر کو فعال نہ کرکے صحت کی سہولیات سے بھی محروم رکھا ہے ،عوام جھوٹے وعدے کرنے اور سبز باغ دکھانے والوں کی انتخابات میں ضمانیتیں ضبط کردیں،اگر قصور ،لیہ ،چکوال اور میاں چنوں کو ضلع بنایا جا سکتا ہے تو گوجرخان ان علاقوں سے زیادہ حقدار ہے ،ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری محمد عظیم ،چوہدری ساجد محمود،راجہ طارق عزیز بھٹی ،پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالرحمن مرزا،سید شجر عباس اور دیگر نے دولتالہ میں چوہدری ساجد محمود کی رہائش گاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں موجودہ حکمرانوں نے گوجرخان میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ اگر تحصیل گوجرخان کے عوام تینوں نشستیں مسلم لیگ ن کو دیں گے تو تین بڑے پراجیکٹ گوجرخان کو ضلع ،پوٹھوہار یونیورسٹی کا قیام اور ٹراما سینٹر کو فعال کردیا جائے گامگر حکومت کی مدت پوری ہونے کو ہے اور حکمرانوں کے وعدے وفا ہونے کی کوئی امید نہیں ہے ،پاکستان تحریک انصاف گوجرخان کو ضلع بنانے کیلئے بھرپور جدوجہد کرے گی اور اگر عوام نے موقع دیا تو کامیابی کے بعد گوجرخان کو ضلع بناکر دم لیں گے ،مقررین کا دوران خطاب کہنا تھا کہ پوٹھوہار یونیورسٹی کے مختص جگہ پر یونیورسٹی بنانے کی بجائے آشیانہ ہاوسنگ سکیم بنا کر عوام کو جہالت کے اندھیروں کو پھینکنے کی کوشش کی گئی تھی جسے تحریک انصاف گوجرخان نے جدوجہد کرکے ناکام بنادیا ،مقررین کا مزید کہنا تھا کہ قانونگو حلقہ سکھو کی پانچ یونین کونسلوں کو حلقہ پی پی 10میں شامل کرکے تحصیل گوجرخان کے عوام سے ایک اور بڑی زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی جس کے کیخلاف بھی تحریک انصاف گوجرخان نے بھرپور جدوجہد کی اور اسے واپس تحصیل گوجرخان کا حصہ بنوایا گیا جبکہ حکمران جماعت نے اس پر بھی خاموشی اختیار کئے رکھی ،اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما رب نواز قریشی ،چیئرمین دیوی شبیر حسین ،سید نذیر حسین شاہ،حاجی راجہ لیاقت علی ،علاؤالدین قریشی ،چوہدری زاہد محمود سمیت بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکنان شریک تھے

کھیلیں قومی ثقافت کی آئینہ دار ہیں، چوہدری محمد ریاض

دولتالہ(نامہ نگار)کھیلیں ہماری روایات کا حصہ اور ثقافت کو پروان چڑھانے کا اہم ذریعہ ہیں ، کھیلیں قومی ثقافت کی آئینہ دار ہیں ، نوجو انوں کو صحت مند بنانے کیلئے صحت مند مشاغل کی طرف راغب کرنا ہو گا ایک صحت مند جسم ہی ایک صحت مند دماغ پروان چڑھتا ہے کھیل ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ کھیل ہمارے جسم چستی،پھرتی اور قائدانہ صلاحتیں پیدا کرتی ہے اس لئے کھیل کو روح کی غذا کہا جاتا ہے کھیل میں جسم کی ذہنی ،جسمانی مشقت ہوتی ہے اس لئے خون کی آمدورفت ،دوران خون اور نظام انہضام میں بہتری ہوتی ہے کھیل سے انسانی جسم میں قوت حافظہ،قوت برداشت،طاقت او ر اعضاء کی مضبوطی ہوتی ہے خطہ پوٹھوہار میں کبڈی ،بگدڑ اکھاڑہ ہماری ثقافت ہیں ان خیالات کا اظہارمسلم لیگ(ن)کے رہنماو سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد ریاض، تحریک انصاف کے رہنما چوہدری ساجد محمود نے تراٹی میں اکھاڑہ بگدڑ کے مقابلوں کے موقع خطاب کرتے ہوئے کیایو نین کونسل آہدی کے علاقہ ڈہونگ تراٹی چوک میں معروف شخصیت میاں محمد اشرف مرحوم کی خصوصی یاد میں شاندار اکھاڑا بگدر کا میلہ سجایا گیا،جس میں پہلوان اجمل میاں نے172کلو وزنی پتھر اٹھا کر ریکارڈ قائم کر دیاجس میں پنجاب بھر کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا،ریکارڈ ہولڈر میاں اجمل پہلوان نے چارمن بارہ کلو کا پتھر اٹھا کر جیت کا سہرا اپنے سر سجا لیا،بہترین کھیل کا مظاہرہ کر نے والے کھلاڑیوں میں مہمان خصوصی سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد ریاض، تحریک انصاف کے رہنما چوہدری ساجد محمود،چیئرمین یونین کونسل نڑالی شیخ طاہر اشفاق،راجہ عامر سعید اور راجہ کاشف نے انعامات تقسیم کئے اس موقع پرپیر محمد شاہ صاحب آستانہ عالیہ چھبر شریف ،میاں مسعود،جنرل کو نسلر راجہ سجاد کیانی ،ناصر جنجوعہ نے خصوصی شرکت کی

مسلم لیگ ن ضلع چکوال میں بدترین اندرونی کشمکش اور انتشار کا شکار ہے


ڈھڈیال( ریاض بٹ)مسلم لیگ ن ضلع چکوال میں بدترین اندرونی کشمکش اور انتشار کا شکار ہے اور موجودہ دھڑے بندی کے خاتمہ کے بھی کو ئی آثارنظر نہیں آرہے۔مسلم لیگ ن میں موجودہ انتشار خود پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا پیداکردہ ہے جنہوں نے پارٹی کے تمام پارلیمنٹرین اور کارکنوں کی واضح مخالفت اور تحفظات کو نظر انداز کرکے سردار غلام عباس کو مسلم لیگ ن میں انٹری دی ۔ سردار غلا م عباس کے بارے میں پی ٹی آئی کے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مناسب وقت پر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کریں گے لیکن اب انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اپنے تازہ ترین بیان میں کہاہے کہ وہ سیاست چھوڑ دیں گے لیکن پارٹی نہیں چھوڑیں گے ۔سردار غلام عباس کے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک بیان اوراس نئے بیان کو مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرین نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرین زمینی حقائق ، کارکنوں کے جذبات اور حلقہ میں مذہبی اثر ورسوخ سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ پی پی21اور پی پی 22 کے متوقع امیدوار اعلیٰ قیادت پر واضح کرچکے ہیں کہ سردار غلام عباس کو ان کے اپنے حلقہ میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔ ایم این اے بیگم عفت لیاقت علی خان کے سردار ان چکوال کیلئے جذبات ڈھکے چھپے نہیں۔ حلقہ این اے 64میں جب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کیلئے بات ہوگی تو اس وقت بیگم عفت لیاقت علی خان سرداران چکوال کے خلاف فرنٹ لائن پر ہوں گی۔اعلیٰ لیگی ذرائع میجر(ر) طاہر اقبال کو ٹکٹ کنفرم کر چکے ہیں ۔ سردار غلام عباس کو ضلع چکوال میں کیسے اور کس طرح ایڈجسٹ کرے گی اس بارے میں اعلیٰ قیادت ہی کوئی فارمولا رکھتی ہوگی۔ سردار غلام عباس کا یہ بیان کہ تمام لیگی رہنماؤں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ اس وقت سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم ، بیگم عفت لیاقت علی خان ،سردار ممتازٹمن ، سردار ذوالفقار دلہہ اور میجر (ر) طاہر اقبال یکساں خیالات رکھتے ہیں اور ان میں سردار ان چکوال کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں۔ اگر تمام لیگی رہنما ایک پیج پر بھی آجائیں تو کارکنان کا ایک پیج پر آنا کسی صورت میں بھی ممکن نہیں۔حلقہ میں سردار ،اینٹی سردار دھڑے بندی قائم رہے گی اسے ختم کرنا ان سیاسی رہنماؤں کے بس میں نہیں۔ حلقہ این اے 64میں مسلم لیگی رہنماؤں پر پارٹی کی سرکردہ شخصیات اور کارکنوں نے واضح کردیاہے وہ ہمارے جذبات سے اعلیٰ قیادت کو آگاہ کریں۔ پارٹی رہنما تو اعلیٰ قیادت کے فیصلوں کے پابند ہیں لیکن ہم پابند نہیں۔ذرائع نے بتا یا ہے کہ میجرجنرل( ر) حافظ مسروراحمد اس صورت میں الیکشن لڑیں گے جب سردار غلام عباس پی ٹی آئی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کریں گے ۔ پی ٹی آئی میں سردار غلام عباس کے شامل نہ ہونے کی صورت میں میجرجنرل(ر) حافظ مسروراحمد میجر(ر) طاہر اقبال کے مقابلے میں الیکشن نہیں لڑیں گے ۔ پی ٹی آئی نے چوہدری ایازا میر کا آپشن کھلا رکھا ہے حلقہ این اے 64میں سردار غلام عباس کا مسلم لیگ ن کے امیدوار ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی چوہدری ایازامیر کو ان کے مقابلے میں لائے گی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ضلع میں تمام سردار مخالف قوتیں ایک نکتے پر متفق ہیں کہ وہ جس سیاسی پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میںآئیں گے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ موجودہ صورت حال میں سردار غلام عباس خو د شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پارٹی چھوڑ کر اور پارٹی میں رہ کر بھی انہیں اپنے دھڑے کو مطمئن کرنا کچھ آسان کام نہیں۔ سردا رگروپ کے حامی بھی مسلم لیگ ن میں سیاسی اور نظریاتی طور پر خود کو ایڈجسٹ نہیں کرپارہے جبکہ مسلم لیگی کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ31 سال تک مسلم لیگ ن کی مخالفت کرنے والوں کو ٹکٹ سے نوازدیا جائے۔ نظریاتی کارکنان کہتے ہیں کہ کیا پارٹی 31 سال تک مسلم لیگ ن کی مخالفت کرنے کی صلہ میں سردار غلام عباس کو ٹکٹ دے گی ۔ حالیہ الیکشن سردار غلام عباس کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔انہیں خود کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے سرخرو کرنا ہے اور اپنے دھڑے کو بھی منتشر ہونے سے بچانا ہے جس میں اکثریت اینٹی مسلم لیگ ن کارکنان کی ہے۔سردار غلام عباس کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملنے کی صور ت میں اپنے دھڑے کے لوگوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے اور ٹکٹ ملنے کی صورت میں مسلم لیگ ن کے نظریاتی کارکنان اور مذہبی جماعتیں خم ٹھونگ کر ان کے مقابلے میں ہوں گی ۔ امید کی جارہی ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں حلقہ پی پی21کے سلطان چوہدری حیدر سلطان اور شہنشاہ شاہ سوری ملک تنویر اسلم سیتھی کا واضح موقف سامنے آجائے گاجس سے حلقہ این اے 64کی سیاسی سمت کا تعین ہو جائے گا

راجہ بابر کیانی یو بی ایل دولتالہ برانچ کے منیجر تعینات ہو گئے


دولتالہ(نامہ نگار)راجہ بابر کیانی یو بی ایل دولتالہ برانچ کے منیجر تعینات ہو گئے ،عوامی سماجی حلقوں نے ان کی تعینات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے

error: