گرما گرم خبریں

ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج

Archive for: April 18th, 2018

تحصیل گوجرخان کا مقدمہ (حقیقت یہ ہے


چند روز قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں مرتب کی گئیں جس میں پنجاب کی سب بڑی تحصیل گوجرخان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تحصیل گوجرخان کی حکمران سیاسی قیادت نے کسی رد عمل کا اظہار نہ کیاخاموش تماشائی کی حیثیت سے تمام حالات واقعات کا جائزہ لینے اور آئندہ قومی الیکشن میں حکمت عملی طے کرنے میں لگے رہے تا ہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملے جلے رد عمل کے اظہار کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کا اعادہ کیا گیا اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے قائدین چوہدری محمد عظیم اور ساجد محمود کی جانب سے چوہدری عفان افتخار ایڈووکیٹ ،سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی جانب سے ملک قمر زمان ایڈوکیٹ جب کہ سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد ریاض کی جانب سے بھی گوجرخان کی نئی حلقہ بندیوں کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی متعلقہ کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ،اور چوہدری محمد ریاض عدالت میں حاضر رہے جب کہ پی ٹی آئی کی قیادت کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود نہ تھی تا ہم ان کے وکیل چوہدری عفان افتخار کے مضبوط دلائل کے باعث سکھو قانون گوئی جو کہ تقریبا70ہزار آبادی پر مشتمل ہے کو واپس حلقہ پی پی9میں شامل کر دیا گیا چوہدری عفان افتخار نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کا آگاہ کیا کہ سکھو قانون گوئی حلقہ قیام پاکستان سے قبل بھی گوجرخان کا حصہ تھا اور جب کہ اب سکھو کو جس علاقے کامیں سکھو کے باسیوں کو شامل کیا گیا وہاں کے علاقے کے باسیوں کا رہن سہن اور زبان میں فرق ہے جغرافیائی حدود کے حوالے سے بھی نہ صرف سکھو بلکہ قانون گو حلقہ سکھو کے باسیوں کا حق بنتا ہے کہ وہ اسی حلقے میں رہیں جہاں وہ پہلے تھے اس موقع پر کمرہ عدالت میں معزز جج نے بذریعہ نقشہ تحصیل گوجرخان کی جغرافیائی حدود کا بغور ملاحظہ کیا چوہدری عفان افتخار کی جانب سے دیے گئے دلائل پر پٹیشن پر بحث کرنے کے لیے دیگر سیاسی قائدین کی جانب سے کمرہ عدالت میں موجود وکلاء نے اتفاق کیا بعد ازاں معزز جج نے فیصلہ سنایا کہ سکھو قانون گو حلقہ کو واپس سابقہ پوزیشن پر بحال کیا جائے چوہدری عفان افتخار ایڈوکیٹ منجھے ہوئے وکیل اور اپنی دھرتی سے بے لوث محبت اور پیار کرنے والی منجھی ہوئی شخصیت ہیں غربی گوجرخان کے علاقے آدڑہ عثمان زادہ سے رکھنے والی اس ہمہ جہت شخصیت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوجرخان کی دھرتی ہماری ماں دھرتی ہیں اور اس کو ٹکڑوں میں تقسیم دیکھ کر حقیقی معنوں میں دل خون کے آنسو رو رہا تھا ان کا کہنا تھا کہ کمرہ عدالت میں میرے دلائل میرے دل کی آوازتھے انہوں نے کہا کہ تحصیل گوجرخان کی آبادی تقریبا8لاکھ کے قریب ہے جب کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے تقریبا ساڑھے تین لاکھ آبادی درکار ہوتی ہے متعلقہ پٹیشن پر زور دار بحث اور مضبوط دلائل پر کمرہ عدالت میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بھی چوہدری عفان افتخار کی قابلیت پر داد تحسین پیش کی گئی ایسے مخلص لوگ کسی بھی دھرتی کا سرمایہ ہوتے ہیں تحصیل گوجرخان کی نئی حلقہ بندیوں بارے مختلف افواہوں کی گردش دوران کے تھمنے کے لیے کوشش کی گئی ہے کہ تمام حقائق اور واقعات کو اہلیان گوجرخان کے سامنے رکھا جائے تا ہم اگر اس بارے کوئی بھی دیگر سیاسی جماعت یا قائدین مزید معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے صفحات ان کے لیے بھی حاضر ہیں

راجہ طیب قریشی کو عمرہ کی ادائیگی پر مبارکباد

دولتالہ (نامہ نگار)پرسنل سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص راجہ طیب قریشی کو عمرہ کی ادائیگی پر مبارکباد تفصیلات کے مطابق راجہ طیب قریشی کو عمرہ کی ادائیگی پر سید منور نقوی ، عابد چوہدری ، ملک تصور حسین، نوید افسر راجہ ، راجہ حاجی احمد ، اشفاق انجم اور مرزا مسعود انجم نے مبارکباد پیش کی

نثار عباس کا اعزاز

دولتالہ (نامہ نگار)ضلع راولپنڈی،تحصیل گوجرخان،یونین کونسل راماں کے گاو?ں راماں کے رہائشی نثار عباس ولد مظفر حسین نے 2017 کے بی۔ایس۔سی سول انجینرنگ کے امتحان میں سویڈیش انجینیرنگ کالج واہ کینٹ،جس کا الحاق یونیورسٹی آف انجینرنگ ٹیکسلا سے ہے،3.91/4 CGPA لے کر ٹاپ کیا ہے۔13 اپریل 2018 کو یونیورسٹی نے ایک شاندار تقریب کے دوران ان کو گولڈ میڈل سے نوازا۔وہ قطر سے صرف مختصر دورے پر گولڈ میڈل وصول کرنے کے لیے پاکستان آئے۔۔انہوں نے اپنی اس کامیابی کو اللہ کی خاص مہربانی،والدین کی دعاو?ں،اور اساتذہ کرام کی محنت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

error: