گرما گرم خبریں

ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا

Archive for: June 6th, 2018

ن لیگ کی مقامی قیادت کے لئے لمحہء فکریہ۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔طارق نجمی

گزشتہ چند ہفتوں سے جس تواتر سے ن لیگ کے پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے یو سی کونسلرز اور یوسی چیئرمین حضرات اپنی پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کو اور خصوصی طور پر پی ٹی آئی کو جوائن کر رہےہیں، ن لیگ کی مقامی قیادت کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔۔۔
ویسے تو اس بات کے کئی محرکات ہوں گے لیکن جو باتیں سامنے ہیں ان میں محترم نواز شریف صاحب کا اپنے قریبی ساتھیوں سمیت سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل ہونا اور ن لیگ کی صفوں میں اندرونی انتشار اہم اسباب ہیں۔۔
گو کہ سیاسی تجزیہ نگار اب بھی آئندہ الیکشن میں ن لیگ کو ہی فاتح قرار دے رہے ہیں لیکن اب شاید ایسا نہ ہو سکے۔۔ن لیگ کا گراف نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملکی سطح پر بھی نیچے آ چکا ہے۔
ن لیگ کے ایم این اے راجہ جاوید اخلاص صاحب کو اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں سے جو سیاسی دھچکہ لگا ہے اس کے بہت دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔۔۔
راجہ جاوید اخلاص صاحب اور دوسرے سینئر لیڈروں کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے اور ان محرکات کا جائزہ لینا چاہیے جن کی بنا پر ن لیگ کے منتخب بلدیاتی ساتھی پت جھڑ کے پتوں کی طرح ان سے جدا ہو رہے ہیں ۔۔۔
جہاں تک ترقیاتی پروجیکٹس کا تعلق ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ راجہ صاحب نے اپنے دور اقتدار میں اپنے حلقے میں بہت زیادہ کام کروائے ہیں اور یہ صورت حال تقریبا تمام یوسی حلقوں میں ہے لیکن اس بات کا کریڈٹ اس الیکشن میں ملنا مشکل نظر آ رہا ہے ۔
اگر بالکل غیرجانبدار ہو کر اس پورے معاملے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ اس عرصے میں راجہ صاحب سے کچھ سیاسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنے ورکرز کو کافی حد تک نظرانداز کیا ہے اور صرف اپنے مخصوص لوگوں سے ہی رابطے میں رہے ہیں۔ جو فراغت کا وقت انہیں اپنے حلقے میں اپنے ووٹرز کو دینا چاہیے تھا اس میں انہوں نےاپنے پسندیدہ لوگوں کے پاس ہی بیٹھے رہنےکو ترجیح دی۔۔۔
جس انداز سے الیکشن کے دنوں میں وہ ہر جنازہ، تعزیت اور ولیمہ وغیرہ نپٹاتے ہیں ، منتخب ہوتے ہی وہ اپنی روٹین بھول جاتے ہیں۔۔۔۔اب اس کا نتیجہ سامنے آ سکتا ہے ۔

میرے خیال میں صحت کے حوالے سے بھی راجہ جاوید اخلاص صاحب کا یہ آخری الیکشن ہو سکتا ہے کیونکہ ان کو کچھ ایسے عارضے لاحق ہیں کہ انہیں شاید آرام کی زیادہ ضرورت ہے ۔۔ویسے بھی عرصہ دراز سے اس پرخار دشت کی دشت پیمائی کرتے کرتے اب وہ تھکے تھکے سے لگتے ہیں اور متعدد موقعوں پر وہ اپنا زیادہ وقت اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ گذارنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
راجہ صاحب کو اس الیکشن میں ایک نئی سٹریٹیجی کے ساتھ میدان میں اترنا پڑے گا کیونکہ اس دفعہ ان کا مقابلہ کسی ایک سے نہیں بلکہ کئی لوگوں سے ہو گا۔
اگر اس الیکشن میں وہ کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں اپنا ٹینیور ایک نئے انداز سے گذارنا پڑے گا اور اپنی عوام میں گھل مل کر رہنا پڑے گا تاکہ بعد میں عرصہ دراز تک ان کو یاد رکھا جائے۔

error: