گرما گرم خبریں

منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،بدنام زمانہ منشیات فروش آصف عرف آصو بٹ ساتھیوں سمیت گرفتار
حکومتی دعوے دھرے کے دھرے، سحرو افطار میں لوڈشیڈنگ ،عوام بلبلا اُٹھے ، حکومت کو بددعائیں
شہیدوں اور غازیوں کی دھرتی کا ایک اور سپوت شہادت کا درجہ پا گیا
واپڈا اِن ایکشن، عدم ادائیگی بل کی بناء پر پاسپورٹ آفس گوجرخان کابجلی کنکشن کاٹ دیا گیا، عوام ذلیل و خوار
گوجرخان : الیکشن کمیشن میں زیرسماعت جعلی ڈگری کیس میں لیگی ایم پی اے حلقہ پی پی فور راجہ شوکت عزیز بھٹی نااہل
گلیانہ موڑ گوجرخان موٹرسائیکل ورکشاپ میں آتشزدگی،سامان جل کر خاکستر ہوگیا
سو کے وی کا ٹرانسفارمر نہیں لگ رہا ،واپڈا چیئرمین ،ایس ڈی او اور ایکسین کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر
گو جر خان میں اندھیر نگری چوپٹ راج، سٹریٹ لائٹس خراب، پانی کی شدید کمی، تجاوزات کی بھرمار ، گندگی کے ڈھیر، بلدیہ تنخواہیں لینے کیلئے بنی ہے ؟؟

Category: سپیشل رپورٹ

دولتا لہ کی مرکزی شا ہراہ اپنی خستہ حالی کا بیا ن خو د کررہی ہے

1 (1) 1 (2) 1 (3) 1 (4) 1دولتا لہ کی مرکزی شا ہراہ اپنی خستہ حالی کا بیا ن خو د کررہی ہے

دولتالہ ،گردیوارہ کی تصاویری جھلکیاں

P1240305 P1240307 P1240309 P1240310 P1240311 P1240313 P1240314 P1240315 P1240316 P1240317 P1240318 P1240319 P1240320 P1240321 P1240322 دولتالہ ،گردیوارہ کی تصاویری جھلکیاں

الاامیر فا ؤ نڈیشن سکو ل سکھومیں جشن آ زادی کی تقریب کی جھلکیاں فو ٹو گرافر ۔ایا ز ملک ۔دولتا لہ

IMG_8434 IMG_8436 IMG_8440 IMG_8476 IMG_8477 IMG_8479 IMG_8480 IMG_8482 IMG_8485 IMG_8487 IMG_8488 IMG_8490 IMG_8491 IMG_8493 IMG_8496 IMG_8502 IMG_8503 IMG_8504 IMG_8506 IMG_8556 IMG_8557 IMG_8560 IMG_8562 IMG_8564 IMG_8589 IMG_8590 IMG_8592 IMG_8594 IMG_8596الاامیر فا ؤ نڈیشن سکو ل سکھومیں جشن آ زادی کی تقریب کی جھلکیاں فو ٹو گرافر ۔ایا ز ملک ۔دولتا لہ

نیزہ با زی ڈونگی کلا ں

IMG_2923 IMG_2939 IMG_2975 IMG_3132 IMG_3136 IMG_3160 IMG_3165 IMG_3177 IMG_3188 IMG_3190 IMG_3192 IMG_3206 IMG_3217 IMG_3229 IMG_3231 IMG_3245 IMG_3342 IMG_3343 IMG_3348 IMG_3350 IMG_3352 IMG_3358 IMG_3361 IMG_3392 IMG_3397 IMG_3402 IMG_3404 IMG_3423نیزہ با زی ڈونگی کلا ں نزد دولتا لہ کے مو قع پر PTIکے رہنما چو ہدری عظیم ،چوہدری سا جد محمود PPPکے رہنما را جہ جا وید اشرف اوردیگر سیا سی رہنما ؤ ں نے شریکت کی اور فا تح ٹیمو ں میں انعا ما ت (مو ٹر سا ئیکل ) تقسیم کئے (بشکریہ ۔فو ٹو گرافر ایا ز ملک )

جی کراں پردیسیاں نی عید شو

Picturesجی کراں پردیسیاں نی عید شو
دبئی(نمائندہ خصوصی) متحدہ عرب امارات کے محنت کشوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا کر بہت دلی سکون اور خوشی کا احساس ہوا ہے پاکستان سے تعلق رکھنے والے باسی جہاں پر بستے ہیں وہاں اپنی محنت، لگن اور شوق سے اپنا نام بنا رہے ہیں جو فخر کی بات ہے متحدہ عرب امارات کی پاکستانی ایمبیسی کے سفارت کاروں نے کے ٹو ٹیلی ویژن کے عید شو میں شرکت کر کے یہ ثبوت دیا ہے کہ سفارتخانہ اپنی کمیونٹی اور احساس اور خیال رکھتا ہے کے ٹو ٹیلی ویژن نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے وقار ، شناخت اور تہذیب کو اجاگر کرے نوجوان نسل نے جذبہ حب الوطنی پیدا کرے اور پاکستانی ثقافت کو فروغ دے۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ عرب امارات دبئی میں کے ٹو کی ٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’’جی کراں پردیسیاں نی عید شو‘‘ کے موقعے پر کمپےئر شاعر سید آل عمران نے کیا اس شو کو کامیاب کرنے میں ہمدانی گروپ آف کمپنیز کے چودھری وسیم اختر ، لالہ راجا عبدالغفور اور پاکستانی پوٹھوہاری کمیونٹی کے سید اختر حسین شاہ، چودھری مبشر جاوید، اویس قریشی، فہیم الرشید، چودھری جمیل، راجا جمیل بنگیال اور قاضی کوثر عزیز احمد نے مرکزی کردار ادا کیا۔ سید آل عمران کو متحدہ عرب امارات کی ادب نواز شخصیت اور پوٹھوہاری لینگوئج اینڈ کلچرل کونسل شارجہ کے چیف آرگنائزر قاضی کوثر عزیز احمد نے متحدہ عرب امارات دورے پر مدعو کیا۔ سمندر پار پاکستانیوں نے جی کراں پردیسیاں نی عید شو کو ’’کے ٹو ‘‘ٹیلی ویژن کا ایک کامیاب پروگرام قرار دیا جس میں پوٹھوہار ہزارہ، آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی شخصیات نے خصوصی شرکت کی متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ایمبیسی کے قونصل جنرل رانا مبشر جاوید، قونصلر راجا مختار کیانی، مسلم لیگ ن گروپ کے مرکزی قائد غلام مصطفی مغل، معروف بزنس مین مجید مغل، فخر پاکستان ہاکی کے معروف کھلاڑی منظور جونےئر ، جمیل گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو راجا جمیل بنگیال ، رمادہ ہوٹل کے چیف سیکورٹی کوالٹی اشورنس ملک قاسم بن نصیر اعوان، راجا امتیاز کیانی، دوبال کمپنی کے جنرل منیجر راجا محبوب حسین، راجا ظفر اقبال ظفر، عمیر راجا، عبدالرحمن رضا، ابوظہبی سے عابد قاضی، راجہ شفیق، شہاب راجا، شارجہ سے نعیم الرشید، راجا خرم، راجا توصیف، سرفراز مغل، راجا آفتاب، خرم رشید، پہاپا فضل چودھری حسیب، ثاقب منصور، اخلاق ملک، ضمیر ملک اور دو سو سے زائد مہمانوں نے شرکت کی تقریب کے انتظامات میں راجا عبدالغفور اور چودھری وسیم اختر نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے معزز مہمانوں کا بھرپور استقبال کے ساتھ عشائیے کا اہتمام کیا۔ جی کراں عید شو کو سیف الرحمن سیفی، زمرد خان بونیری کی ہدایات اور نگرانی میں پروڈیوسر خرم جاوید نے متحدہ عرب امارات کی مقامی معروف عسکری اور کاروباری شخصیت جناب شیخ سلیمان کے بہت بڑے وسیع اور خوبصورت فام ہاؤس میں ریکارڈ کیا پوٹھوہاری ثقافت کے رنگوں گھڑا، ستار، گھنگرو، ڈھول، سمی نے پردیس میں رہنے والوں کو دیس کی یاد دلا دی۔ سید آل عمران اپنی مخصوص پرتپاک انداز میں جب ’’مار او ڈھولیا ڈھول اوے‘‘ کی صدا لگاتے تو حاضرین وجد میں آ کر خوشی سے جھوم جاتے داد دیتے۔ اس موقع پر قونصل جنرل رانا مبشر جاوید اور قونصلر راجا مختیار کیانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا سفارتخانہ نے ہمیشہ پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے اور آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ کے ٹو ٹی وی کے پلیٹ فارم سے سمندر پار پاکستانیوں کو اکٹھا کر کے عید کی خوشیاں منانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ہمیں پاکستان کی ثقافت اور تہذیب کو اجاگر اور شرکت کر کے خوشی کا احساس ہوا ہے ہاکی کے سابق چیمپئن منظور جونےئر، سید اختر شاہ، غلام مصطفی مغل، راجا جمیل بنگیال نے کہا کہ آج ایسے لگ رہا ہے کہ ہم اپنے پاکستان کے اپنے خطے پوٹھوہار میں موجود ہیں عید کے رنگوں کو سب نے گوڑھا کر کے وطن عزیز کی یاد تازہ کر دی۔ کمسن نوجوان راجا مہران نے سید آل عمران کو محبتوں اور رنگوں سے ڈیزائن کردہ عید کارڈ پیش کیا اس آرٹ پر مبنی تحفے کو حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ سمی۔ ڈھول اور راجا فرہاد کی شعر خوانی نے وطن کی محبت اور یادوں کی خوشبو جگا دی پنڈال میں بیٹھے لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو نکل آئے پروگرام کے میزبان سید آل عمران نے متحدہ عرب امارات ایمبیسی کے سفارتکاروں اور پاکستانی کمیونٹی کو چیف ایگزیکٹو AVTEX گروپ آف چینل کامران حامد راجا اور جواد حامد راجا کی طرف سے خصوصی شکریہ ادا کیا اور محب وطن پاکستانیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سید آل عمران کے اعزاز میں پاکستانی کمیونٹی خصوصی استقبالیے اور عشائیے کی تقریبات کا اہتمام کیا اور سید آل عمران کی ادبی، علمی، لسانی، مذہبی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈز اور شیلڈ بھی پیش کیں۔
سید آل عمران

Read more

چوہدری نثار علی خانم میرے آئیڈیل لیڈر ہیں ، محمد لطیف ٹھیکیدار

thakdr
کلرسیداں (انٹر ویو پرویز وکی )تحصیل کلر سیداں یوں تو بہت سے حوالوں سے انفراد یت کی حامل ہے عسکری قربانیاں ہوں ،مذہبی میلاد اور عشق رسولﷺ کے پروگرام ہوں یا تاریخی حوالہ جات کلر شہر کی اپنی ہی بات ہے اس کے اطراف میں بسنے والے پوری دنیا میں روز گار کی تلاش میں نکل کر اس قصبے کیلئے ایک الگ مقام بنا چکے ہیں سیر پر سوا سیر مسلم لیگ ن کے بے مثال لیڈر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا سیاسی حلقہ ہونے کی وجہ سے اس شہر نے پور ے پاکستان میں بہت تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں اور حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ایم سی تحصیل کلر سیداں کے نو منتحب نمائندے اور ممبر محمد لطیف ٹھیکیدار نے راول نیوز کو ایک خصوصی انٹر ویو دیا جو آپ قارئین کی نظر ہے ٹھیکیدار محمد اسلم سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل اور سابق صدر مسلم لیگ ن ضلع راولپنڈی اپنی کاروباری سیاسی سماجی اور معاشرتی خدمات میں ایک الگ پہچان کے حامل انسان ہیں اور آپ کے صاحبزادے محمد لطیف آپ کی طرح زندہ دل عوامی انسان ہیں راول نیوز کے سوال پرا نہوں نے کہا اپنی ابتدائی تعلیم تربیت کلر سیداں میں ہی حاصل کی بیدی محل ہائی سکول کلر سیداں سے میٹرک کیا ۔بہترین اساتذہ حاجی صلاح الدین ،ماسٹر اشرف مرحوم ،ہیڈ ماسٹر مرزا مشتاق صاحب ،ممتاز عرف ساغر انتہائی اچھے شفقت کے ساتھ درس و تدریس دینے والے اعلی معیار کے یاد گار ٹیچرز ہیں جنہوں نے اپنی تربیت سے استاد کا مقام سمجھایا ہے لیکن آج کا استاد عدم تحفظ کا شکار ہے لیکن یہ معاملہ ہمارے دور میں ہر گز نہ تھا آج کل ٹین ایج کے نوجوانوں کو دیکھ کر جس طرح ان کا رویہ اساتذہ کے ساتھ ہے پریشانی ہوتی ہے معلم کا پیشہ ایک پیغمبر ی پیشہ ہے حکومت کی طرف سے بچوں کو غلطیوں پر سزا اور جزا کے معاملے پر نظر ثانی ہونی چاہیے تاکہ استاد کو اس کا اصل مقام ملے اپنی کالج لائف اور پروفیشن کے حوالے سے انہون نے کہا کہ اصغر مال کالج میں زیر تعلیم رہا ہوں کاروبار کی وجہ سے گریجویشن نہیں کر سکا اور 2000 میں سعودیہ کے شہر طائف اور خمیش مشیط ائیر پورٹ پر رن وے ٹیکنیشن کی خدمات انجام دیتا رہا تقریباً جتنا ضروری تھا اتنا سعودی عرب کے شہروں کو دیکھا برادرم اسلامی ملک سعودی عرب پر طرح سے تعریف کا قابل ہے مدینہ النبی اور مکہ سی ہماری مذہبی وابسطگی فطری ہے اور روزگار کیلئے سعودیہ ایک اچھی جگہ ہے اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے 2006 میں رن وے ٹیکنیشن کے پروفیشن کو چھوڑ دیا چونکہ کلر سیداں کی مٹی سے میرا خمیر بنا ہے اس کی ترقی اور فلاح ایک عام جذبہ ہے اس لئے اپنے درینہ دوستوں صغیر احمد بانی کلر یوتھ ،ظہیر بابر ،پروفیسر پرویز اقبال ،ظہور تاج منیجر بینک ،راشد سیٹھی اور سعید صاحب اور ایک لمبی لسٹ ہے کے ہمراہ کلر سیداں یوتھ کونسل ویلفئیر سوسائٹی کا ایگزیکٹو ممبر رہنے کے بعد اب لائف ٹائم ممبر ہوں انسانی فلاحی کاموں کیلئے ہر وقت متحرک ہوں انسانیت کی قدر ایک ایسا جذنہ ہے جو آ پ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دیتی حسن اخلاق بھی ہمارے مذہب کی روح ہے سیاست میں آنے کی وجہ خاندانی سیاسی حوالے کے علاوہ مسلم لیگ ن سے وابسطگی اور کلر سیداں یوتھ کی طرف سے متفقا طور پر ٹکٹ ملنے پر سیاسی دوڑ میں شامل ہو گیا سیاست کو ایک عملی خدمت کی نظر سے دیکھتا ہوں اور اللہ کا بے حد مشکور ہوں کہ میرے دوستوں،بزرگوں کی دعاؤں اوراپنی وارڈ کے ووٹروں کی وجہ سے کامیابی نصیب ہوئی اپنی وارڈ کو عملی طور کامیابی اور ترقی کی طرف گامزن کروں گا چوہدری نثار علی خان کی ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کیلئے کو شاں رہوں گا ۔چونکہ والد صاحب ٹھیٹھ مسلم لیگی ہیں اور ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں والد کے بعد چوہدری نثار علی خان آئیڈیل لیڈر ہیں اور اپنے والد کی طرح تھانہ کلچر اور ٹاؤٹ مافیہ سے سخت الرجی ہے سیاست کی روائتی چالوں سے پریشانی ہوتی ہے ۔اچھائی اور بھلائی کا رستہ اختیار کر کے سیاست میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کروں گا میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرے ہم منصب ایم سی کے ممبران روائتی سیاست کے ساتھ خوفسیاست میں آنے کے بعد میری تما م ممبر ان سے دوستانہ گزارش ہے سیاست کو خدمت سمجھ کر سر انجام دیں چند غلط عناصر کی وجہ سے سیاست بد نام ہو گئی ہے ورنہ طریقت اور سیاست دونوں ممبر رسول سے وابسطہ ہیں اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے نو منتخب ایم سی کے ممبر کلر سیداں عوامی نمائندے اپنے آپ کو بہتر سیاسی خدمات کیلئے فہال کریں

وطن کی مٹی گواہ رہنا

وطن کی مٹی گواہ رہنا

تحریر:نوید افسر راجہ
IMG_20141217_180000 IMG_20141217_175853 IMG_20141217_175717 IMG_20141217_175410 IMG_20141217_175558 IMG_20141217_161737 IMG_20141217_162107 IMG_20141217_152212 IMG_20141217_151820 IMG_20141217_151656 IMG_20141217_151305 IMG_20141217_151039 IMG_20141217_150931 IMG_20141217_150755 IMG_20141217_150543
دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جس نے وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے موجودہ صدی کے آغاز سے ہی پاکستان اس دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا گزشتہ کئی سالوں سے بہت سے بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن گئے کئی ماؤں کی گود اجڑ کئی اور بہت سے سہاگنوں کے سہاگ داعی اجل کو لبیک کہ گئے معصوم بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے آئے روز خود کش حملوں ،بم دھماکوں ،ٹارگٹ کلنگ سے کئی ہنستے بستے گھر ماتم کدوں میں تبدیل ہو گئے لیکن دہشت گردی کی یہ بے رحم لہریں تھم نہ سکیں لاکھ حربوں کے باجود دن بدن ایسے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور زشہروں ،بازاروں ،لارڈی اڈوں سے ہوتا ہوا یہ ناسور آرمی پبلک سکول پشاور میں داخل ہو گیا جہاں معصوم بچے اور اس ملک کا مستقبل اس دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا 16دسمبر پاکستان کی تاریخ میں ایک بار پھر اندھیروں کی ایسی داستان رقم کر گیا کہ آہیں اور سسکیاں اور ہر طرف چیخ پکار باقی رہ گئی سانحہ پشاور میں سکول کے طلبا اور سٹاف سمیت 141لوگوں نے جام شہادت نوش کیا اسی پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دولتالہ کے نواحی قصبہ کرنب جگیال کا خوبصورت اور شرمیلا نوجوان ندیم الرحمان انجم بھی انسٹرکٹر کے فرائض سر انجام دے رہا تھا دولتالہ( ندیم الرحمان انجم 17ستمبر 1983بروز حج پیدا ہوا پرائمری تک تعلم گورنمنٹ پرائمری سکول جولے سے حاصل کی مڈل گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول سکھو سے1998میں پاس کیا اور سر سید پبلک سکول راولپنڈی سے 2000میں میٹرک پاس کیا اور 6جنوری 2003میں اے ایم سی سینٹر ایبٹ آباد سے پاکستان آرمی جوائن کی اور اس کی پہلی پوسٹنگ ایم ایچ راولپنڈی میں ہوئی اس کے بعد وہ کوئٹہ ،اورکزی ایجنسی میں بھی بسلسلہ ملازمت اپنے فرائض سر انجام دیتا رہا شہید ندیم الرحمان انجم کے والد حبیب الرحمان جولے پرائمری سکول میں ہیڈ ماسٹر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ33سالوں سے شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں ماسٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ وقوعہ کے روز دن ایک بجے کے قریب میں سکول میں اپنی کلاس کو پڑھا رہا تھا کہ مجھے کال آئی کہ آپ کا بیٹا شہید ہو گیا ہے میں گھر والوں کو بغیر بتائے اپنے سکول کے ایک ٹیچر کے ہمراہ پشاور کی جانب روانہ ہو گیا انہوں نے بتایا کہ ندیم بچپن سے ہی انتہائی ملنسار اور اعلیٰ اخلاق و اوصاف کا مالک اور فرماں بردار تھا اس کی شادی کی عمرہو چکی تھی لیکن جب بھی ہم گھر میں اس کی شادی کی بات کرتے تو اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ پہلے بہنوں کا فرض ادا کروں گا بعد میں اپنی شادی کروں گا ماسٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ 30نومبر کو ندیم 20دن کی چھٹی کاٹ کر گیا اور سانحہ سے روز قبل 14تاریخ بروز اتوار کو اس نے پشاور بازار سے خریداری کی جس میں اس نے اپنی ماں کے لیے چادر،بہنوں کے لیے کمبل اور ڈرائی فروٹ خریدے اور اس نے فون کر کے بتایا کہ اس نے یہ سامان خرید لیا ہے اور ویک اینڈ پر گھر آوں گا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا شہید ندیم الرحمان انجم کی والدہ کا کہنا تھا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے میرے بیٹے کو شہادت کی موت نصیب کی وطن کی خاطر اپنے باقی بیٹے بھی قربان کرنے کو تیار ہوں ہمارے حوصلے بلند ہیں اور مجھے فخر ہے کہ جس طرح میں نے اپنے بیٹے کی تربیت احسن انداز میں کر کے اپنا فرض ادا کیا اسی طرح میرے بیٹے نے اس وطن کی خاطر اس مٹی کی خاطر اپنی جان کو نذرانہ پیش کرکے اپنے فرض کی بجا آوری کی انہوں نے کہا کہ ندیم ہنس مکھ اور انتہائی خوش اخلاق تھا میں نے اپنے تمام بچوں کی تعلیم وتریبت کے لیے خود ان پڑھ ہونے کے باجود کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی ندیم الرحمان انجم کو جس دن شہادت نصیب ہوئی اس روز اس کی نوکری کو 11سال،11ماہ اور11دن کا عرصہ ہوا تھا آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گروں نے حملہ کیا تو ندیم الرحمان انجم سکول کے بچوں کو فرسٹ ایڈ کے بارے میں لیکچر دے رہا تھا کہ دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ایسے لوگ بلاشبہ اس دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ گوجرخان کی دھرتی کے سپوتوں نے ہمیشہ مادر وطن کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن پر ثابت کیا کہ ہم میں اس ملک کی خاطر مر مٹنے کا جذبہ موجود ہے سوار محمد حسین شہید (نشان حیدر )اور کیپٹن سرور شہید (نشان حیدر ) لیکر ندیم الرحمان انجم شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ و جاوید رہیں گے ندیم الرحمان انجم کو مورخہ17دسمبر 2014کو آبائی قبرستان کرنب جگیال میں سپر خاک کر دیا گیا پاک آرمی کے چاک و چوبند دستے نے سلامی دی اور پھول چڑھائے ،نماز جنازہ میں برئگیڈئرزاہد رانا ،کمشنر راولپنڈی زاہد سعید ،آر پی او راولپنڈی اختر عمر حیات لالیکا،اے سی گوجرخان نازیہ پروین سدھن ،ممبر صوبائی اسمبلی راجہ شوکت عزیز بھٹی کے علاوہ بڑی تعداد میں وکلا ،صحافی برادری ،اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کیاس موقع پر شہید کے والد ماسٹر حبیب الرحمان اور والدہ نے جنازہ میں شریک حکومتی نمائندگان سے مطالبہ کیا کہ ہمیں اپنی زات کے لیے کچھ نہیں چاہیے تا ہم ہماری خواہش ہے کہ ہمارے بیٹے کا نام ہمیشہ روشن رہے اور اس سلسلے میں سکھو ہائی سکول جہاں سے ندیم الرحمان انجم نے مڈل کا متحان پاس کیا اس سکول کو ہائیر سیکنڈر ی سکول کا درجہ دیکر شہید نے نام سے منسوب کیا جائے ،کرنب جگیال کی جانب جانیوالی لنک روڈ جو کہ انتہائی خستہ حال ہے اس کی تعمیر کر کے اس بھی شہید نے نام سے منسوب کیا جائے ،گاؤں میں موجود قبرستان کی چار دیواری اور گاؤں کی خستہ حال گلیوں کی تعمیر کی جائے بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے شہید کے اہل خانہ کو 20لاکھ روپے مالی امداد کا چیک بھی دیا گیا یہ چیک اے سی گوجرخان نازیہ پروین سدھن نے شہید کے والدین کے حوالے کیا اس موقع پر اے سی گوجرخان کے شہید کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ جس طرح ان کے بیٹے نے اپنی جان دیکر ملک کا نام روش کیا ہے اسی طرح حکومت وقت بھی ان کے بیٹے کے نام کو ہمیشہ زندہ اور تابندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گئے انہوں نے بتایا کہ 1کروڑ25لاکھ روپے کی لاگت سے لنک روڈ کی تعمیر کا کام بھی جلد شروع ہو جائے گا اور شہید کی بہن جو کہ زیر تعلیم ہے اسے دانش سکول میں داخل کریا جائے گا

خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
TEAM Naveed

نور احمد نور

نور احمد نورNoor,s Father pic 2 pic 3
نور احمد نور دینی اور دنیوی حوالے سے اعلی تعلیم یافتہ شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے منہاج القرآن یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ نور صاحب ایک روشن خیال اور فلاحی و سماجی کاموں کی کئی تنظیموں کے بانیان میں سے ہیں یہی وجہ ہے کہ نہ صرف علاقائی طور پر بلکہ یورپی سطح پہ جانے اور مانے جاتے ہیں انکی ان گوناگوں صلاحیتوں کی وجہ سے اوسلو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے ریسرچر ( امن اور مذہبی مفاہمت) کے موضوع پر ان سے اکثر استفادہ کرتے ہیں اور اہم بات یہ کے وہ صرف مسلم کمیونٹی کے لیے ہی نہیں بلکہ غیر مسلم کمیونٹی میں بھی احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔ بہترین مقرر ہونے کے علاوہ شعر و شاعری سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں آپ نے سینکڑوں نعتیں نہ صرف خود لکھیں بلکہ بہترین نعت خواں بھی ہیں اور یہی ھمہ گیر شخصیت انہیں ہزاروں لوگوں میں منفرد بناتی ہے اور بقول نور صاحب کے انکے اس تمام تر مقام اور کردار کا کریڈٹ انکے والد محترم کی محنت،دعاؤں اور قائد کی تعلیم و تربیت کو جاتا ہے تو قارئین کرام اس منفرد شخص کا اس مقام تک پونچنے کی تفصیل جاننے کے لیے انٹرویو شروع کرتے ہیں۔ قارئین کرام آپ اپنی قیمتی آرا ضرور دیجیئے گا ِ (:زیب محسود درامن ناروے 🙂

سوال ۱۔ آپکی ابتدئی زندگی کیسے گذری ؟
ابتدائی زندگی۔
میں یکم اپریل کو تحصیل ڈسکہ کے چھوٹے سے گاوٗں (منڈ) میں ایک مذ ہبی رُحجان رکھنے والے منڈ زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا میرے ۲ بھائی اور ۳ بہنیں ہیں جن میں ایک بہن مجھ سے بڑی اور باقی سب چھوٹے ہیں ۔ میرے والد پہلے لاہور پولیس میں ملازم تھے بعد میں اپنی والدہ کی شدید خواہش اور دعاؤں سے دینی علوم حاصل کرکے اپنے گاوٗں آ کر جنرل سٹور کھولا اور ساتھ گاؤں کی جامع مسجد میں فی سبیل اللہ خطابت شروع کر دی ۔ میرے والد صاحب کی دین سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ابھی میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے دل میں عہد کیا کہ خدا نے جب بھی بیٹا دیا تو وہ اسکو عالم بنائینگے ۔ انکی یہ خواہیش پوری تو ہوئی مگر قدرے دیر سے ۔۔۔۔!پرا ئیمری تعلیم قریبی گاؤں کسو والا اور میٹرک بن باجوہ ہائی سکول سے کی ۔ میں نارمل درجے کا ا سٹو ڈنٹ تھا ۔ بچوں کے کھیلوں میں دلچسپی لیتا تھا جیسے گولیاں کھیلنا لڑکپن میں کبڈی ، والی بال اوردیگر کھیلوں میں حصہ لیتا رہا۔ میں چونکہ بہت احساس طبعیت کا مالک تھا اسلیئے کم عمری میں ہی اپنے والد کے ساتھ دوکان داری کی اور ساتھ ہی ساتھ چچا کے ساتھ زمینداری کے کاموں میں مدد کرتا تھا ۔ شروع میں ہمارے مالی حالات بہت اچھے تھے مگر بعد میں کافی مشقلات کا سامنا ہوا ایک تو والد صاحب نے بشتر بچت کی رقم نئے اور خوبصورت مکان بنانے پر خرچ کر دی ساتھ ہی حج کا فرض ادا کیا اور بقیہ جمع پونجی روزگار تلاش کرنے سعودی عرب جانے پر خرچ کر دی جبکہ وہاں سے بھی جلد واپس اگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم معاشی طور پر کافی کمزور ہوئے ۔

سوال ۲)۔ آپکے بچپن کا یادگار واقعہ کیا تھا؟
جواب ۔ چو نکہ ہماری ذمینوں میں فوجیوں کی چھاونی بنی ہوئی تھی تو جب سنہ ۷۱ کی جنگ ہوئی تو میں چھوٹا سا ۸ سالہ بچہ تھا مگر اُس وقت کی گہماگہمی اور ریڈیو پر بڑوں کا انتہائی دلچسپی اور غور سے خبریں سننا آج بھی یاد ہے اور وہی یادگار واقعہ ہے ۔

سوال ۳)۔آپ نے بقیہ تعلیم یعنی کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کہاں سے حاصل کیَ؟
جواب ۔ میں نے کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم ۲ وجوہات کے بنا پر پرائیوٹ حاصل کی ۔ایک وجہ یہ کہ میں کچھ دن کالج ضرو گیا وہاں کا ماحول دیکھا مگر وہاں لڑکوں کی صورت حال دیکھ کر بد دل ہوگیا کیونکہ وہاں اسٹوڈنٹ سارا وقت بے کا ر گذارتے تھے لگتا نہیں تھا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں لہذا میں اس قسم کے حالات میں وقت ضائع نہیں کرسکتا تھا اور دوسری بڑی وجہ کمزور معاشی حالات تھے اسلئے میں نے زمینداری کے کاموں اور مقامی مذہبی پروگراموں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے پرائیوٹ طور پر کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی میں نے گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کی !

سوال ۴)۔ آپکے والد کے پلان یا اُس عزم و ارادے کی تعمیل کب شروع ہوئیَ؟

جواب ۔ میرے والد صاحب کے جذبے کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ وہ کہتے تھے کے میری دینی تعلیم کے حصول کے لیے اگر اُنکو ساری جائیداد بھی فروخت کرنی پڑتی تو دریغ نہیں کریں گے بلکہ وہ کہتے کہ ا گر جان بھی بیچنی پڑی تو پرواہ نہیں مگرمسئلہ میرا داڑھی سے دلچسپی نہ رکھنا تھا۔ میری اباجی سے داڑھی پر بحث ہوتی۔ میں کہتا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کا مجھے بھی شوق ہے مگر میں داڑھی نہیں رکھنا چاہتا۔ اسی چپکلش میں چار پانچ سال گذر گئے کہ میں داڑھی کے بغیر دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا جبکہ مدرسے والے داڑھی کے بغیر داخلہ دینے کو تیار نہیں تھے ۔ میرے خیال میں منھاج القرآن اور دیگر مدارس میں یہی واضح فرق ہے کہ مدرسے والے داڑھی اوپر سے نافذ کرتے ہیں جبکہ منہاج القرآن میں داڑھی اندر سے اگائی جاتی ہے ۔ قادری صاحب نے شاہد ہی کسی طالبعلم کو داڑھی کا پابند کیا ہو ۔اور یہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ دینی مدرسوں میں ظاہری حلیے پر جتنی سختی سے توجہ دی جاتی ہے اتنی باطنی طور پر نہیں ۔بہرحال والد کا جذبہ صادْ ق تھا یہ ۱۹۸۷ کاایک دن تھا میں ڈسکہ شہر سے دوکان کے لیے سامان لینے گیا تو اچانک ایک جگہ ایک خوبصورت اشتہار پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا جدید و قدیم علوم کا حسین امتزاج ۔جامع اسلامیہ منہاج القران میں داخلہ جاری ۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں نے علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے کئی خطابات اس سے پہلے سنے تھے جس کی وجہ سے میں ان کے علم اور عشق رسول کا شیدائی ہو چکا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ وہ بہت روشن خیال اور جدید دور کے تمام تقاضوں پر گہری نظر رکھتے ہیں لیکن ایک خدشہ بھی تھا کہ اس کورس میں داخلے کے لیے میٹرک پاس ہونا چاہیے تھا جبکہ میں تو گریجویشن کر چکا تھا خیر میں نے معلومات لینے کے لیے جون کی شدید گرمی میں لاہور کا سفر کیا کہ مجھے داخلہ مل سکتا ہے یا نہیں ۔ مجھے یاد ہے یہ تیرہ جون کا سخت گرمی کا د ن تھا۔ میں پہلی دفعہ اکیلا لاہور گیا تھا ۔پھرتے پھراتے جب ماڈل ٹاؤن لاہور پہنچا تو جامعہ کا پاکیزہ ماحول دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ طلباء سے بات ہوئی تو میرا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا یہاں داڑھی رکھنا لازمی ہے تو جواب ملا کہ یہاں داڑھی ضروری نہیں ۔ میں نے شکر کا کلمہ پڑھا اور سکھ کا سانس لیا میری خوش نصیبی کے میں اگرچہ عمر میں ساری کلاس میں بڑا تھا اور تعلیم میں بھی سب کلاس سے سینیئر تھا یہ میرے لیے اور بھی فائدہ مند ثابت ہوا کیونکہ جب دو سال بعد میرے کلاس فیلو ایف اے کا امتحان دے رہے تھے میں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کر لیا اسکے علاوہ درس نظامی کا ۷ سالہ کورس مکمل کیا اور یوں میرے والد کا ارمان جو قدرے دیر سے سہی پر پورا ہوا ۔ ابا جان اکثر فرماتے کہ اللہ تعالی
کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے ۔ اگر میں آپکو کسی عام مدرسہ میں داخل کرا دیتا تو آج آپ وہی تنگ نظر مولوی ہوتے ۔اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس عظیم قاٖئد کی سنگت عطا فرمائی۔

سوال ۵ )۔ دینی تعلیم کے بعد عملی زندگی کب اور کیسے شروع ہوئیَ؟جواب ۔ سنہ ۱۹۹۴ کو درس نظامی سے فارغ ہونے کے بعد ۶ ماہ بطور لیکچرر والنٹئرلی اُسی جامع میں جاب کی پھر جب ٹاوٗن شپ میں نیا کیمپس کھلا تو وہاں طلباء کی تربیت کا ایک نیا تربیتی کورس شروع ہوا اور اُس کورس کیلیئے بطور ڈائریکٹر ۳ ماہ رضاکارانہ فرا ئض انجام د ئیے ۔اسکے بعد فیصل آباد کے گاؤں ماموں کانجن میں منہاج سکنڈری سکول کا پرنسپل بنا اور ۳ سال کام کیا۔ ا سکے بعد کھاریاں کے قریب چک پیرانہ میں ایک عظیم الشان اسلامک سنٹر کھولا گیا وہاں بھی بطور ڈائیریکٹر کام کیا ۔اسکے بعد پہلی مرتبہ ملک سے باہر عمان مسقط میں منہا ج ا لقران کے ڈایئریکٹرکے طور پر میری تعیناتی ہوئی ۔مسقط میں تین سال کام کرنے کے بعد میری ٹرانسفر عمان ہی کے ایک شہر صلالہ میں ہوئی وہاں چار سال کام کرنے کے بعد ۲۰۰۵ میں میری تعیناتی اوسلو ناروے میں ہوئی اور اب ۲۰۰۹ سے درامن میں ہوں

۔سوال ۶)۔ آپ درس و تدریس کے علاوہ او رکونسے تنظیمی یا دوسرے فلاحی کام کر رہے ہیں؟

جواب ۔ جب میں اوسلو آیا تھا تب ہی سے میں نے مذہبی رواداری اور مفاہمت کے لیے باقاعدہ کوشیش شروع کیں اور عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ساتھ باقاعدہ ڈیئلاگ شروع کیے اور میں پہلا فرد ہوں کہ چرچ میں جا کر مسلم امام کے طور پر نہ صرف نمائیندگی کی بلکہ لیکچر بھی دیے ۔ منھاج مصالحتی کونسل ناروے میں کام کیا۔پادری کے ساتھ مل کر رات کے گشت میں بھر پور حصہ لیا۔جیل میں قیدیوں کی رہنمائی کی۔ درامن میں ۲۵ مختلف مذہبی تنظیموں پر مشتمل ایک مفاہمتی کونسل ہے جس میں ہم فونڈر ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ چرچ کے ساتھ مل کر بہت سے مشترکہ پروگرام کرتے ہیں جس سے مذہبی رواداری پیدا ہوتی ہے ۔

سوال۷۔ )کیا وجہ ہے کہ اسلام نے وقت کے نئے نئے چیلنج اور پرابلم کے لیے اجتہاد کا آپشن دیا مگر اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نظر نہیں
آتی ؟
جواب۔ دین اسلام ایک روشن خیال اور موجودہ مذاہیب میں جدید ترین فلسفہ زندگی ہے ۔ کیونکہ دیگر تمام مذاہب اسلام سے پہلے کے ہیں اور یہ کہ دینا اسلام کے بعد کوئی نیا نبی اور دین نہیں آسکتا لہذا ہمارے دین نے وقت اور حالات کے مطابق نئے مسائل کے حل کے لیے اُمت مسلمہ کے علماء کو اجتہاد کا آپشن دیا گیا مگر بدقسمتی سے پوری اُمت گروہ بندی اور فرقہ پرستی کا شکار ہوگئی ہے ایسے میں مختلف مسالک کے علماء کسی بات پر متفق نہں ہوتے اور اب تو اسلامی ممالک اسی فرقہ پرستی کی وجہ سے ایک دوسرے کی سلامتی کے درپے ہیں البتہ منہاج القران یورپی سطح پر کوشیش کر رہی ہے کے کچھ مسائل جو مسلمانوں کو غیرمسلم ممالک میں درپیش ہیں انکا حل نکالا جائے ۔ جبکہ یہ ملکی نہیں بلکہ اُمہ کی سطح کا کام ہے جس کہ لیے باقاعدہ فنڈ اور فورم فرام کرنا تمام اسلامی ممالک کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔جبکہ غیر مسلم ممالک اپنے ہاں کے اس طرح کے کاموں کے لیے فنڈ کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں جن سے وہ اپنے مسائل کا حل آسانی سے پا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کے ساتھ باقاعدہ ڈائیلاگ کرتے ہیں۔
سوال ۸)۔ آپ کی شادی ارینجڈ میرج ہے یا پسند کی ،اور یہ کے آپکی اسقدر مصروفیت پر آپکی بیوی آپ کا ساتھ دیتی ہیں یا پھر اعتراض کرتی ہیں؟جواب۔ میری شادی ارینجڈ تھی مگر میری پسند بھی شامل تھی کیونکہ ہم رشتہ دار تھے بلکہ ایک ہی طرح کا دینی اور سماجی پس منظررکھتے تھے لہذا میرے والدین کی پسند پر مجھے مکمل اعتماد تھا جو کہ درست ثابت ہوا۔ میری بیوی میرے لیے ایک بہترین شریک حیات ثابت ہوئی کیونک میرا کام اس نوعیت کا ہے کہ اکثروبیشتر مجھے ملک سے باہر تنظیمی کاموں سے جانا پڑتا ہے مگر مجھے گھر کی طرف سے اطمینان ہوتا ہے مجھے اگر بیوی کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو شاہد اس قدر دل جمعی سے کام نہ کر پاتا اس کے علاوہ بہت اچھی منتظم ،خوش اخلاق اور مہمان نواز طبیعت کی وجہ سے میرے لیے قابل فخر ہے کیونکہ میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ اکثر مختلف کاموں کے سلسلے میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے اتنا عرصہ گذر گیا مگر کبھی اُنہوں نے شکوہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ خوش دلی اور دریا دلی سے مہمانوں کی خدمت کی۔

سوال ۹۔) کیا آپ نے بھی اپنے والد کی طرح اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کوئی خاص پلان یا مقام سوچا یعنی کہ وہ کیا بنیں؟

جواب۔ والدین کا اُولاد کے لیے خواب دیکھناایک فطری بات ہے لہذا ہر والدین کی طرح ہم بھی اپنے بچوں کے لیے خواہشات رکھتے ہیں کہ اچھی تعلیم اور تربیت دیں اور یہ کل کے کامیاب ترین انسان بنیں فی الحال تو بنیادی سکول کی تعلیم لے رہے ہیں اب آگے چل کر حالات و واقعات اور مقدر کیا بناتا ہے اسکا کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا سکول کی تعلیم کے ساتھ میں دینی تعلیم پر پابندی سے توجہ دے رہا ہوں مگر میرٖی بھی یہ ازحد خواہش ہے کے ان میں اگر کوئی دین کی خدمت کو مقصد حیات بنائے تو میں بھرپور ساتھ دونگا اور میں مایوس نہیں ہوں کیونکہ مجھے بھی

گریجویشن کے بعد ہی اس طرف آنے کا موقع ملا اور یوں میرے والد کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہوئی،۔

سوال ۱۰ ) کیا مستقبل میں آپ کوئی خاص کام کرنے جیسے کسی موضوع پر کتاب یا اپنی بائیوگرافی لکھنے وغیرہ کا ارادہ رکھتے ہیںَ؟
جواب) میری شاعری کی ایک کتاب ( صدائے درد ) کافی عرصے پہلے چھپ چکی ہے اب ایک اور شاعری کا مسودہ آخری مراحل میں
ہے اسکے علاوہ منہاج القران کے یورپی فورم سے اور مقامی طور پر کچھ پراجیکٹ پر کام کر رہا ہوں جو یقیناً مسلم اور غیر مسلم کمیونیٹی کے درمیان پُل کا کا م دینگے انشائاللہ!
سوال ۱۱ ) آپ آج کے نوجوان کو کیا پیغام دینا چاہینگےَ؟
جواب) آج کے نوجوان کے لیے یہ پیغام ہے کے قدرت نے موجودہ دور میں اُنھیں دینی اور دنیاوی تعلیم کے بہترین مواقع دے ہیں جن کا ہمارے دور میں تصور کرنا بھی ممکن نہ تھا اس لیے اس سے بھرپور فائیدہ اُٹھائیں اور اس کی روشنی میں ایسا کردار بنائیں جس سے انسانیت کو فائدہ ہو اور آپکے والدین کے ساتھ ساتھ آپکے ملک اور دین کا نا م روشن ہو!!!

سپیشل رپورٹ

02-09-2015 001

’’ تنویر زمانی ڈرامے کا ڈراپ سین

News Report

سپیشل رپورٹ

یونین کونسل دولتالہ1
ناٹہ موہڑہ ،ڈونگی خورد،دولتالہ ٹاؤن کمیٹی ،ڈہوک کٹاریاں ،محلہ صدیق آباد،احمد آباد ،ڈہوک چوہدریاں
،محلہ چوک بڑا کنواں،محلہ ہائی سکول،محلہ پرانا ہسپتال،محلہ شفاخانہ حیوانات،محلہ زرگراں،برکت ٹاؤن،ڈہوک چراغ دین

یونین کونسل دولتالہ2
چک بہادر،حصال مداری،ڈونگی کلاں،نتھہ چھتر،دوکھوہا،آدڑہ عثمان زادہ

یونین کونسل نڑالی
ڈہوک بدہال،ڈہوک،چوہان،ڈہوک چیمیاں،سوہج،لانڈیاں،ٹھاکرہ موہڑہ،فریال،محلہ راجگان
،مالکان،مغلاں،ڈہوک گوندل،مشین لوہاراں،بجرانہ،مستالہ،میانہ موہڑہ،ناٹہ گجر مل

یونین کونسل موہڑہ نوری
موہڑہ نوری ،کبیل،صابہ شیر خان،میانہ ستال،بردیانہ،کرسال،کتبال،ہوسنگ،موہڑہ کنیال،چک نابن

یونین کونسل گلیانہ
مرادیال،گلیانہ حیال،گلیانہ آرائیں ،گلیانہ لودھراں،گلیانہ بگرال،دلمی تمہ،دلمی دھموال
یونین کونسل سکھو
سکھو ،موہڑہ ملکاں،محلہ راجگان،چوہدری کالا خان،عقوب راجگان،محلہ بنہ موہڑہ،پسوال،چک دولت،موہڑہ بابا فتح
،کرنالی،موہڑہ چوہدریاں،موہڑہ دھمیال،ڈوہک کشمیریاں،موہری،کوٹلہ بابا احمد،چورہ
یونین کونسل جھونگل
بھنگالی گوجر،مرادی جنجیل،درکالی کلاں،ممنیالہ،بھٹ،دکالی خورد،بندوٹ،چک شہباز ،رتڑی
یونین کونسل جاتلی
بھیر رتیال،موہڑہ فاطمہ،ڈہوک دھمیال،بھیر ہتھیال،ڈہوک شاہ سوار،ڈہوک عبدالوہاب،بھیر آہیر،بینس،بھیر کلیال
یونین کونسل دیوی
داتا بھٹ،ڈہوک غازی،ماڑی بھیر،ڈہوک کلیال،ڈہوک پناہ،گاہی چھپر ،گڑھا گجراں،مغل،بجاڑ،ڈہوک کاکو
،ڈہوک میاں عبدالوہاب،دیوی،ڈہوک کرمی،ڈہوک سیداں،موہڑہ حیات،جوال
یونین کونسل پنج گراں
کریالہ،نتھیہ گلباز،باہولے کلاں،کالا گجراں،ترکوال،ٹھیکریاں،چیچی چوہا ن،چیچی ذلفو،چکی ایسر،ماچھیہ
یونین کونسل منگھوٹ
درکالہ،جھنگھرا،بھنگالی کھینگر،کھمب،کھمب سراہدنے،رجوعہ،ہجو،فراش،رنجالی،موہڑہ شیرا،سکریلہ،جٹال ،جمال
یونین کونسل آہدی
آہدی،محلہ بھٹیاں،چوہان ،ڈہوک چوہدریاں،ڈہوک کیال،ڈہوک سیداں،ڈہوک بابا نور،محلہ اعوان،تراٹی،کوٹ سلیمان،ڈہونگ ،اضافی آہدی،کاک
یونین کونسل راماں
گورسی ،سرجہ،مدہوال،پنجگراں خورد،پھامڑے گجراں،پھامڑے پکھرال،موہڑہ خیرو،سود بھڈانہ،راماں ،بوکن،بھلیسر،رئیاں گورسیاں،چیچی نور،پنڈ ٹھیکریاں،جھنگی پھیرو،میانہ پھمبل،ملہال،نتھیہ عالم شیر
یونین کونسل سید
سید ،ڈہوک مومن،سید کسراں،نذر شاہ دیوان،شاہ چن چراغ،کسراں سید،دہون،ٹھٹھہ کلاں،نکو،کھیسہ،کسراں،ٹھٹھہ خورد،کالس،کونٹ
یونین کونسل جھنگی جلال
ہریال،دیرہ پوٹھی،پنڈ پائیاں،جھنگی حامد،جھنگی جلال،جھنگی تاجو،کرم جگیال،بینس دھمال،اوگاہون،گلیانہ بینس،کاہلی کھینگر
یونین کونسل کرنب الیاس
کرنب بلوچ،کرنب عثمان،کرنب الیاس،کرنب کسوال،بھگوال مہر خان،ددوال،پرٹالی،للیال،دیرہ مسلم
یونین کونسل نور دولال
ماہندر،اومنکہ،دریال ،ملکوال،نور دولال،جھریاں آرائیں،بھٹہ،خورزادہ سواں،کماندریال
یونین کونسل کوری دولال
کنڈ ،ساتھو،کراہ،تپالی خورد،کاجو،درالہ کلیال،وسالہ بنگیال،آراضی ہسنال،کالاپھیدا،نتھہ دولال،مطو کھینگر
یونین کونسل گھنگریلہ
نتھہ کلیال،سنجھوٹ،چہاری کلیال،سوہرا،تھرجیال خورد،سوہج،بہادر،بکھو،حکیم چھٹہ کلیال
یونین کونسل مطوعہ
ڈونگی،ڈورے،دھمن،مطوعہ،پھروال بنگیال،صندل کھینگر،محمود بدہال،چہاری دولال،پھروال سرو خان،
یونین کونسل مانکیالہ
بڑکی چوہان،حبیب کنیال،نگیال سوہل،نگیال عمر خان،چیال،باولیال،سپیال ،دلمی کھتریل،بڑکی برہمنان،مانکیالہ مسلم،سپیال کھینگر
یونین کونسل کلیام اعوان
بھگوال درگئی،موہڑہ روشن علی،موہڑہ مہر بخش،قطب فروزال،چنبہ پاپین ،ہردوجگی،سنگہری،جھالری بھائی خان،بانٹھ
یونین کونسل مندرہ
بچہ،ہرنال،آراضی موہری،جوڑیاں،ککری،مرید،بجنیال،مندرہ،جھالری گجری،مدہی کالا ،جگی نڑالی،رمیال ارجن
یونین کونسل ساہنگ
ساہنگ،پڑی فیرزال،موہڑہ کمیال،رکھ گھکڑاں رکھ تارا گڑھ،دہدوار،پائمال،گوگادت،پنڈ بالا،ہردو چیڑ
یونین کونسل جنڈ مہلو
موہڑہ حیلیاں،پنڈورہ،آہیر ،نگیال پھلواں ،جبو کسی،جنڈ مہلو،جماتھ،جٹال سرخرو،جٹال دراب،رونگٹیے
یونین کونسل جرموٹ کلاں
موہری برسال،کلیال دیرہ،ممدال کھینگر
یونین کونسل جیرو رتیال
ڈورہ بدہال،جیرو رتیال،مسہ کسوال
یونین کونسل کونتریلہ
چک بگوال،کھرالی،کھولی حمید،موہڑہ شیخاں،ڈہوک گجراں،ڈہوک بابا وزیر،موہڑہ ٹھکراں ،محلہ راجگان،ڈہوک حاجی ولی عبداللہ شاہ بخاری،موہڑہ جاڑیاں ،
چھچھہ،موہڑہ قاضیاں،موہڑہ کلیال ،موہڑہ ماڑی،ہفیال،موہڑہ بہادر ڈہوک رستم،موہری راجگان
یونین کنیٹ خلیل
گرمالہ،چیچی بہادر،بوکڑہ،سسرال،کنیٹ خلیل،کنیٹ ملوک،کنیٹ پیر بخش ،کنیٹ روشن،کنیٹ لدھو،چکری وکیلاں
یونین کونسل اسلام پورہ جبر
رتالہ،پلتھیام،گوپال پور،میانی بورگی،حاجی بورگی،ڈہوک سلطان، ملک پور،سوہاوہ مرزا،ممدوٹ،بلیام پنڈوری،بونیر کسوال،
یونین کونسل سوئی چیمیاں
سوئی چیمیاں،چکڑالی بدہال،چھپر،سنگنی،میرا شمس،چکڑالی چلو،منکری،کمالی مرزا،آراضی کرمال،چنگا بنگیال،دریالہ سہگل،؂؂؂؂نڑالی جبر،نڑالی کسوال،ہرڑ ،کورنصیب،مل آرائیں،باغ سنہ،تل خالصہ،
یونین کونسل بھڈانہ،
بھڈانہ،بگانہ،بھٹیاں،عارف کنیال،ٹھلہ،باغ پور،بکا خان پور،گوجرہ،مطوگجر،آراضی ڈوہڈی،آراضی بوہڑہ،ملالہ،ڈہوک رحیم بخش،ڈہوک پیر محمد،ڈہوک ملکاں،ڈہوک سیداں،ڈہوک منشی غلام حیدر ،بابا صاحب ،ڈہوک چوہدری فضل،ڈہوک کوہل،ڈہوک بابو گوریاں ،چوہدری صادق جنڈ گجر،کوری سرفراز،کوری حیدر،کوری ہزارہ،کوری ججوال،کوری کرم بخش،جنڈ نجار
یونین کونسل تھاتھی
تھاتھی،سہر،ملہ جھنگ،میانہ پوٹھہ،رام پور،ہر دو سرخی،ہر دو چوہرکی بگام،کمال پور،چک لنڈ،رکھ بگام،پلینہ،گھسرور ،کٹیام ملکو ؁ کسووال،ملوٹ پیر محمد،ملوٹ پھکھڑال،خان پور،ہرنو
یونین کونسل قاضیاں
دھندے ایسر،بورگی کرم چند ،دھندے گجر مل،میانی ڈھیری،پنجگراں رخہ،قاضی چھوٹا،قاضی جھیک،جھیک قادر بخش،جگا پلکاں ،
یونین کونسل بیول
بیول،دھمیال،بولین،ہفئیال،کنیال،سوئی ضافظ،آراضی کرک ،منجھوٹھہ،
گوجرخان سٹی وارڈ 1ڈہوک حیات علی
؂ڈہوک حیات علی سکھو روڈ ،صندل روڈ ،
وارڈ 2محلہ بابو گلاب خان
محلہ بابو گلاب خان ،صندل روڈ
وراڈ 3محلہ خواجگان
محلہ خواجگان ،سبزی منڈی ،مرکزی مسجد ،مرزا سٹریٹ ،کرسچن کالونی
وارڈ 4محلہ حافظ آباد
محلہ بابا تکیہ رحیم شاہ،محلہ کیانی آباد ،فوجی فاؤنڈیشن سکول اینڈ سٹی پولیس
وارڈ نمبر5ریلوے ہاؤسنگ سکیم
ریلوے ہاؤسنگ سکیم ،ریلوے روڈ ،بہاری کالونی .
وارڈ نمبر 6محلہ عید گاہ
محلہ عید گاہ ،بڑکی جدید،علامہ اقبال روڈ ،
وارڈ نمبر 7بڑکی بدہال
بڑکی بدہال ،ڈہوک گاڑ،راجہ مارکیٹ ،ڈہوک کشمیریاں اینڈ منور آباد
وارڈ نمبر8بڑکی جدید
بڑکی جدید،محلہ شاہین آباد،نصیر آباد ،محلہ مستریاں
وارڈ نمبر9مسجد انوار مدینہ
مسجد انوار مدینہ،مدنی محلہ۔بڑکی جدید،شاہین آباد ،اینڈ اقبال نگر
وارڈ نمبر 10کوٹ سیداں
کوٹ سیداں ،سکھو روڈ ،ڈہوک حیات علی،نئی آبادی
وارڈ نمبر11ڈہوک میر باز
پرانا گلیانہ روڈ ،محلہ رجگان ،ڈہوک میر باز ،
وارڈ نمبر 12کرولی
محلہ کرولی،ڈہوک شاہ زمان ،
وارڈ نمبر 13 مسلم ٹاؤن
مسلم ٹاؤن،نئی آبادی،ڈہوک وادی
وراڈ نمبر14محلہ راجگان
محلہ راجگان،محلہ شیخاں ،حلوائی گلی،مکی جامع مسجد،
وارڈ نمبر15حیات سر روڈ
حیات سر روڈ ،محلہ قریشیاں ،خواجہ سٹریٹ،محلہ ملت انٹر کالج،گرڈ اسٹیشن،شاہین چلڈرن اکیڈمی،
وارڈ نمبر16میلاد نگر
میلاد نگر ،میلاد چوک،محلہ سرور ٹاؤن ،گلیانہ موڑ،قاضی آباد،محلہ فیروزدین،شمس کالونی
وارڈ نمبر17سول ہسپتال
محلہ سول ہسپتال،مغل آباد،کلب پراناسینما،برف خانہ،محلہ راجہ اکرم خان،بلال مسجد
محلہ جھنڈا1
جھنڈا
محلہ جھنڈا2
جھنڈا نئی آبادی ڈہوک چوہان،قاسم آباد

p4.ajpg

پوری قوت کے ساتھ بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیں گے، فرخ سیال

2015-05-16 12.20.46 2015-05-16 12.20.50 2015-05-16 12.20.58 2015-05-16 12.21.04 2015-05-16 12.21.07 2015-05-16 12.21.11 2015-05-16 12.21.17 2015-05-16 12.21.20 2015-05-16 12.21.24 2015-05-16 12.21.31 2015-05-16 12.21.34

گوجرخان (انٹرویو :سید منور نقوی)تحریک انصاف گوجرخان کے رہنما فرخ سیال نے کہا کہ تحریک انصاف گوجرخان متحد ہے پوری قوت کے ساتھ بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیں گے ہر یونین کونسل میں ایسے امیدواروں کو سامنے لائیں گے جوکہ خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور عوام کی ووٹ کے اہل ہوں جلد گوجرخان میں ورکرز کنونشن بلا رہے ہیں جس میں بھر پورطاقت کا مظاہرہ کریں گے،کنونشن میں مرکزی قیادت بھی شرکت کرے گی،جبکہ شاہ محمود قرشی بھی جلد گوجرخان کا دورہ کریں گے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے راول نیوز کے ساتھ ایک نشست کے دوران کیاانھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی طویل جدوجہد سے ملک میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے،عوام دشمن قوتیں عمران خان کے خلاف متحد ہوچکی ہیں ،عمران خان سچے اور محب وطن پاکستانی ہیں جو ملک میں انصاف اور خوشحالی کے خواں ہیں ،ملک پر مسلط کرپٹ لیڈروں سے نجات دلاکررئیں گے جو اس ملک میں ترقی نہیں چاہتا وہ عمران خان کا دشمن ہے کیونکہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے عواممیں شعور بیدار کیا ہے اب لوگوں کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا جب عمران خان نے دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی اور صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تو لوگ مذاق سمجھ کر نظر انداز کردیتے تھے مگر آج ہر شخص کی زبان پر ہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی سے اقتدار میں آئی ہے ،انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف عوام کی ترجمان جماعت ہے ،اقتدار میں آکر دہشت گردی،بے روزگاری،لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے صوبہ خیبر پختونخواہ میں تبدیلی آچکی ہے جہاں کرپشن اور اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کردی گئی اور ادارے مضبوط بنائے جارہے ہیں ایک سوال کے جواب میں فرخ سیال نے کہا کہمجھے کسی بھی عہدے کا لالچ نہیں تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے نظریات سے متاثر ہوکر اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے ،انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف گوجرخان کا مقابلہ مسلم لیگ(ن)سے ہوگا اگر تحریک انصاف کو موقع ملا تو گوجرخان میں گلیانہ موڑ تا کالج اوور ہیڈ بریج بنائیں گے،چہاری کے مقام پر پنجاب یونیورسٹی کا قیام ،ایک پبلک پارک اور جی ٹی روڈ پر ایک بڑا ہسپتال ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے

سپر ماڈل کی ڈائری

Read more

سعودی عرب ،مکہ مکرمہ اورمدینہ شریف پر حملے کاخطرہ ہوا تو ہم سب سکا دفاع کریں گے، لارڈ نذیر احمد

lord
گو جر خان(شبیر احمد کھوکھر)اگر سعودی عرب ،مکہ مکرمہ اورمدینہ شریف پر حملے کاخطرہ ہوا تو پاکستانی افواج سمیت ہم سب سکا دفاع کریں گے مگر مو جودہ صورتحال ایسی نہیں کہ ہم اپنی فوج کو وہاں بھیجیں۔ اور یہ کہ ملک میں اگر کسی واحد شخصیت کا احترام ہے تو وہ جنر ل راحیل شریف ہیں اورپوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار لارڈ نذیر احمد نے گو جر خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔انہوں نے گو جر خان میں بہت مصروف دن گذارا۔ پہلے انہوں نے جی ٹی روڈ پر واقع ایک رفاعی سکول؛لطیف فاؤنڈیشن سکول؛کا دورہ کیا۔یہاں پہنچنے پر لارڈ نذیر احمد کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔اور ان پر پھو لوں کی پتیاں پھینکی گئیں۔اس سکول میں 8سوبچوں کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ اور مستحقین کے کتب اور آ مدورفت سمیت تمام اخراجات ادارہ برداشت کرتا ہے۔ پرنسپل نجم مصطفی نے لارڈ نذیر احمد کو لیبارٹری ،گراونڈ، کلاسز، مسجد اور سکول کے مختلیف حصے دکھائے۔لارڈ نذیر احمد نے سکول کے معیار کو بے حد سراہا۔اور کہا کہ یہ قابل تقلید مثال ہے کہ اسکے چیرمین چوہدری محمد اشتیاق اس ادارے کے تمام اخراجات خود بر داشت کر رہے ہیں۔ اگر غیر ممالک میں مقیم گو جر خان کے لوگ ایک ایک سکول بھی اپنا لیں تو تعلیم کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔جس طرح سر انور پرویز کر رہے ہیں،سکول آ فس میں انہوں نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ملک کی مو جو دہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔اور بظاہر ایسے حالات نہیں ہیں کہ یمن سعودی عرب پر حملہ کرے اور اسکی سلامتی کو کوئی خطرہ ہو۔خانہ جنگی یمن کا اندرونی مسئلہ ہے۔ جہاں شیعہ اور سنیوں کے گروپ آ پس میں لڑ رہے ہیں۔اور عالم اسلام کو اسکو روکنے کی کوششیں کرنا چاہیں۔ اور پاکستام کو ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام اقدامات ملکی مفاد، عالمی قوانین اور یو این او کے تابع رہ کر کرنا ہوں گے۔مگر عالمی میڈیا یہ اطلاعات دے رہا ہے کہ پاکستان فیصلے کر چکا ہے۔ جو کہ تشویشناک ہے۔ لارڈ نذیر نے کہا کہ ہماری مسلح افواج پہلے ہی کئی محاذوں پر بر سر پیکار ہیں۔کشمیر اور سیالکوٹ کے محاذوں پر بھارت بمباری کر رہا ہے۔ افغانستان سائیڈ پر ہم دہشت گردوں سے نبرد آ زما ہیں اور بلوچستان میں وطن دشمن ہماری سالمیت کو کمزور کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں افواج کو دوسروں کی جنگ میں جھونکنا دانشمندی نہیں ہو گی۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ میں نے مشرف کو بھی لال مسجد میں کاروائی سے روکا تھا اور انہیں کہا تھا کہ بلوچستان میں شازیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے قانون کو اپنا راستہ بنانے دیں ۔ اور کراچی میں حکومتی ایما پر جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ آج انہی کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہیں۔ لارڈ نذیر نے کہا کہ یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ نواز شریف کے سعودی عرب میں مالی اور ذاتی مفادات ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں پیلس، سٹیل مل،ٹرانسپورٹ اور سکریپ کا بزنس کس کا ہے۔ اور خدشہ ہے کہ اس وجہ سے کوئی غلط فیصلہ نہ ہو جائے۔ میں نواز شریف کو متنبہ کرتا ہوں کہ انکے غلط فیصلے کی وجہ سے اگر وطن عزیز میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور 10سال یا اس سے زیادہ عرصہ جاری رہ سکتی ہے۔ اور اسکے ذمہ دارنواز شریف ہوں گے ملک اس کا متعمل نہیں ہو سکتا ہے۔لارڈ نذیر احمد نے مزید کہا کہ جرمن میں عیسائیوں کے فرقوں پرونسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں کے مابین جنگ 30سال تک جاری رہی۔ اور مجھے ایسی صورتحال سے ڈر لگ رہا ہے۔لارڈ نذیر احمد نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ میں نے دو بار ایران کا دورہ کیا ہے اور خامنہ ای سے ملا قات بھی کی۔ ان سے ملا قات میں بھی میں نے ان سے کہا کہ آپکے لوگوں کو دوسرے کے جذبات کا کا احترام کرنا چاہئے۔ اور کسی کے بارے میں قابل اعتراض استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ لارڈ نذیر احمد نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو پھانسیوں سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک میں ایسا ہو رہا ہے۔ یورپی یونین اپنے تئیں کوئی تجویز دے رہی ہے تو اسکو حق حاصل ہے۔ مگر اسکو پاکستان کے اندروانی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ برطانیہ میں عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں پاکستان کو وہ دو ملزمان اسکے حوالے کرنا چاہیں جو انکے پاس ہیں۔ تبھی اسکا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزرا اس سلسلے میں موقف بدلتے رہتے ہیں۔ اور اب یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ ملزمان نہیں ہیں۔ مگر میں بتا دوں کہ مجھے علم ہے کہ وہ کہاں ہیں کو وقت آ نے پر بتاؤں گا۔لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ نے نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ آ پ فوج کی عزت کریں اور کرائیں کیونکہ فوج وہ واحد ادارہ ہے جس کی ملک میں سب سے زیادہ عزت ہے اور ایک آ دمی جو وقت ملک میں سب سے زیادہ مقبول ہے وہ جنرل راحیل شریف ہے۔سیاستدانوں کے بارے میں قوم کو پتہ ہے کہ کس کے ڈالر اور پاؤنڈ کس کس ملک میں ہیں۔لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کا جو شخص گرفتار ہوا شنید ہے کہ وہ پاکستان کا شہری ہی نہیں ہے۔ اس نے میرے خلاف اس لیے بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا کہ میں پاکستان کی بات کرتا تھا۔ اور عمران قتل کیس کے حل میں گہری دلچسپی لے رہا تھا۔ اس نے650اراکین پارلیمنٹ کو میرے خلاف خط لکھے مگر خدا نے آ ج اسے بے نقاب کر دیا۔سب کو علم ہے کہ وہ الطاف حسین کا فرنٹ مین ہے۔لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ میر پور آ زادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی کرپشن کو شکست ہوئی ہے۔وزیر اعظم اور بائیس وزرا ایک ایک گھر گئے اور ہر طریقہ آ زمایا مگر عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو شکست سے دو چار کیا۔یہ بیرسٹر سلطان محمود اور عمران خان کی بڑی کامیابی ہے۔اسکے بعد لارڈ نذیر احمد کو پورے پروٹوکول کے ساتھ پولیس اور وارڈنز کے سکواڈ کے ساتھ نواحی قصبہ ڈھوک میر پوریاں لے جایا گیا جہاں انہوں نے ن لیگ بر طانیہ کے راہنما اے ڈی خان کے والد کے انتقال پر تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر لو گوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی ۔ جنہوں نے لارڈ نذیر احمد سے ہاتھ ملائے اور عالم اسلام اور پاکستان کے بار ے میں جراتمندانہ موقف اپنانے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔یہاں لارڈ نذیر احمد نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے انتخابی دھاندلیوں کے بارے میں کمیشن بنانے پر نواز شریف کی تعریف کی اور کہا کہ نواز شریف کے اس اقدام سے ملک میں جمہورت مضبوط ہو گی اور ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔ لارڈ نذیر احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گو جر خان کو ضلع کا درجہ دیا جائے۔

جگر گوشے کی زندگی کا سوال ہے؟

Rahman Ullah Letter 001Image0002 Image0003Rahman Ullah NICجگر گوشے کی زندگی کا سوال ہے؟

سپیشل رپورٹ

p8

بنیادی مرکز صحت کسراں

بنیادی مرکز صحت کسراں محکمہ صحت اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے لیے سوالیہ نشان ، ہسپتال کے صحن کے درمیان میں گڑھا نما کنواں، پانی کی سہولت نہیں 20150113_114908 20150113_115602 20150113_115654 20150113_115808 20150113_115918 20150113_115943 20150113_120032 20150113_120208 20150113_120228 20150113_120403 20150113_120444 20150113_120501 20150113_120537 20150113_120547 20150113_120708 20150113_120743 20150113_120802ہے ، بلڈنگ انتہائی برے حالات میں ، سٹاف نہ ہونے کے برابر ہے (فوٹو گرافی مرزا محمد رفیع اعجاز)
سید اڈا (نوید اسلم فرحت) یو سی سید کسراں کا بی ایچ یو کسراں محکمہ صحت اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے لیے سوالیہ نشان بن گیا ایک لیڈی آفیسر انچارج ڈاکٹر منزہ جوکہ حال ہی ستمبر 2014 میں ہسپتال کو جائن کیا پورے ہسپتال کا نظام بہت کم عملے کے ساتھ وہ بہت مشکل سے چلارہی ہیں جب راول نیوز کی ٹیم ہسپتال کے گیٹ پر پہنچی تو ملکی حالات کے پیش نظر یہ ذہن میں تھا کہ سیکورٹی گارڈ یا چوکیدارگیٹ پر موجود ہوگا جس کو ہم تعارف کرائیں گے لیکن وہاں پہنچ کر حیرانگی ہوئی کہ مین گیٹ بند ہونے کے ساتھ گیٹ کی کھڑکی کھلی ہے جس کے ساتھ گدھی باندھی تھی ہم بڑی مشکل سے راستہ کلیئر کر کے ہسپتال کے اندر داخل ہوئے جب جاتے ہی ڈاکٹر صاحبہ پر سوال کیا کہ ہسپتال انسانوں کا ہے اور اس کے مین گیٹ پر گدھی کا کیا کام ہے وہ حیران ہوئی ایک بندے کو بھیجا کہ گدھی کس کی ہے تو ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ کسی مریض کی ہوگی اور اب وہ چلے گئے ہیں ڈاکٹر صاحبہ کافی پریشان ہوئیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے کبھی بھی جانور ہسپتال میں آنے نہیں دیا یہ کوئی مریض آیا ہے وہ گیٹ کے ساتھ باندھ کے آگیا
اس ہسپتال میں ڈاکٹر کے علاواہ صرف 4 آدمی مستقل سٹاف کے طور پر کام کررہے ہیں جوکہ ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ ان چار سٹاف کے ساتھ کام کرنا مشکل ہے کیونکہ ہسپتال میں 20سے 25مریض روزانہ ہسپتال میں آتے ہیں اور تقریبا ایک مہینہ میں سات سو کے قریب مریض چیک ہوتے ہیں اس کے علاواہ ایک ویکسینیٹر اور 9لیڈی ہیلتھ ورکر ہسپتال کے ساتھ کام کررہی ہیں جوکہ کوئی بھی ویکسین ہو پولیو وغیرہ میں کام کرتے ہیں اس کے علاواہ اس ہسپتال کو فوری ضرورت ہے جن کے بغیر کام کرنا بہت مشکل ہے ان میں ایل ایچ وی، ڈسپنسراور ایک سپروائزر کی ضرورت ہے جن کے بغیر ہسپتال کا کام چلانا مشکل ہے اس کے علاواہ ایک عدد سنیٹی ورکر بھی چاہیے کیونکہ صفائی کا نظام بھی درہم برہم ہے
سب سے بڑا مسئلہ اس ہسپتال میں پانی کی سہولت میسر نہیں ہے اور ہسپتال کے استعمال اور پینے کا پانی ایک ہمسایہ کے رحم و کرم پر ہے ان کا شکریہ کے وہ ہسپتال کو پانی کی سہولت میسر کررہے ہیں ہسپتال کے اندر ایک خشک کنواں موجود ہے جو کہ متنازعہ ہے جس کی انکوائری چل رہی ہے کافی عرصہ سے اس کنویں سے اینٹیں نکال کر ہسپتال کے ساتھ باہر گاؤں کے لیے پانی والی ٹینکی بنادی گئی ہے اور یہ کنواں جو کہ تصویر سے واضح ہے ایک بہت بڑے گڑھے کی شکل میں موجود ہے اور بہت غیر محفوظ ہے ہسپتال کی حویلی کے بالکل درمیان میں واقع ہے انتہائی خطرنک ہے جس کی دیواریں گر رہی ہیں اور یہ کسی بھی بڑے حادثے کا موجب بن سکتا ہے ہسپتال میں عورتوں اور بچوں کا آنا جانا ہے جبکہ چند سال پہلے اس گاؤں کے ساتھ گورنمنٹ کاظمیہ ہائی سکول سید میں ایک بچے کی جان ایک اس طرح کے کنویں میں چلی گئی ہے اگر اس کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو خدانخواستہ کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے
ہسپتال کے ساتھ کچھ رہائشی بلڈنگ موجود ہے جوکہ انتہائی بری حالت میں ہے اور اس کے علاواہ جو بلڈنگ استعمال میں ہے وہ بھی انتہائی بوسیدہ حالت میں ہے کافی جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ویکسینیٹر کے مطابق چھت کی مرمت اپنی مدد آپ کے تحت ہوئی ورنہ تھوڑی سی بارش ہوتے ہی چھت ٹپکتی رہتی تھی
اس کے علاواہ ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ انجکشن بہت کم آتے ہیں ہسپتال میں میڈیسن بھی کم ہیں لیکن مل جاتی ہیں اس کے علاواہ ہسپتال میں ڈسپنسری موجو د ہے مگر ڈسپنسر نہیں ہے ایک بہت اچھا لیبر روم ہے جس میں تما م ضرورت کی اشیاء آکسیجن گیس تک موجود ہے ایک وارڈ بھی ہے اس کے علاواہ ہسپتال میں موجود مریضوں سے جب سوال کیا گیا تو ڈاکٹر صاحبہ کے آنے پر کافی مطئمن دکھائی دیئے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی آتے ہیں ہمیں تسلی بخش دوائی ملتی ہے اور ہم ٹھیک ہو جاتے ہیں
میر ی حکام بالا خا ص کرکے محکمہ صحت اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے اپیل ہے کہ اس دوردراز کے علاقہ میں اہلیان علاقہ کے لیے یہ واحد سہولت ہے جس سے کوئی غریب آدمی مستفید ہورہا ہے اور اگر یہ بھی ختم ہوگئی تو اہلیان علاقہ کے لیے کیا ہوگا اس لیے اپیل کرتے ہیں کہ پچھلے ایک شمارے میں ساتھ ایک بنیادی مرکز صحت باہولے کی رپورٹ لگائی جس میں ڈاکٹر ہی نہیں ہے لیکن ابھی تک وہاں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی مگر اس ہسپتال میں ڈاکٹر بھی موجود ہے مگر اس کی حالت خا ص کرکے بلڈنگ اور صحن میں موجود کنواں اور پانی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادھورا ہے اس لیے عوامی نمائندوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے اور لوکل سیاسی قیادت بھی اس معاملے میں دلچسپی لیتے ہوئے اس ہسپتال کی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں آپکا TEAM naveed frahtبہت بہت شکریہ

دبئی کی ڈائری

Read more

شرقی گوجرخان میں ڈاکو راج قائم ہوگیابرطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی تشویش

ZAHID MIRZA
لندن (رپورٹ:زاہد انور مرزا)برطانیہ میں مقیم گوجرخان سے تعلق رکھنے والی سماجی وسیاسی مزاہبی،اور صحافتی حلقوں استحکام پاکستان کونسل برطانیہ کے صدر زاہد انور مرزا،راجہ فیصل کیانی،راجہ اظہر بھٹی،شاہد کیانی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شرقی گوجرخان میں جاری ڈکیتیوں اور دیگر سنگین وارداتوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے سی پی او راولپنڈی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے گوجرخان کی مقامی انتظامیہ کے خلاف سخت تنقید کرتے مقامی انتظامیہ کی ناہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی جلد اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشنر لندن سے ملاقات کرکے شرقی گوجرخان میں ڈکیتوں کے خلاف احتجاج کریں گے گزشتہ چند ماہ میں برطانیہ سے پاکستان جانے والے اوورسیز کو ائرپورٹ سے جاتے ہوئے بھی لو ٹ لیا گیا اور کئی افراد کے گھروں کو اسلحہ کی نوک پر نہ صرف لوٹ لیا گیا بلکہ انھیں اور ان کے خاندان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اوورسیز نہ صرف گوجرخان بلکہ میرپور،جہلم،دینہ،اور گردونواحی علاقوں میں بھی محفوظ نہیں

پولیس اسٹیشن روات۔۔ ماڈل کا درجہ فائلوں میں دب گیا

Read more

جاتلی کی ڈاہری

Read more

سید کی ڈائری

IMG_0386 IMG_0387 IMG_0389 IMG_0391 IMG_0403 IMG_0411 IMG_0419 IMG_0424 IMG_0427 IMG_0439 IMG_0444 IMG_0448 IMG_0449 IMG_0452 IMG_0458 IMG_0462 IMG_0463 IMG_0475 IMG_0477 IMG_0482 IMG_0483 IMG_0484 IMG_0487 IMG_0501 IMG_0514 IMG_0515سیدکسراں میں جشن عید میلادنبی ﷺ کے جلوس
سید اڈا ( نوید اسلم فرحت+محمد رفیع اعجاز) بنی پاکﷺ کے اسوۃ حسنہ پر عمل کرنا ہی انسانی زندگی کا عظیم پہلو ہے ، نبی پاک ﷺکی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے میں کامیابی ہے ، ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی کائنات میں نور کی روشنی پھیل جاتی ہے ، جشن عید میلادالنبی ﷺ کے جلوس اور اجتماع سے علماء کرام کا خطاب ، تفصیلات کے مطابق دارلعلوم کلریالہ شریف سے 12ربیع الاؤل کی صبح 7بجے جلوس برآمد ہوا تقریباً5گھنٹے جلوس کلریالہ کے گلیوں ، محلوں اورسینکڑوں گھروں سے ہوتا ہوا سید اڈا کی طرف روانہ ہوا ہر گھر میں جلوس کی تواضع ، کھانے پینے کی اشیاء چائے اور مشروب سے کی گی شدید دھند اور سردی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جلوس میں شامل ہوئے اور سارا دن چلتے رہے سید اڈا پر باہولے ، نتھیہ گلباز، پنجگراں کلاں ، ماچھیہ اور گردو نواح کے جلوس بھی اس میں شامل ہوگئے سید اڈا پر مقررین نے جلوس سے خطاب کرکے تعلیمات نبویﷺ پر روشنی ڈالی اور سید اڈا پر فقہ جعفریہ سیدکسراں کی طرف سے حلوہ پیش کرکے جلوس کا استقبال کیا گیا ہر طرف دوروو سلام کی صدائیں بلند ہونے لگیں پورے علاقے میں رکشوں اور گاڑیوں پر سپیکر لگاکر نعت خوانی اور دورودسلام کی صداوءں میں جلوس سید اڈا سے کلریالہ طرف روانہ ہوا سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل جلوس ٹاہلی موڑ کے راستے سے ہوتا ہوا فضا درود و سلام سے معطر اور نعروں سے گو نج رہی تھی چشم فلک بھی اس بات پر معطر رہی اور تھوڑی دیر کے بعد دھند پانی کی صور ت میں عاشقان رسول ﷺ کے کپڑوں اور جسموں کو تر کرتی رہی اللہ کی رحمتیں نازل ہورہی تھی ایسا لگتا تھا کہ مدینہ کی فضائیں ہیں ہر طرف نو ر ہی نور کا سماں تھا ظہر کی نماز کے وقت جلوس کلریالہ دارلعلوم میں اختتام پذیر ہوا تو وہاں ایک بہت بڑے اجتماع سے علماء کرام حافظ و قاری ریاض حسین سلطانی، علامہ غلام سرور سلطانی ، علامہ کاظم عطاری ، سید امیر حسین شاہ، نے خطاب کیا درس کے بچوں کے علاواہ ملک بھر سے نعت خواں حضرات نے شرکت کی سب سے زیادہ عبدالغفار جامی نے عقیدت کے پھول نچھاور کیے تو جیسے نور آسمان سے برسنے لگا آخر میں ملکی سلامتی اور دہشتگردی سے بچنے کے لیے دعا کی گئی اس کے بعد عصر کی نماز ادا کی گئی اور محفل کا اختتام ہو گیا اس محفل میں باہر سے تشریف لانے والے مہمانان گرامی میں برگیڈئیر (ر) سلطان، کرنل (ر) ظفر، کرنل ( ر) حبیب الرحمان ، چوہدری دلآویز خان کے علاواہ علاقہ بھر کی TEAM naveed frahtسیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی

گوجرخان کی کرائم ڈائری

Gujar Khan Crime Dairyگوجرخان کی کرائم ڈائری
اسد ملک گوجرخان
گوجرخان سال2014کے دوران چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں شہریوں کو ساڑھے تین کروڑ مالیتی زیورات ،قیمتی سامان ،نقدی سمیت 9گاڑیوں اور24موٹر سائیکلوں سے محروم کردیا گیا پولیس نے چار گاڑیاں ،ایک موٹر سائیکل اور ایک کروڑ نوے لاکھ روپے مالیتی مال مسروقہ برآمد کیا 19افراد قتل جبکہ اقدام قتل کے29مقدمات درج ہوئے جبکہ اسلحہ اورمنشیات برآمدکرکے 362افرادکو گرفتار کیا گیا تفصیلات کے مطابق 2014میں تھانہ گوجرخان میں مجموعی طور پر 837مقدمات درج ہوئے چوری ڈکیتی ،رہزنی کی 107وارداتوں میں شہری 3کروڑ53لاکھ 62ہزار روپے مالیتی طلائی زیورات ،نقدی ،قیمتی سامان اور 9گاڑیوں اور24موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے پولیس نے 52ملزمان کو گرفتار کرکے ایک کروڑ 90لاکھ 92ہزار روپے مالیتی اثاثہ جات ،ایک موٹرسائیکل اور4گاڑیاں برآمد کرلیں قتل کے19، اقدام قتل کے29 جبکہ ایکسیڈنٹ کے 27مقدمات درج ہوئے جن میں98 ملزمان کو گرفتار کیا گیا 2014میں پولیس نے 219اشتہاری اور198عدالتی اشتہاریوں کو گرفتار کیا پولیس نے اسلحہ کے199مقدمات میں 198ملزمان کو گرفتار کرکے 151پسٹل،9ریوالور،5رائفل ،دو کلاشنکوف اور1580روند برآمد کئے جبکہ منشیات کے 164مقدمات میں 20کلو چرس ،2051بوتل شراب ،118لیٹر شراب اور700گرام ہیروئن برآمد کرکے 164ملزمان کو گرفتار کیا قمار بازی کے 5مقدمات میں 34جواریوں کو گرفتار کرکے داؤ پر لگی رقم 2لاکھ 26ہزار قبضہ میں لی جبکہ مویشی چوری کی چار وارداتوں میں 8ملزمان کو گرفتار کرکے 1لاکھ اسی ہزار مالیتی مویشی برآمد کئے

بنیادی مرکز صحت باہولے دو سال سے ڈاکٹر کا منتظر رپورٹ :نوید اسلم فرحت

بنیادی مرکز صحت باہولے دو سال سے ڈاکٹر کا منتظر رپورٹ :نوید اسلم فرحت
36کنال کے رقبے پر قائم بنیادی مرکز صحت باہولے یو سی پنجگراں کلاں دو سال سے ڈاکٹر کا منتظر
ڈاکٹر کی تمام تر ذمہ داریاں میڈیکل ٹیکنشن ادا کررہا ہے جبکہ باقی سٹاف مکمل ہے اور اپنی اپنی جگہ صحیح کام کررہا ہے ، مانیٹرنگ ٹیم کے لوگ صرف رجسٹر پر حاضری لگانے آتے ہیں آج تک کسی نے ڈاکٹر کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ہسپتال کی واحد ایل ایچ وی ایک گائناکالوجسٹ کی طرح کام کررہی ہے
20141229_114053 20141229_114116 20141229_114122 20141229_114154 20141229_114205 20141229_114212 20141229_124854 20141229_124900 20141229_124910 20141229_124932 20141229_124952 20141229_125053 20141229_125115 20141229_125208 20141229_125244 20141229_125307 20141229_125317 20141229_125328 20141229_125344 20141229_125553
سید اڈا (نوید اسلم فرحت) جہاں زندگی کو بہت ساری سہولیات چاہیں وہاں صحت سب سے اہم اور ضروری ہے یوسی پنجگراں کلاں جوکہ ٹوٹل 14موضعات پر مشتمل ہے جس میں تین اہم ترین سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جن میں ایک گرلز ہائی سکول یونین کونسل میں موجودنہیں ہے دوسرا ڈاکخانہ ہے وہ بھی ایک ایجنسی کے طور پرکام کررہا ہے جبکہ کافی زیادہ پنشنرز سید کسراں سے پنشن اور دوسری سہولیات حا صل کرتے ہیں اور تیسری چیز صحت ہے یوسی پنجگراں کلاں میں رنوترہ تا ٹاہلی موڑ سڑک کے کنارے واقع 36کنال کے رقبے پر قائم ایک ہسپتال ہے جوکہ بہت پرانا ہے کافی عرصہ سے قائم ہے اس میں کافی زیادہ سہولیات ہیں اس کی بلڈنگ کا ایک حصہ بہت پرانا اور ٹوٹا پھوٹا ہوا ہے جو کہ کافی عرصہ ہوگیا استعمال کے قابل نہیں ہے ہسپتال کے لیے ایک نئی خو بصورت بلڈنگ بنادی گئی ہے جوکہ اب استعمال کے قابل ہے
اس ہسپتال کی تاریخ میں جس ڈاکٹر نے سب سے زیادہ عرصہ گزارہ وہ ڈاکٹر رفاقت تھے جو کہ فیملی سمیت یہاں پر رہائش پذیر تھے اور یہاں رہے اس کے بعد کچھ عرصہ ایک اور ڈاکٹڑ عقیل تھے رہے اس کے علاواہ یہاں کوئی بھی نہ رہ سکا
اس ہسپتال میں اس وقت ایک وارڈ موجود ہے اس کے علاواہ ایک میڈیکل ڈسپنسری ، ایل ایچ وی کا کمرہ، لیبرروم اور میڈیکل انچارج کا کمرہ موجود ہے اس کے علاواایک نئی خو بصورت بلڈنگ رہائش کے لیے موجود ہے ہسپتال میں موجود ایک میڈیکل ٹیکنشن سلطان ہے جوکہ کافی عرصہ ہوگیا ہے یہاں اپنے فرائض سے سبکدوش ہورہا ہے اب ایک مہینہ اس کی سروس رہ گئی ہے اور وہ ساٹھ سال عمر پوری کرکے اپنی پیشن لینے والے ہیں مگر سروس کے اس آخری حصے میں وہ انتہائی رسک لے رہے ہیں پچھلے دوسال سے وہ خود ہی ڈاکٹر، اور انچارج ہیں مریض خود چیک کرتے ہیں اور میڈیسن بھی خود تجویز کرتے ہیں جوکہ ایک ڈاکٹر کا کام ہے اگر کوئی غلط ہوگیا تو ان کی خیر نہیں ہے
ہسپتال میں ایک مہینہ میں ایک ہزار کے لگ بھگ مریض آتے ہیں اور میڈیکل ٹیکنشن مریضوں کو مایوس نہیں ہونے دیتے اور ان کو دوائیاں دے کر فارغ کردیتے ہیں جس سے اہلیان علاقہ ان سے بہت خوش ہیں اور 400کے لگ بھگ حاملہ عورتیں ہسپتال کا رجوع کرتی ہیں جن کا علاج ایل ایچ وی ہی کرتی ہیں ہسپتال میں کل آٹھ سٹاف ہے جبکہ LHWبھی آٹھ ہی اس ہسپتال کے رحم و کرم پرہیں
ایک سوال کے جواب میں LHVنے کہا کہ یہاں ڈاکٹر صرف لوکل یعنی اس علاقے کا رہائشی ہی کام کرسکتا ہے دوسرا جو بھی آتا ہے ہسپتال کا محل وقوع دیکھتے ہی بھاگ جاتا ہے اور میرے سامنے موضع باہولے سے تعلق رکھنے والی ایک مریضہ بچی مصباح دختر اسد آئی جس کو میڈیکل ٹیکنشن نے چیک کیا اس کی والدہ نے بتایا کہ وہ کافی مطئمن ہیں سلطان صاحب دوائی اچھی دیتے ہیں اور بچے ٹھیک ہوجاتے ہیں اس کے علاواہ بھی گردونواح سے تعلق رکھنے والے کافی مریض آئے جن کا مطالبہ تھا کہ ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کو تعنیات کیا جائے ، ہسپتال کے سٹاف میں میڈیکل ٹیکنشن، LHV,، نائب قاصد، سپروائزر، سینٹی ورکر، ویکسینیٹر، چوکیدار اور دائی شامل ہیں ۔ پرانی بلڈنگ کے ایک کوارٹر میں چوکیدار رہائش پذیر ہے جوکہ رات کو ادھر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے
ہسپتال کے لیبر روم میں تمام سہولیات اور مشینری موجود تھی جوکہ بہترین حالت میں تھی ان کی بہترین حالت اور دیکھ بھال LHVکی محنت اور اپنے پیشہ کے ساتھ محبت ہے جوکہ کافی دور دراز سے سفر ی مشکلات کے بعد روزانہ بروقت اپنی ڈیوٹی ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتی ہے اور اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر کام کرتی ہیں اس مشینری میں سب سے اچھی بات ڈلیوری کا پورا سامان ہونے کے ساتھ بچے کے سانس لینے کے لیے Encubatre مشین بھی موجود ہے
ہسپتال اتنا بڑاہونے کے باوجود ایک برائے نام ہسپتال ہے کیونکہ ڈاکٹر کے بغیر ہسپتال کی اہمیت نہیں اور اتنے بڑے علاقے اور دور دراز کے دیہات میں اگر اس ہسپتال میں ڈاکٹر نہ آیا تو عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ یہاں کے لوگ بہت غریب اور کاشتکار ہیں یہ پرائیویٹ ڈاکٹرز اور کلینک سے علاج کرانا ان کے لیے مہنگائی کے اس دور میں مشکل ہے اس لیے اس ہسپتال میں ڈاکٹڑ ہونا ضروری ہے
ہم محترم ڈی ایچ او رندھاوا صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ ہسپتال میں لگے اشتہار وں سے عوام کو کوئی سہولت میسر نہیں آتی ہسپتال میں موجود ڈاکٹرز سے آتی ہے اس لیے مہر بانی فرماکر ہمارے اس بنیادی مرکز صحت میں کوئی اچھا سا ڈاکٹر تعنیات کردیں تاکہ علاقہ بھر کے لوگ مستفید ہوسکیں کیونکہ ہر سٹاف میں سلطان جیسے میڈیکل ٹیکنشن اور اس طرح کی ایل ایچ وی نہیں ہوسکتی جوکہ اپنی مدد آپ کے تحت پورے ہسپتال کو چلاسکیں اور اپنی ٹیم کو متحد کرکے ہر مہم پولیو ہو یا کوئی بھی ہو اس میں اہم کردار ادا کرسکیں جس سے عوام کو سہولت میسر ہو
رندھاوا صاحب اس بات پر فوری ایکشن لیں اور مہربانی کرکے بنیادی مرکز صحت باہولے میں ڈاکٹر تعنیات کریں
Naveed Aslam Frahat

naveed

کرائم ڈئری

تحریر۔ایم ندیم رانا
Crime Dairy DSP & MPA DSP & SHO dsp iftikhar imran khalid M Naddm Ranaانسان کو اشرف المخلوقات کے رتبہ عظیم پر فائز کرکے اللہ رب العزت نے کائنات میں موجودتمام مخلوقات میں اسے افضل کردیا اوراپنا نائب بناکر اسے بھلائی کاحکم دینے اور برائی کی روک تھام کرنے کا حکم دیا خالق ارض و سماکے اس حکم کوبجالانے میں کتنے ہی ایسے ہیں جوبھلائی اور برائی کی تمیز کو بھلائے بیٹھے ہیں اور رحمان کے حکم کو بھلاکر شیطان کے پیروکار بن چکے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکنے کے لیے اپنی سعی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کائنات کا نظام چل رہاہے کائنات کی تخلیق سے لیکر آج تک بھلائی اور برائی میں جنگ جاری ہے جو ابد سے ازل تک جاری رہے گی۔
بڑھتی ہوئی آبادی ، وسائل میں خطرناک حدتک کمی ،مسائل میں اضافہ اور معاشرتی ناہمواریوں نے انسان کو مادی وسائل کے حصول میں انسانیت کے درجہ سے گرادیانفسانفسی کے اس دورمیں مادی وسائل کے حصول کے لیے انسانیت سے گرجانا جہاں ایک طرف اصول اسلامی کی نفی ہے وہیں امن و آشتی کے غیاب اور افراتفری کے پھیلاؤ میں کردار نبھارہی ہے دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور چند ہاتھوں میں گردش نے دولت کے حصول کے لیے نیکی وبدی اور اسلام کے سنہری اصولوں کی اکثر افرادکو تمیز بھلادی ہے مادی وسائل کے حصول کے لیے بدی کے راستے کاچناؤ انہیں آسان و سیدھا دکھائی دیتاہے نتیجہ میں معاشرے میں جرائم تیزی سے پھیلتے چلے جاتے ہیں چوری و ڈکیتی کی وارداتیں بھی وقوع پذیر ہوتی ہیں اسکے ساتھ ساتھ نوسربازی اور جعلسازی کے ہتھکنڈے بھی اپنائے جاتے ہیں جوبلاشبہ معاشرے کے بگاڑ کاسبب بنتے ہیں ایسی وارداتوں میں ملوث افراد کی بیخ کنی ایک طرف تو سزاوجزا کے ذریعے کی جاسکتی ہے دوسری طرف ایسے افراد کی درست سمت میں راہنمائی اور تعلیم وتربیت سے معاشرہ میں امن قائم کیاجاسکتاہے ۔
تحصیل گوجرخان کو پنجاب کی ایک بڑی تحصیل ہونے کا اعزازحاصل ہے اس کے دوحصے ہیں جنہیں شرقی اور غربی حصہ کے نام سے موسوم کیاجاتاہے شرقی گوجرخان کے علاقے بھی امن و آشتی کا مرکز ہواکرتے تھے رواداری ، محبت و بھائی چارے کی فضا میں دن اوررات کی تمیز کے بغیر یہاں کے باسی اپنی زندگیاں گزارتے رہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ان علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے جرائم کے بعد سنگین وارداتوں کا ارتکاب شرو ع ہوا اور یہاں کی فضا میں بھی خوف و ہراس پھیلتاچلاگیاگزشتہ دنوں میں ہونے والی وارداتوں نے ایک طرف تو امن و امان میں خلل پیدا کیاخوف و ہراس پھیلادیا، وہیں پنجاب پولیس اور پولیس تھانہ گوجرخان کو بھی ایک امتحان میں ڈال دیا ۔
ان وارداتوں کی ابتدا مسلح ڈاکوؤں نے ایک ہی رات میں تین گھروں میں ڈکیتی کی وارداتوں کے ارتکاب سے کی 16اور 17نومبر کی درمیانی رات بیول کی نواحی ڈھوک بھٹہ کے رہائشی دوبھائیوں خالد محمود اورارشد محمود ولد صابرحسین کے گھرمیں ڈکیتی کی واردات میں نامعلوم مسلح افراد نے کھڑکی کے قریب سوئی بچی پر پستول تان کردروازہ کھلوایا اور گھرمیں موجود تمام افراد کو اسلحہ کی نوک پر یرغمال بنالیا ڈاکوؤں نے گھرمیں موجود تمام الماریاں و دروازے توڑ ڈالے اور جامعہ تلاشی کے دوران35ہزارروپے نقدی،230برطانوی پاؤنڈزاور طلائی زیورات جن میں دوجوڑی کانٹے، چھ عدد انگوٹھی زنانہ،چھ عدد چوڑیاں،چھوٹے بچے کے کڑے،چار عدد مردانہ انگوٹھیاں اور ایک گلے کی چین شامل ہے لوٹ لیے ایک گھنٹہ سے زائد دورانیہ پر محیط اس واردات میں ڈاکوؤں نے اطمینان سے اپنی کاروائی مکمل کی لاکھوں کا مال وصول کرنے کے باوجود بھی ڈاکوؤں کی تسلی نہ ہوئی جس پر انہوں نے دوسری واردات بھی اسی گھرسے ملحقہ افتخاراحمدولد بوستان خان کے گھر میں کرڈالی اس واردات میں ڈاکوؤں نے اطلاعی گھنٹی رات کے ڈیڑھ بجے بجائی اور دروازہ کھولنے پر افتخار احمدودیگر رہائشیوں کو یرغمال بنالیااور گھر میں موجود طلائی زیورات و نقدی لوٹ لی جن میں58ہزارروپے نقدی،موبائل فون آئی فوربغیرسم،لیپ ٹاپ،سام سنگ گلیکسی فون دوعدد طلائی زیورات ایک جوڑی بالیاں اور ایک عدد انگوٹھی شامل ہیں ڈاکوؤں نے اس واردات میں بھی اطمینان سے اپنی کاروائی مکمل کی اور لوٹ کا مال وصول کرکے چلتے بنے اسی رات میں ڈاکوؤں نے تیسری واردات رات کے تین بجے بیول مدنی محلہ کے رہائشی محمدجاویدکے گھرمیں کی جس میں ڈاکوؤں نے پندرہ منٹ میں 60 تولے سے زائد کے طلائی زیورات ،پاکستانی وغیرملکی کرنسی و لوٹ لی اور فرار ہوگئے جس میں نقصان کی مالیت قریباً پچاس لاکھ روپے کے زائد بتائی جاتی ہے ڈھوک بھٹہ میں جہاں یہ وارداتیں ہوئیں اور مدنی محلہ بیول کے درمیان ایک کلومیٹر کا فاصلہ حائل ہے اغلب امکان یہی ہے کہ جو افراد پہلی دووارداتوں میں ملوث ہیں مدنی محلہ کی واردات میں بھی یہی افراد ملوث ہوسکتے ہیں ان وارداتوں میں دس افراد کے قریب ملوث ہونے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں وارداتوں کی اطلاع پا کر پولیس تھانہ گوجرخان کے ایس ایچ نے روایات کو توڑنا مناسب نہ سمجھااور صبح نوبجے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ ہی آئے جس کے ایک گھنٹہ بعد قریباً دس بجے کے لگ بھگ ڈی ایس پی گوجرخان مرزازمان رضا اور مقامی ایم پی اے افتخار احمدوارثی بھی پہنچے اور متاثرین کو تسلی دی ان ڈکیتیوں کے متاثرین نے پولیس کو ڈاکوؤں کی جلد گرفتاری کے لیے پریس کانفرنس بھی کی متاثرین کے مطابق پولیس نے ان کی ایف آئی آر بھی درست نہ درج کی متاثرین کے مطابق ڈاکوؤں کی تعداد دس کے قریب تھی مگر پولیس نے ایف آئی آر میں چار ڈاکو ظاہرکیے اور فرضی کاروائی سے ’’مٹی پاؤ‘‘ پرعمل کیا۔
اسکے ایک ہی دن بعدیعنی17اور 18نومبر کی درمیانی رات چوری کی بہت بڑی واردات وقوع پذیرہوئی جس میں چوروں نے یو سی تھاتھی ڈھوک درہ داخلی کنگر کے رہائشی محمد اکرم ولد فضل داد کے گھر نا معلوم چور ہمارے گھر کے تالے توڑ کر کمرہ کے ایک بکس سے دو لاکھ چون ہزار روپے نقد ،،چار انگوٹھی ،ایک ہار ،دو کانٹے چوری ،ایک چنبر،تین نتھلی جو نو تولے کے زیورات بنتے ہے جس کی مالیت تقریبا بیالیس لاکھ روپے بتائی جاتی ہے اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے مدعی کی درخواست پر پولیس تھانہ گوجر خان نے457/380ت،پ کے تحت مقدمہ درج کرکے کاروائی کا آغاز کیا مگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوسکے ۔
نواحی گاؤں موہڑہ نگیال میں24نومبر رات اڑھائی بجے قریباً نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے حافظ محمدعمران کے گھر پر دھاوا بول دیا ڈاکودیوار پھلانگ کر گھر کے اندراور دروازے توڑ کر کمروں کے اندر داخل ہوئے اور مکین حافظ محمدعمران پرڈنڈے سے وار کیا تاہم محمدعمران نے وارکوبچالیااسی دوران وہ گرکربیہو ش ہوگئے ڈاکوؤں نے گھرمیں موجودقیمتی اشیاء اڑالیں اور چلتے بنے۔ ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی کاروائی گھرمیں موجود کتے کو زہر دیکرشروع کی جس سے کتاہلاک ہوگیا متاثرہ حافظ محمدعمران کے مطابق ڈاکوؤں کی تعداد دس کے قریب تھی
اسی طرح چوری کی وارداتیںیونین کونسل تھاتھی کے علاقے گاؤں گوڑھا کے رہائشیوں خالق حسین،محمدبشیراور محمدمحبوب کے گھر وں پرہوئیں چوروں نے گھرمیں موجود قیمتی اشیاء،نقدی اورطلائی زیورات چرالیے یونین کونسل تھاتھی کی ایک اورڈھوک بوہڑ کے رہائشیوں شبیرحسین،مقصود حسین کے گھر سے بھی نامعلوم چور نقدی ،طلائی زیورات و قیمتی اشیاء لے کر رفو چکر ہوگئے چوری کی ان وارداتوں میں بھی لاکھوں کا نقصان بتایاجاتاہے
چوری وڈکیتی کی وارداتوں کاتسلسل ٹوٹنے نہ پایا اورڈکیتی کی سنگین واردات ڈاکوؤں نے شرقی گوجرخان کے علاقے ڈھوک بھٹیاں میں کرڈالی رات 12 بجے کے قریب 10 مسلح ڈاکوؤں نے جدید آتشی اسلحہ سے لیس ہو کر چوہدری قمر زمان کے گھر دھاوا بول دیا مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے چوہدری قمر زمان اور اس کا جوان بیٹا ندیم قمر شدید زخمی ہو گئے ایک چھوٹے بچے کے پاؤں پر گولی لگ گئی جبکہ موضع بھٹیاں میں ہونے والی ڈکیتی جس میں 10 ڈاکوؤں نے دھاوا بولا لاکھوں روپے کے زیورات اور تقریباً ایک لاکھ روپے کی نقدی لوٹ کر فرار ہونے لگے تو چوہدری قمر وغیرہ نے مزاحمت کی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کرنی شروع کر دی جس میں چوہدری قمر کی دونوں ٹانگوں اور ایک بازو پر فائر لگنے سے ہڈیاں ٹوٹ گئی اور اس کے جوان بیٹے ندیم قمر کی ٹانگ پر گولی لگنے سے اس کی بھی ہڈی ٹوٹ گئی شدید زخمی حالت میں دونوں باپ بیٹے کو DHQ ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا جہاں پر ان کا علاج کیاگیا پولیس تھانہ گوجرخان کے ڈیوٹی آفیسر SI الیاس لودھی نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مضروب چوہدری قمر کے لواحقین کو خبردار کیا کہ آپ اس خبر کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھیں ورنہ آپ کا کیس خراب ہو جائیگا۔
چوری و ڈکیتی کی وارداتیں ایک طرف تو گھروں میں وقوع پذیر ہوتی رہیں جبکہ دوسری طرف سڑکوں پر ناکے لگاکر لوٹنے والے بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور شادی میں شرکت سے واپسی پر محمدایوب پٹواری سے نقدی و زیورات کے علاوہ گاڑی بھی چھین کرڈاکو چلتے بنے موہڑہ نگیال کے رہائشی بھی سڑک ڈکیتی کی زد میں آئے اور ان سے بھی ہزاروں روپے کی نقدی و موبائل فون چھین لیے گئے جبکہ ایک اورسڑک ڈکیتی کی واردات کو عوام علاقہ نے ناکام بنادیا اور ڈاکوکالے رنگ کی ایکس ایل آئی کار میں فرار میں کامیاب ہوگئے اسی طرح بیول کے رہائشی رفاقت زونا اور نعمان کے قیمتی موٹرسائیکل بھی چرالیے گئے اور مالکان ہاتھ ملتے رہ گئے ایک محتاط اندازہ کے مطابق شرقی گوجرخان کے علاقوں میں چوری و ڈکیتی کی درجنوں وارداتوں میں کروڑوں روپے کا مال پارہوچکاہے۔
جرائم کی روک تھام او ر جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے سلسلہ میں ڈی ایس پی مرزازمان رضاسے متعدد مرتبہ رابطہ کے بعد ٹکا سا جواب دیدیاگیا کہ جرائم کی روک تھام اور بڑھتی ہوئی شرح میں اضافہ کے ذمہ دار سٹیشن ہاؤس آفیسر(ایس ایچ او) ہیں اور ان پرقابو پانا ایس ایچ او کی ذمہ داری ہے ۔
اسٹیشن ہاؤس آفیسر(ایس ایچ او) ملک عارف گوندل سے اس بابت استفسار کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ وہ جرائم پر قابو پانے کے لیے سرگرداں ہیں اورجلد ہی جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیراتنگ کرتے ہوئے جرائم پر بڑی حد تک قابو پالیاجائے گاتاہم موثر اور ٹھوس حکمت علی اور ٹھوس جواب ان کی طرف سے نہ مل پایا۔
منجھوٹھہ سٹاپ قاضیاں روڈ پر گزشتہ دنوں پولیس چوکی بھی قائم کردی گئی جس کا باضابطہ و باقاعدہ افتتاح بھی کردیا گیا افتتاح کے شام ہی نامعلوم چوروں نے چوکی کے دوکلومیٹر کی حدود میں رہتے ہوئے نمبردارسلیم کے قیمتی جانور باڑے سے چرالیے جن کی مالیت پانچ لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے
پولیس کی سست روی اور مبینہ غفلت پر عوام علاقہ ،انجمن تاجران ،سماجی شخصیات اور تاجروں نے جمعۃ المبارک کو احتجاج بھی کیا تاجروں نے نمازجمعہ سے قبل دکانیں و کاروباری مراکز بند کردیئے ریلی نکالی گئی اور میلاد چوک میں ریلی کے شرکاء سے سماجی شخصیات و انجمن تاجران کے راہنماؤں نے خطاب بھی کیا اپنے خطاب میں راہنماؤں سے پولیس کو ملزمان کی جلد گرفتاری کا ٹارگٹ دیا اور اس امر کااظہار کیا کہ اگر پولیس نے ملزم جلد گرفتار نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیاجائے گا۔
پولیس تھانہ گوجرخان کے عملہ نے کارکردگی دکھانے کے لیے چند افراد کواٹھایاتاہم ان کا کسی قسم کا تعلق نہ موجودہونے کی وجہ سے انہیں رہاکردیاگیا درجنوں وارداتوں میں ملوث افراد میں درجنوں افراد کا آزادانہ گھومنا اس امر کا شاہد ہے کہ پولیس اپنے فرائض کی انجام دہی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے اور عوام چوروں و ڈاکوؤں کے رحم وکرم پر ہیں اپنی مددآپ کے تحت متعدد دیہات و قصبات میں ٹھیکری پہرہ کانظام شروع ہوچکاہے اور عوام نے پولیس پرتکیہ ختم کردیاہے متعدد سیاسی وسماجی شخصیات کے علاوہ انجمن تاجران بیول کے صدر سمیت متعدد تاجروں نے پولیس کو ملزمان کی جلد گرفتاری کاالٹی میٹم دیاہے بصورت دیگر احتجاج کی دھمکی دی ہے تاہم اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا۔

جدید پوٹھوہاری لٹریری فورم پاکستان کے زیر اہتمام گوجرخان کے نوجوان شاعر’’آصف خاکی‘‘ کے ساتھ ایک شام اور محفل مشاعرہ

downloadجدید پوٹھوہاری لٹریری فورم پاکستان کے زیر اہتمام مورخہ 23-12-2014ء بروز منگل بوقت 3 بجے شام سلیم اخترم میموریل لائبریری گوجرخان میں توانہ لہجے کے نوجوان شاعر’’آصف خاکی‘‘ کے ساتھ ایک شام اور محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ذاکر محمود نے کی جبکہ مہمان خصوصی آصف خاکی تھے کمپےئرنگ کے فرائض شکور احسن نے سر انجام دیے پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے نبیل حنیف نے کیا جبکہ نعت پڑھنے کا شرف زبیر احمد وارثی نے حاصل کیا تقریب کے پہلے حصے میں صاحب شام آصف خاکی کے فن و شخصیت پر ذاکر محمود ، شیراز طاہر، شیراز اختر مغل، زبیر احمد وارثی ، راشد محمود شام اور نبیل حنیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف فنی حوالے سے پختہ ہیں بلکہ موجودہ شاعری کے مزاج سے بھی واقف ہیں اور اس وقت یہ خطہ پوٹھوہار کے نوجوان شعراء میں اپنی الگ انفرادیت بنا چکے ہیں ان کی شاعری روایت کے ساتھ ساتھ جدید ادب کے تقاضے بھی پورے کر رہی ہے یہ جس طرح متحرک ہیں اسی طرح متحرک رہے تو نہ صرف پوٹھوہاری، پنجابی بلکہ اردو ادب میں بھی اپنا لوہا منوا لیں گے تقریب کے دوسرے حصے محفل مشاعرہ میں ذاکر محمود ، آصف خاکی، شیراز طاہر، عنصر حسین عنصر، شاہد لطیف ہاشمی، شیراز اختر مغل، زبیر احمد وارثی، راشد محمود شام، نبیل حنیف اور شکور احسن نے اپنا اپنا کلام سنایا اس تقریب میں ڈاکٹر محمد شمسی محمد ارشد اور اسد محمود نے خصوصی شرکت کی یاد رہے اس جدید لٹریری فورم کا آغاز مادری زبانوں کے عالمی دن 2014ء میں کیا گیا اور یہ تنظیم نہ صرف پوٹھوہار بلکہ پاکستان میں پوٹھوہاری زبان کے فروغ کیلئے کام کرے گی تقریب کے اختتام پر علمی ، ادبی، سیاسی رسالہ، مستقبل کے مدیر ریڈیو کمپےئر معروف کالم نگار عبدالمنان قریشی کے نانا کی وفات جبکہ معروف غزل گو شاعر شوکت مہدی کی وفات پر اظہار تعزیت کی گئی۔
رپورٹ
شکور احسن بانی و چےئرمین جدید پوٹھوہاری لٹریری فورم پاکستان
موبائل: 0346-5756591

نیا کے کسی حصے میں آنے والی قدرتی آفات کو کنٹرول کر سکتا ہوں ، ملک خان خواص

DSC05868اسلام آباد( انوسٹی گیشن سیل)اٹک کے نواحی قصبے رومیاں کی معروف روحانی شخصیت ملک خان خواص نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کی خصوصی کر م نوازی سے میرے پاس ایک قدرتی کرشمہ ہے جسکی مدد سے زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کوکنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔انسانیت کی سا لمیت اور بقاء کے لیے میں پاک آرمی کو اپنی فی سبیل اللہ خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی گفتگومیں کیا انہوں نے کہا کہ میرے قدرتی کرشمے میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ میں دنیا کے کسی حصے میں آنے والی قدرتی آفات کو کنٹرول کر سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ قدرتی کرشمہ خصوصی شیشے کا آلہ ہے جسکی مدد سے میں زلزلہ ،سیلاب اور طوفان کو روک سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کیہ یہ آلہ پاک آرمی کے اعلی افسران کے سپرد کروں جو قدرتی آفات کی صورت میں اسکو لگا کر زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کو کنٹرول کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانیت کی سا لمیت اور بقاء کے لیے ضروری ہے کہ میرے قدرتی کرشمے سے استفادہ حاصل کیا جا ئے ۔ تاکہ اللہ تعالی کی طرف سے مجھ پر خصوصی عنایت ہے اسکو کارآمد بنا سکوں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے ملک میں آنے والی تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے اپنے آلے کا استعما ل کیا ۔اگر میں ایسا نہ کرتا تو بہت ذیادہ تباہی کا خدشہ تھا انہو ں نے دعوی کیا کہ میں نے سونامی کو اپنے آلے کی مدد سے کنٹرول کیاتھا اگر میں ایسا نہ کرتا تو وہاں تباہی کا منظر کچھ اور ہوتا انہو ں نے کہا کہ اس سے پہلے دنیا میں بہت سی قدرتی آفات گاہے بگاہے آتی تھی مگر اب میں نے انکو کنٹرول کیا ہو ا ہے ۔یہ اللہ تعالی کی خصوصی مدد و رہنمائی سے ایسا ممکن ہو ا ہے انہو ں نے کہا کہ میں عمر کے اس حصے میں چاہتا ہو ں کہ میں اللہ تعالی کی اس خصوصی عنایت کو کسی اعلی فوجی حکام کے سپر د کر کے اپنا فریضہ ادا کروں۔

ہونہار طلباء و طالبات علشبہ اسحاق، میمونہ فدا، طلحہ عباس،رمشاء ساجداور شانزہ نواز نے شاندار کاکردگی

IMG_20140408_073611 IMG_20140408_073630دولتالہ (نامہ نگار) منہاج ماڈل سکول بھنگالی شریف کے کلاس پنجم کے ہونہار طلباء و طالبات علشبہ اسحاق، میمونہ فدا، طلحہ عباس،رمشاء ساجداور شانزہ نواز نے شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بورڈ کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی جبکہ کلاس 8th میں طیب مجید نے 385 ،ام ایمن نے 377 اور جواد اسرار نے 344 نمبر لیکر بالترتیب اول ،دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کی تحریک منہاج القرآن کے ناظم چوہدری محمد اسحاق،محمود الحق قریشی،چوہدری اسرار حسین،فیصل عرفان فیصل اور سیاسی و سماجی حلقوں نے منہاج سکول کے پرنسپل اور سٹاف کو شاندار نتائج پر مبارکباد پیش کی ہے۔

الھجرہ اسلامک ماڈل سکول گو جر خان کی ہو نہار طالبہ نور الحین کی نمایاں پوزیشن

noor
گوجر خان(نمائندہ خصوصی)الھجرہ اسلامک ماڈل سکول گو جر خان کی ہو نہار طالبہ نور الحین نے سالانہ امتحانات میں کلاس ٹو کے تینوں سیکشنوں میں 99فیصد نمبر حاصل کر کے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔سکول انتظامیہ نے بہترین کارکردگی پر نور الحین کو سکالر شپ دی ہے۔نور الحین کی یہ کامیابی سکول کے تدریسی سٹاف کی شبانہ و روز محنتوں کا نتیجہ ہے۔ سکول پرنسپل نے کہا ہے کہ نور الحین بورڈ کے امتحان میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرے گی۔

ننھی طالبہ صباحت فاطمہ کا اعزاز

Daultala Pic (1)31-03-14
دولتالہ(نامہ نگار)الاامیر فاؤنڈیشن سکول سسٹم دولتالہ نے سالانہ نتائج کا اعلان کر دیا سکول ہذا میں کلاس نرسری میں زیر تعلیم طالبہ صباحت فاطمہ نے 300نمبرز میں 300نمبرز حاصل کر کے کلاس میں اول پوزیشن حاصل کی

error: