گرما گرم خبریں

تحریک انصاف میں شمولیت پر راجہ حسیب کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رضوان ہاشمی
پولیس پٹرولنگ پولیس ٹھاکرہ موڑ چوکی نے مختلف کاروائیوں میں چھ مقدمات درج
چوہدری زاہد جٹ نے اپنی برادری سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
ضلع چکوال کی سیاست میں آنے والے چند دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
کمپیوٹرائزڈ لینڈریکارڈ سنٹر گوجرخان عوام کیلئے دردسر بن گیا
نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعزم ہیں،چوہدری جاوید کوثر ایڈووکیٹ
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سیکٹر نارتھ ٹو کی سالانہ ایوارڈ تقریب کا انعقاد

Category: کالم مضامین

ن لیگ کی مقامی قیادت کے لئے لمحہء فکریہ۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔طارق نجمی

گزشتہ چند ہفتوں سے جس تواتر سے ن لیگ کے پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے یو سی کونسلرز اور یوسی چیئرمین حضرات اپنی پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کو اور خصوصی طور پر پی ٹی آئی کو جوائن کر رہےہیں، ن لیگ کی مقامی قیادت کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔۔۔
ویسے تو اس بات کے کئی محرکات ہوں گے لیکن جو باتیں سامنے ہیں ان میں محترم نواز شریف صاحب کا اپنے قریبی ساتھیوں سمیت سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل ہونا اور ن لیگ کی صفوں میں اندرونی انتشار اہم اسباب ہیں۔۔
گو کہ سیاسی تجزیہ نگار اب بھی آئندہ الیکشن میں ن لیگ کو ہی فاتح قرار دے رہے ہیں لیکن اب شاید ایسا نہ ہو سکے۔۔ن لیگ کا گراف نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملکی سطح پر بھی نیچے آ چکا ہے۔
ن لیگ کے ایم این اے راجہ جاوید اخلاص صاحب کو اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں سے جو سیاسی دھچکہ لگا ہے اس کے بہت دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔۔۔
راجہ جاوید اخلاص صاحب اور دوسرے سینئر لیڈروں کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے اور ان محرکات کا جائزہ لینا چاہیے جن کی بنا پر ن لیگ کے منتخب بلدیاتی ساتھی پت جھڑ کے پتوں کی طرح ان سے جدا ہو رہے ہیں ۔۔۔
جہاں تک ترقیاتی پروجیکٹس کا تعلق ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ راجہ صاحب نے اپنے دور اقتدار میں اپنے حلقے میں بہت زیادہ کام کروائے ہیں اور یہ صورت حال تقریبا تمام یوسی حلقوں میں ہے لیکن اس بات کا کریڈٹ اس الیکشن میں ملنا مشکل نظر آ رہا ہے ۔
اگر بالکل غیرجانبدار ہو کر اس پورے معاملے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ اس عرصے میں راجہ صاحب سے کچھ سیاسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنے ورکرز کو کافی حد تک نظرانداز کیا ہے اور صرف اپنے مخصوص لوگوں سے ہی رابطے میں رہے ہیں۔ جو فراغت کا وقت انہیں اپنے حلقے میں اپنے ووٹرز کو دینا چاہیے تھا اس میں انہوں نےاپنے پسندیدہ لوگوں کے پاس ہی بیٹھے رہنےکو ترجیح دی۔۔۔
جس انداز سے الیکشن کے دنوں میں وہ ہر جنازہ، تعزیت اور ولیمہ وغیرہ نپٹاتے ہیں ، منتخب ہوتے ہی وہ اپنی روٹین بھول جاتے ہیں۔۔۔۔اب اس کا نتیجہ سامنے آ سکتا ہے ۔

میرے خیال میں صحت کے حوالے سے بھی راجہ جاوید اخلاص صاحب کا یہ آخری الیکشن ہو سکتا ہے کیونکہ ان کو کچھ ایسے عارضے لاحق ہیں کہ انہیں شاید آرام کی زیادہ ضرورت ہے ۔۔ویسے بھی عرصہ دراز سے اس پرخار دشت کی دشت پیمائی کرتے کرتے اب وہ تھکے تھکے سے لگتے ہیں اور متعدد موقعوں پر وہ اپنا زیادہ وقت اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ گذارنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
راجہ صاحب کو اس الیکشن میں ایک نئی سٹریٹیجی کے ساتھ میدان میں اترنا پڑے گا کیونکہ اس دفعہ ان کا مقابلہ کسی ایک سے نہیں بلکہ کئی لوگوں سے ہو گا۔
اگر اس الیکشن میں وہ کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں اپنا ٹینیور ایک نئے انداز سے گذارنا پڑے گا اور اپنی عوام میں گھل مل کر رہنا پڑے گا تاکہ بعد میں عرصہ دراز تک ان کو یاد رکھا جائے۔

تحصیل گوجرخان کا مقدمہ (حقیقت یہ ہے


چند روز قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں مرتب کی گئیں جس میں پنجاب کی سب بڑی تحصیل گوجرخان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تحصیل گوجرخان کی حکمران سیاسی قیادت نے کسی رد عمل کا اظہار نہ کیاخاموش تماشائی کی حیثیت سے تمام حالات واقعات کا جائزہ لینے اور آئندہ قومی الیکشن میں حکمت عملی طے کرنے میں لگے رہے تا ہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملے جلے رد عمل کے اظہار کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کا اعادہ کیا گیا اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے قائدین چوہدری محمد عظیم اور ساجد محمود کی جانب سے چوہدری عفان افتخار ایڈووکیٹ ،سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی جانب سے ملک قمر زمان ایڈوکیٹ جب کہ سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد ریاض کی جانب سے بھی گوجرخان کی نئی حلقہ بندیوں کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی متعلقہ کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ،اور چوہدری محمد ریاض عدالت میں حاضر رہے جب کہ پی ٹی آئی کی قیادت کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود نہ تھی تا ہم ان کے وکیل چوہدری عفان افتخار کے مضبوط دلائل کے باعث سکھو قانون گوئی جو کہ تقریبا70ہزار آبادی پر مشتمل ہے کو واپس حلقہ پی پی9میں شامل کر دیا گیا چوہدری عفان افتخار نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کا آگاہ کیا کہ سکھو قانون گوئی حلقہ قیام پاکستان سے قبل بھی گوجرخان کا حصہ تھا اور جب کہ اب سکھو کو جس علاقے کامیں سکھو کے باسیوں کو شامل کیا گیا وہاں کے علاقے کے باسیوں کا رہن سہن اور زبان میں فرق ہے جغرافیائی حدود کے حوالے سے بھی نہ صرف سکھو بلکہ قانون گو حلقہ سکھو کے باسیوں کا حق بنتا ہے کہ وہ اسی حلقے میں رہیں جہاں وہ پہلے تھے اس موقع پر کمرہ عدالت میں معزز جج نے بذریعہ نقشہ تحصیل گوجرخان کی جغرافیائی حدود کا بغور ملاحظہ کیا چوہدری عفان افتخار کی جانب سے دیے گئے دلائل پر پٹیشن پر بحث کرنے کے لیے دیگر سیاسی قائدین کی جانب سے کمرہ عدالت میں موجود وکلاء نے اتفاق کیا بعد ازاں معزز جج نے فیصلہ سنایا کہ سکھو قانون گو حلقہ کو واپس سابقہ پوزیشن پر بحال کیا جائے چوہدری عفان افتخار ایڈوکیٹ منجھے ہوئے وکیل اور اپنی دھرتی سے بے لوث محبت اور پیار کرنے والی منجھی ہوئی شخصیت ہیں غربی گوجرخان کے علاقے آدڑہ عثمان زادہ سے رکھنے والی اس ہمہ جہت شخصیت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوجرخان کی دھرتی ہماری ماں دھرتی ہیں اور اس کو ٹکڑوں میں تقسیم دیکھ کر حقیقی معنوں میں دل خون کے آنسو رو رہا تھا ان کا کہنا تھا کہ کمرہ عدالت میں میرے دلائل میرے دل کی آوازتھے انہوں نے کہا کہ تحصیل گوجرخان کی آبادی تقریبا8لاکھ کے قریب ہے جب کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے تقریبا ساڑھے تین لاکھ آبادی درکار ہوتی ہے متعلقہ پٹیشن پر زور دار بحث اور مضبوط دلائل پر کمرہ عدالت میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بھی چوہدری عفان افتخار کی قابلیت پر داد تحسین پیش کی گئی ایسے مخلص لوگ کسی بھی دھرتی کا سرمایہ ہوتے ہیں تحصیل گوجرخان کی نئی حلقہ بندیوں بارے مختلف افواہوں کی گردش دوران کے تھمنے کے لیے کوشش کی گئی ہے کہ تمام حقائق اور واقعات کو اہلیان گوجرخان کے سامنے رکھا جائے تا ہم اگر اس بارے کوئی بھی دیگر سیاسی جماعت یا قائدین مزید معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے صفحات ان کے لیے بھی حاضر ہیں

راجہ تصورحسین منہاس۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے دور کا “فلائنگ ہارس” تحریر طارق نجمی


خطہء پوٹھوہار کو ہمیشہ یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ ہر دور میں یہاں ایسے نگینے پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اپنی آب و تاب سے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنا نام روشن کیا بلکہ ان کی بدولت پاکستانی پرچم سربلند رہا ایسا ہی ایک نام راجہ تصوّر حسین (مرحوم) کا بھی ہے راجہ سکول دور میں ہی ایتھلیٹکس میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور مختلف گیمز میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ ان کے والدِ محترم فوج سے وابستہ رہ چکے تھے اور راجہ کے پردادا جنرل شہوار خان نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں منڈی بہاؤالدین کے گاؤں موجیاں والا کے مقام پر انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا تھا۔ جن کے نام کی تختی آج بھی وہاں آویزاں ہے۔ راجہ صاحب کا خاندان زراعت کے پیشے سے وابستہ تھا لیکن فوج سے اس قدر گہرا ربط ہونے کی وجہ سے 1966 میں راجہ صاحب نے پاک آرمی میں شمولیت اختیار کر لی۔ فوج میں شمولیت کے بعد ان کی اصل خوبیاں سامنے آئیں۔ آرمی میں کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور بڑے بڑے کھلاڑی جنہوں نے دنیا بھر میں اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کیا، زیادہ تر کا تعلق پاک آرمی سے ہی رہا ہے۔راجہ صاحب کی خوش نصیبی تھی کہ اوائل دور میں ہی انہیں صوبیدار خالق حسین جیسے کوچ میسر آئے ، جنہیں 1965ء4 کی جنگ میں گرفتار ہونے پر انڈیا کی اخبارات میں جلّی حروف میں خبر شائع ہوئی تھی کہ “ہم نے پاکستان کا اڑتا پرندہ پکڑ لیا ہے”۔ راجہ صاحب نے ابتدا میں دوسری کھیلوں میں بھی حصہ لیا اور ہاکی کے کھیل میں اپنی یونٹ کو وِکٹری سٹینڈ تک پہنچایا لیکن وہ چونکہ نیچرل سپرنٹر تھے اور ان کی اصل خوبیاں 400 میٹر کی ریس میں سامنے آئیں۔ گو کہ اس دور میں 400 میٹر کی ریس میں بہت سے اور نام بھی نمایاں تھے اس لئے 400X4 ریلے ریس میں اپنی جگہ بنا لی۔ لاہور میں 1979 ء4 میں بین الاقوامی ایتھلیٹکس چیمپئن شِپ میں بھی انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1980ء میں کراچی میں منعقد ہونے والے سترھویں انٹرنیشنل گیمز میں بھی انہوں نے طلائی تمغہ جیتا۔ ان گولڈ میڈلز کے علاوہ راجہ صاحب نے دوسرے مقابلوں میں کم و بیش 36 سلور اور براؤنز میڈل حاصل کئے ہیں۔ راجہ کے کیئریر میں جو بات باعثِ افتخار ہے وہ ہے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا حصول۔ اس طرح راجہ صاحب پاکستان کی اس محدود فہرست میں شامل ہیں جو ایشین کلر ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ 1976ء4 میں سولہویں بین الاقوامی گیمز میں (جو کہ لاہور میں منعقد ہوئی تھیں) انہوں نے پہلی بار طلائی تمغہ حاصل کیا اور اس کے بعد تو گویا کامیابیوں کا ایک لامتناعی سلسلہ شروع ہو گیا۔ 1976 ء4 میں ہی قائدِ اعظم کے صد سالہ جشن کے سلسلے میں ایک بین الاقوامی سپورٹس فیسٹیول منعقد ہوا جس میں انفرادی طور پر انہوں نے 400 میٹر کی دوڑ میں سلور میڈل حاصل کیا اور 400×4 ٹیم ایونٹ میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا 1977 ء4 میں ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل مقابلوں میں انہوں نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔1978 ء میں چین کے شہر پیکنگ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا اور پھر اْسی سال یعنی 1978 ء4 میں ہی چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے بعد پاکستان کے شہر پشاور میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں بھی انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بھارت کے شہرہْ آفاق ایتھلیٹ میکھا سنگھ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ میں نے اپنے پورے کیریئر میں راجہ تصوّر حسین کو سب سے خطرناک پایا۔ راجہ کے ساتھ اس وقت کے مایہ ناز سپرِنٹر موجود تھے۔ جن میں صوبیدار محمد یونس کا نام سب سے نمایاں تھا۔ جو بعد میں اپنے اِسی ٹیلنٹ کی وجہ سے آنریری کپتان کے عہدے پر پروموٹ ہو گئے تھے۔ ریلے ریس میں پہلے اور آخری کھلاڑی پر مکمل انحصار ہوتا ہے ، پہلا کھلاڑی اگر مخالف سپرِنٹرز پر دو چار قدم کی سبقت حاصل کر لے تو دوسرے ساتھیوں کے لئے آگے کے مراحِل آسان ہو جاتے ہیں۔ راجہ صاحب پہلے کھلاڑی کے طور پر ریس کی ابتدا کیا کرتے تھے اور ابتدائی مرحلے میں ہی دوسرے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ جاتے تھے۔ راقم الحروف نے متعدد بار ان کی ریس ا?ن میدانوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور راجہ صاحب کو وِکٹری سٹینڈ پر میڈلز لیتے دیکھا ہے۔ پاک آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد راجہ صاحب مختلف سیکنڈری سکولز میں فزیکل انسٹرکٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے اور ہمیشہ نوجوانوں کو کھیلوں میں شامل ہو کر اپنا نام پیدا کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آج بھی ان کے کچھ شاگِرد قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے علاقے اور اپنے مْلک کا نام روشن کر رہے ہیں۔راجہ نے 2010 ء4 میں فزیکل انسٹرکٹر کی حیثیت سے محکمہْ تعلیم سے ریٹائرمنٹ لی اور تھوڑے ہی عرصے بعد یعنی 2014ء4 میں مختصر سی علالت کے دوران اچانک ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح سپورٹس کی دنیا کا ایک تابناک باب بند ہو گیا۔ آج راجہ صاحب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے کارنامے رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ راجہ کے تین صاحبزادے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہو کر اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑے بیٹے راجہ یاسر عباس اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے ایران میں مقیم ہیں۔

ضلعی چیئرمین بنانے میں آخر تاخیر کیوں؟

Read more

کونتریلہ میں 150 سال قبل تعمیر شدہ عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار

Read more

نفسیاتی جنگ

Read more

عد م بر داشت کا بڑ ھتا ہوا رجحا ن

Read more

لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے

Read more

مقدس اوراق کا احترام 

نبیل گورسی

ngorsi8@gmail.com

ﭼﮭﻭﭨﮯ ﺏﮍﮮ ﭘﯿﻣﺎﻥﮯ ﭘﺭ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻡﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻭﻥﮯ ﻭﺍﻝﯽ ﺍﺵﯿﺍء ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺍﺵﯿﺍﺉﮯ ﺧﻮﺭﺩﻭﻧﻮﺵ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﻥﮓ ﮐﮯ ﻟﺊﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ
ﮐﻭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﺍﺵﯿﺍء ﮐﯽ ﻑﮩﺭﺳﺖ ﺍﺗﻦﯽ ﻃﻮﯾﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻡﯿﮟ ﻡﮑﻣﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺭ ﮔﻭﺵ ﮔﺯﺍﺭ ﮐﺭﻥﮯ ﺱﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﻭﮞ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﻮﺝﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻡ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺎﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺭﻭﺍﻧﺎ ﭼﺍﮨﺗﺎ ﮨﻭﮞ۔ ﮨﻣﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻡﯿﮟ ﺩﮐﺍﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﯿﺭﯼ ﻭﺍﻝﮯ ﺍﭘﻥﯽ ﺍﺵﯿﺍء ﮐﻭ ﺩﮐﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺍﺏﮍﯾﻭﮞ ﭘﺭ ﺳﺠﺎﻥﮯ ﮐﯿﻟﺊﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺭﺕﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺭﺍﻥﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﻭ ﺱﮍﮐﻭﮞ ﯾﺍ ﮐﻭﮌﮮ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻡﯿﮟ ﭘﮭﯿﻥﮏ ﺩﯾﺕﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐﮑﮧ ﺍﻥ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﻡﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥﯽ ﺁﯾﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺎﺩﯾﺙ ﻝﮑﮭﯽ ﮨﻭﺕﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻓﻼﺡﯽ ﺗﻨﻆﯿﻡﯿﮟ ﺏﮭﯽ ﻣﺬﮨﺏﯽ ﺕﮩﻭﺍﺭ ﻉﯿﺩﺍﻻﺿﺢﯽ ﺍﻭﺭ ﻉﯿﺩﺍﻟﻔﻄﺮ ﭘﺭ ﺯﮐﻭۃ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﺊﮯ ﭼﮭﭙﻥﮯ ﻭﺍﻝﮯ ﺏﯿﻧﺮﺯ ﯾﺍ ﺍﺷﺖﮩﺍﺭﺍﺕ ﭘﺭ ﻗﺮﺁﻥﯽ ﺁﯾﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺎﺩﯾﺙ ﭼﮭﭙﻭﺍﺕﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦﮩﯿﮟ ﺑﻌﺪﺍﺯﺍﮞ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺭ ﯾﺍ ﮐﻭﮌﮮ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻡﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﺯﺍﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺡﮑﻭﻣﺖﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺭﺍﺉﯿﻭﯾﭧ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺍﺳﻼﻡﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﺮﻭﯾﺝ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻟﺊﮯ ﮐﺍﻡ ﮐﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ‘ ﺍﻥ ﮐﻭ ﯾﮧ ﺫﻡﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺏﮭﯽ ﺗﻔﻮﯾﺽ ﮐﯽ ﺟﺎﺉﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ‘ ﻣﺠﻞﮯ ﺍﻭﺭ ﺏﯿﻧﺮﺯ ﭘﺭ ﻗﺮﺁﻥﯽ ﺁﯾﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺎﺩﯾﺙ ﮐﯽ ﭼﮭﭙﺍﺉﯽ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻭ ﺭﻭﮐﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺏﮯ ﺣﺮﻣﺖﯽ ‘ﻥﮧ ﮨﻭ ﺱﮑﮯ۔ ﻣﺢﮑﻡﮧ ﺍﻭﻗﺎﻑ ﺍﺳﻼﻡﯽ ﻧﻈﺮﯾﺍﺕﯽ ﮐﻭﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺍﺭﮐﺍﻥ ﻣﺴﺌﻞﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻡﯿﺕ ﮐﻭ ﺍﺟﺎﮔﺭ ﮐﺭﯾﮟ۔

 

سنگ تراشوں کے دیس کا اِک اور چمکتا سورج غروب ہو گیا

Read more

ختم نبوت اور آج کا مسلمان 

Read more

دھند کے حوالے سے حفاظتی اقدامارت

Read more

چند حقیقتیں اہل تحصیل گوجر خان کی نظر 

Read more

انڈر پاس گوجرخان ، تخریب کاری کا خدشہ ہروقت سر پہ منڈلانے لگا 

Read more

عوامی مسلم لیگ اور عوامی لیگ 

Read more

شہاددت حسین اور عالم اسلام

Read more

زمانے کو پھر سے ہے ضرورت حسین ؓ کی

Read more

ننانوے سالہ زیر سماعت مقدمہ

جاوید ملک / شب وروز
Read more

وزیر اعظم شاہد خا قان عباسی کا دورہ امریکہ مثبت پیش رفت

Read more

مجھے کیوں ہرایا؟

Read more

محرم الحرام میں ہماری اجتماہی ذمہ داریاں

Read more

شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین 

Read more

راجہ پرویز اشرف زندہ باد

Read more

’’6ستمبر‘‘فتح پاکستان

Read more

اہمیت نظام کی ہے کہ فرد کی نہیں

Read more

ہم سب کی پہچان’’ پاکستان‘‘ 

Read more

چودہ اگست۔۔۔یوم قیام پاکستان

تحریر: مرزا روحیل بیگ
چودہ اگست 1947 وہ دن ہے جس دن آگ و خون کی ایک وادی سے گزر کر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بے مثال قربانیوں کے بعد اپنے لیئے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے نہ صرف انگریز راج کو شکست دی بلکہ کانگریس،نیشنلسٹ مسلمانوں اور علمائکرام کی مضبوط جماعت بھی ان کے مد مقابل تھی۔ تاہم مسلمانوں کی فتح ہوئی اور پاکستان مسلم ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن عوام پاکستانی پرچم کو فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔اور سارے فساد کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی۔مسلمانوں کی املاک اور جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ان کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔مسلمانوں کے لیئے سرکاری ملازمتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔مسلمانوں کو سیاسی تنہائی کا شکار بنایا گیا۔ان حالات میں سر سید احمد خاں نے مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کا بیڑہ اٹھایا۔اور علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی،سماجی اور معاشی حالت میں بہتری لانا تھا۔سر سید احمد خاں ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو قومیں سمجھتیتھے۔سر سید احمد خاں کے اس قومی نظریے کی سیاسی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے رکھی۔علامہ اقبال کی آواز قوم مذہب سے ہے نے مسلمانوں کے شعور کو جلا بخشی۔قائد اعظم نے اس نظریے کو سیاسی طور پر اتنے مضبوط طریقے سے پیش کیا کہ انگریزوں کو پاکستان کے مطالبے کے سامنے ہار ماننا پڑی۔قائداعظم نے فرمایا کہ مسلمان اقلیت نہیں وہ قوم کی ہر تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں۔قائد نے فرمایا کہ ہندوستان کبھی ایک ملک نہیں رہا اور نہ اس کے رہنے والے ایک قوم۔ان حالات میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیئے 30 دسمبر 1906 میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔1928 میں نہرو رپورٹ پیش کی گئی جس پر اگر عمل ہوتا تو مسلمانوں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔نہرو رپورٹ کے جواب میں قائداعظم محمد علی جناح نے 1929 میں گیارہ نکات پیش کیئے۔1930 میں علامہ اقبال نے الگ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔23 مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔اس قرارداد نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔اس جدوجہد کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام وجود میں آیا۔تقسیم ہند کے وقت جو ظلم و ستم ہندوستانی سرکار کی زیر سرپرستی مسلمانوں پر ڈھائے گئے اس کی نظیر ملنا محال ہے۔ ہندوؤں کو کئی ماہ پہلے علم تھا کہ پاکستان ضرور بنے گا۔14 اگست 1947 کے ساتھ ہی مسلمانوں سے نفرت اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی۔اور ان کو کہا جانے لگا کہ مسلمانو تمہارا نیا وطن بن گیا ہے ہندوستان سے چلے جاؤ۔مسلمان اپنا جتنا اثاثہ ساتھ لا سکتے تھے وہ بیل گاڑیوں اور دوسری سواریوں پر لاد کر بچوں اور عورتوں کو سواریوں پر بٹھا کر اور آنکھوں میں نئے وطن کے خواب سجا کر رواں دواں ہو گئے۔ راستے میں مسلح ہندو برچھیاں،کرپانیں اور تلواریں ہاتھوں میں لیئے معصوم اور نہتے مسلمانوں کو تہ تیغ کرتے۔جن مسلمانوں نے بذریعہ ریل نقل مکانی کی ان کے ریلوے اسٹیشنز پر ٹرینوں کو روک کر قتل و غارت شروع کر دیتے اور جب گاڑیاں لاہور پہنچتیں تو بوگیاں خون سے بھری ہوتیں۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کا لہو خول اٹھتا اور دونوں اطراف سے قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے سیاستدان یہ کہنے لگے کہ پاکستان چل نہیں سکے گا۔یہ نوزائیدہ مملکت ہے۔ہندوستانی سیاستدان یہ کہنے میں حق بجانب تھے کیونکہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں جو کچھ آیا تھا وہ کسی طور بھی ایک نئی مملکت کو قائم رکھنے کے لیئے کافی نہیں تھا۔ہندوستان کی بیوروکریسی انگریزوں اور ہندوؤں پر مشتمل تھی۔اور جو پڑھے لکھے مسلمان تھے ان کا تعلق ایسے علاقوں سے تھا جو پاکستان کا حصہ نہیں بنے تھے۔ایسے حالات میں ایک نئی مملکت کا چلنا محال دکھائی دیتا تھا۔اس حوالے سے ہندوستانی خواہشات پوری نہ ہو سکیں اور پاکستان آگے بڑھتا رہا۔آج پاکستان ایک اہم ایٹمی ملک ہونے کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر جگمگا رہا ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا وہ آج ہمیں نظر نہیں آتا۔اس وقت ہم ذات،پات اور لسانی گروہوں کی بجائے ایک ملت تھے۔جو کلم? طیبہ کی بنیاد پر اکھٹے ہوئے تھے۔کلم? طیبہ کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمان اکٹھے ہوئے جس کے باعث ہمیں الگ وطن ملا۔لیکن آج وہ جذبہ ہم میں موجود نہیں۔آج ہم ذات،پات اور لسانی گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔ مگر آج ہم اسلام کے تابندہ اور روشن اصولوں سے منہ موڑ چکے ہیں۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں نے صرف اللہ کے نام پر اپنے گھر بار، جائیدادیں چھوڑیں۔ہزاروں لوگ شہید ہوئے صرف اس لیئے کہ ایک ایسا خطہ زمین حاصل کیا جائے جس کو اسلام کے اصولوں کی تجربہ گاہ بنایا جا سکے۔1947 سے پہلے ہم ایک قوم تھے جس کو ملک کی ضرورت تھی۔مگر افسوس آج ہمارے پاس وطن تو ہے مگر ہمیں ایک قوم کی ضرورت ہے۔آج ہم پاکستانی کہلانے کی بجائے بلوچی،سندھی،پنجابی اور مہاجر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ عوام اپنے حکمرانوں، سیاستدانوں،جرنیلوں،بیوروکریٹس اور صنعتکاروں سے قائد اعظم کا پاکستان مانگتی ہے۔جہاں فیصلے عام لوگوں کی بھلائی کے لیئے ہوں۔ جہاں قانون کی پاسداری ہو۔ جہاں امیر اور غریب کے لیئے یکساں قانون ہو۔پاکستان اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے 27 رمضان المبارک کو ایک الگ وطن بن کر دنیا کے نقشے پر ظہور پزیر ہوا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی قدر کریں اور شکر ادا کریں۔اور دعا ہے کہ جس پاکستان کا خواب قائداعظم اور حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا اس کو شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دیکھ سکیں۔آمین

بہت ہی کڑوا مگر سچ 

Read more

اہلیان تحصیل گوجر خان کی نظر میں ایک حقیقت

Read more

پاکستان کلر ہولڈر باکسر…علی رضا بھٹی

پاکستان کلر ہولڈر باکسر…علی رضا بھٹی.

Read more

error: