گرما گرم خبریں

نا معلوم ڈاکوؤں نے موبائل کمپنی کے سیلز میں کو لوٹ لیا
دیہاتی سکولوں کا نیشنل ایوارڈ جیتنا باعث فخر ہے ، انجینئر قمر الاسلام راجہ
راجہ شوکت عزیز بھٹی کی قیادت میں یوسی سکھو میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے،خواجہ محمد یسین
چوہدری حیدر سلطان کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرئیں گے،ملک نعیم اصغر اعوان
مسلم لیگ ن کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو ناکامی ہوگی،راجہ شوکت عزیز بھٹی
سکھو تا چْورہ لنک روڈ کھنڈر بن گئی

Category: کالم مضامین

لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے

Read more

مقدس اوراق کا احترام 

نبیل گورسی

ngorsi8@gmail.com

ﭼﮭﻭﭨﮯ ﺏﮍﮮ ﭘﯿﻣﺎﻥﮯ ﭘﺭ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻡﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻭﻥﮯ ﻭﺍﻝﯽ ﺍﺵﯿﺍء ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺍﺵﯿﺍﺉﮯ ﺧﻮﺭﺩﻭﻧﻮﺵ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﻥﮓ ﮐﮯ ﻟﺊﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ
ﮐﻭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﺍﺵﯿﺍء ﮐﯽ ﻑﮩﺭﺳﺖ ﺍﺗﻦﯽ ﻃﻮﯾﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻡﯿﮟ ﻡﮑﻣﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺭ ﮔﻭﺵ ﮔﺯﺍﺭ ﮐﺭﻥﮯ ﺱﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﻭﮞ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﻮﺝﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻡ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺎﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺭﻭﺍﻧﺎ ﭼﺍﮨﺗﺎ ﮨﻭﮞ۔ ﮨﻣﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻡﯿﮟ ﺩﮐﺍﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﯿﺭﯼ ﻭﺍﻝﮯ ﺍﭘﻥﯽ ﺍﺵﯿﺍء ﮐﻭ ﺩﮐﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺍﺏﮍﯾﻭﮞ ﭘﺭ ﺳﺠﺎﻥﮯ ﮐﯿﻟﺊﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺭﺕﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺭﺍﻥﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﻭ ﺱﮍﮐﻭﮞ ﯾﺍ ﮐﻭﮌﮮ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻡﯿﮟ ﭘﮭﯿﻥﮏ ﺩﯾﺕﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐﮑﮧ ﺍﻥ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﻡﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥﯽ ﺁﯾﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺎﺩﯾﺙ ﻝﮑﮭﯽ ﮨﻭﺕﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻓﻼﺡﯽ ﺗﻨﻆﯿﻡﯿﮟ ﺏﮭﯽ ﻣﺬﮨﺏﯽ ﺕﮩﻭﺍﺭ ﻉﯿﺩﺍﻻﺿﺢﯽ ﺍﻭﺭ ﻉﯿﺩﺍﻟﻔﻄﺮ ﭘﺭ ﺯﮐﻭۃ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﺊﮯ ﭼﮭﭙﻥﮯ ﻭﺍﻝﮯ ﺏﯿﻧﺮﺯ ﯾﺍ ﺍﺷﺖﮩﺍﺭﺍﺕ ﭘﺭ ﻗﺮﺁﻥﯽ ﺁﯾﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺎﺩﯾﺙ ﭼﮭﭙﻭﺍﺕﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦﮩﯿﮟ ﺑﻌﺪﺍﺯﺍﮞ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺭ ﯾﺍ ﮐﻭﮌﮮ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻡﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﺯﺍﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺡﮑﻭﻣﺖﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺭﺍﺉﯿﻭﯾﭧ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺍﺳﻼﻡﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﺮﻭﯾﺝ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻟﺊﮯ ﮐﺍﻡ ﮐﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ‘ ﺍﻥ ﮐﻭ ﯾﮧ ﺫﻡﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺏﮭﯽ ﺗﻔﻮﯾﺽ ﮐﯽ ﺟﺎﺉﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ‘ ﻣﺠﻞﮯ ﺍﻭﺭ ﺏﯿﻧﺮﺯ ﭘﺭ ﻗﺮﺁﻥﯽ ﺁﯾﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺎﺩﯾﺙ ﮐﯽ ﭼﮭﭙﺍﺉﯽ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻭ ﺭﻭﮐﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺏﮯ ﺣﺮﻣﺖﯽ ‘ﻥﮧ ﮨﻭ ﺱﮑﮯ۔ ﻣﺢﮑﻡﮧ ﺍﻭﻗﺎﻑ ﺍﺳﻼﻡﯽ ﻧﻈﺮﯾﺍﺕﯽ ﮐﻭﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺍﺭﮐﺍﻥ ﻣﺴﺌﻞﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻡﯿﺕ ﮐﻭ ﺍﺟﺎﮔﺭ ﮐﺭﯾﮟ۔

 

سنگ تراشوں کے دیس کا اِک اور چمکتا سورج غروب ہو گیا

Read more

ختم نبوت اور آج کا مسلمان 

Read more

دھند کے حوالے سے حفاظتی اقدامارت

Read more

چند حقیقتیں اہل تحصیل گوجر خان کی نظر 

Read more

انڈر پاس گوجرخان ، تخریب کاری کا خدشہ ہروقت سر پہ منڈلانے لگا 

Read more

عوامی مسلم لیگ اور عوامی لیگ 

Read more

شہاددت حسین اور عالم اسلام

Read more

زمانے کو پھر سے ہے ضرورت حسین ؓ کی

Read more

ننانوے سالہ زیر سماعت مقدمہ

جاوید ملک / شب وروز
Read more

وزیر اعظم شاہد خا قان عباسی کا دورہ امریکہ مثبت پیش رفت

Read more

مجھے کیوں ہرایا؟

Read more

محرم الحرام میں ہماری اجتماہی ذمہ داریاں

Read more

شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین 

Read more

راجہ پرویز اشرف زندہ باد

Read more

’’6ستمبر‘‘فتح پاکستان

Read more

اہمیت نظام کی ہے کہ فرد کی نہیں

Read more

ہم سب کی پہچان’’ پاکستان‘‘ 

Read more

چودہ اگست۔۔۔یوم قیام پاکستان

تحریر: مرزا روحیل بیگ
چودہ اگست 1947 وہ دن ہے جس دن آگ و خون کی ایک وادی سے گزر کر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بے مثال قربانیوں کے بعد اپنے لیئے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے نہ صرف انگریز راج کو شکست دی بلکہ کانگریس،نیشنلسٹ مسلمانوں اور علمائکرام کی مضبوط جماعت بھی ان کے مد مقابل تھی۔ تاہم مسلمانوں کی فتح ہوئی اور پاکستان مسلم ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن عوام پاکستانی پرچم کو فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔اور سارے فساد کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی۔مسلمانوں کی املاک اور جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ان کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔مسلمانوں کے لیئے سرکاری ملازمتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔مسلمانوں کو سیاسی تنہائی کا شکار بنایا گیا۔ان حالات میں سر سید احمد خاں نے مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کا بیڑہ اٹھایا۔اور علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی،سماجی اور معاشی حالت میں بہتری لانا تھا۔سر سید احمد خاں ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو قومیں سمجھتیتھے۔سر سید احمد خاں کے اس قومی نظریے کی سیاسی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے رکھی۔علامہ اقبال کی آواز قوم مذہب سے ہے نے مسلمانوں کے شعور کو جلا بخشی۔قائد اعظم نے اس نظریے کو سیاسی طور پر اتنے مضبوط طریقے سے پیش کیا کہ انگریزوں کو پاکستان کے مطالبے کے سامنے ہار ماننا پڑی۔قائداعظم نے فرمایا کہ مسلمان اقلیت نہیں وہ قوم کی ہر تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں۔قائد نے فرمایا کہ ہندوستان کبھی ایک ملک نہیں رہا اور نہ اس کے رہنے والے ایک قوم۔ان حالات میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیئے 30 دسمبر 1906 میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔1928 میں نہرو رپورٹ پیش کی گئی جس پر اگر عمل ہوتا تو مسلمانوں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔نہرو رپورٹ کے جواب میں قائداعظم محمد علی جناح نے 1929 میں گیارہ نکات پیش کیئے۔1930 میں علامہ اقبال نے الگ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔23 مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔اس قرارداد نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔اس جدوجہد کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام وجود میں آیا۔تقسیم ہند کے وقت جو ظلم و ستم ہندوستانی سرکار کی زیر سرپرستی مسلمانوں پر ڈھائے گئے اس کی نظیر ملنا محال ہے۔ ہندوؤں کو کئی ماہ پہلے علم تھا کہ پاکستان ضرور بنے گا۔14 اگست 1947 کے ساتھ ہی مسلمانوں سے نفرت اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی۔اور ان کو کہا جانے لگا کہ مسلمانو تمہارا نیا وطن بن گیا ہے ہندوستان سے چلے جاؤ۔مسلمان اپنا جتنا اثاثہ ساتھ لا سکتے تھے وہ بیل گاڑیوں اور دوسری سواریوں پر لاد کر بچوں اور عورتوں کو سواریوں پر بٹھا کر اور آنکھوں میں نئے وطن کے خواب سجا کر رواں دواں ہو گئے۔ راستے میں مسلح ہندو برچھیاں،کرپانیں اور تلواریں ہاتھوں میں لیئے معصوم اور نہتے مسلمانوں کو تہ تیغ کرتے۔جن مسلمانوں نے بذریعہ ریل نقل مکانی کی ان کے ریلوے اسٹیشنز پر ٹرینوں کو روک کر قتل و غارت شروع کر دیتے اور جب گاڑیاں لاہور پہنچتیں تو بوگیاں خون سے بھری ہوتیں۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کا لہو خول اٹھتا اور دونوں اطراف سے قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے سیاستدان یہ کہنے لگے کہ پاکستان چل نہیں سکے گا۔یہ نوزائیدہ مملکت ہے۔ہندوستانی سیاستدان یہ کہنے میں حق بجانب تھے کیونکہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں جو کچھ آیا تھا وہ کسی طور بھی ایک نئی مملکت کو قائم رکھنے کے لیئے کافی نہیں تھا۔ہندوستان کی بیوروکریسی انگریزوں اور ہندوؤں پر مشتمل تھی۔اور جو پڑھے لکھے مسلمان تھے ان کا تعلق ایسے علاقوں سے تھا جو پاکستان کا حصہ نہیں بنے تھے۔ایسے حالات میں ایک نئی مملکت کا چلنا محال دکھائی دیتا تھا۔اس حوالے سے ہندوستانی خواہشات پوری نہ ہو سکیں اور پاکستان آگے بڑھتا رہا۔آج پاکستان ایک اہم ایٹمی ملک ہونے کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر جگمگا رہا ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا وہ آج ہمیں نظر نہیں آتا۔اس وقت ہم ذات،پات اور لسانی گروہوں کی بجائے ایک ملت تھے۔جو کلم? طیبہ کی بنیاد پر اکھٹے ہوئے تھے۔کلم? طیبہ کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمان اکٹھے ہوئے جس کے باعث ہمیں الگ وطن ملا۔لیکن آج وہ جذبہ ہم میں موجود نہیں۔آج ہم ذات،پات اور لسانی گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔ مگر آج ہم اسلام کے تابندہ اور روشن اصولوں سے منہ موڑ چکے ہیں۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں نے صرف اللہ کے نام پر اپنے گھر بار، جائیدادیں چھوڑیں۔ہزاروں لوگ شہید ہوئے صرف اس لیئے کہ ایک ایسا خطہ زمین حاصل کیا جائے جس کو اسلام کے اصولوں کی تجربہ گاہ بنایا جا سکے۔1947 سے پہلے ہم ایک قوم تھے جس کو ملک کی ضرورت تھی۔مگر افسوس آج ہمارے پاس وطن تو ہے مگر ہمیں ایک قوم کی ضرورت ہے۔آج ہم پاکستانی کہلانے کی بجائے بلوچی،سندھی،پنجابی اور مہاجر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ عوام اپنے حکمرانوں، سیاستدانوں،جرنیلوں،بیوروکریٹس اور صنعتکاروں سے قائد اعظم کا پاکستان مانگتی ہے۔جہاں فیصلے عام لوگوں کی بھلائی کے لیئے ہوں۔ جہاں قانون کی پاسداری ہو۔ جہاں امیر اور غریب کے لیئے یکساں قانون ہو۔پاکستان اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے 27 رمضان المبارک کو ایک الگ وطن بن کر دنیا کے نقشے پر ظہور پزیر ہوا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی قدر کریں اور شکر ادا کریں۔اور دعا ہے کہ جس پاکستان کا خواب قائداعظم اور حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا اس کو شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دیکھ سکیں۔آمین

بہت ہی کڑوا مگر سچ 

Read more

اہلیان تحصیل گوجر خان کی نظر میں ایک حقیقت

Read more

پاکستان کلر ہولڈر باکسر…علی رضا بھٹی

پاکستان کلر ہولڈر باکسر…علی رضا بھٹی.

Read more

چو ہدری نثار علی کی سیاست سے علیحدگی گو جر خان کی سیاست پرکیا اثرات مرتب ہونگے؟

چو ہدری نثار علی کی سیاست سے علیحدگی گو جر خان کی سیاست پرکیا اثرات مرتب ہونگے؟
تجزیہ :احمد نواز کھو کھر

گو جر خان کے معروف صحافی اور تجزیہ کار احمد نواز کھو کھر نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ چو ہدری نثار علی کی سیاست سے علیحدگی کے گو جر خان کی سیاست پر گہرے اثرات نمو دار ہو نگے مگر اس بات کے امکا نات مو جود ہیں کہ چو ہدری نثار کومنا لیا جا ئے۔ گو جر خان ایکسپریس کے نمائندہ عبد الستار نیازی نے جب احمد نواز کھو کھر سے را بطہ کر کے ان سے چو ہدری نثار کی پریس کانفرنس کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے کہا کہ ملکی سیاست پر انکے استعفے کے با رے میں میڈیا پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے میں گو جر خان کی سیاست پر انکے اثرات پر بات کروں گا۔ انکے سیاست چھوڑنے کے اعلان پر سب سے زیا دہ دھچکا تو ممبر ضلع کو نسل اور چئیرمین ضلع کونسل کے امیدوار را جہ سجاد سرور کو لگا ہو گا۔ جنہوں نے آج ہی اخبار میں اشتہار دیکر چو ہدری نثار کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔ سجاد سرور سے پو چھا جا سکتا ہے کہ کیا آپ راولپنڈی کے صف اول کے راہنماؤں میں سے تھے جنکے لیے چو ہدری نثار سے اظہار ؛الفت؛ ضروری تھا۔ آخر ڈویثرن کے ڈیڑھ درجن ممبران اسمبلی کو، جنہیں چو ہدری نثار نے ٹکٹ دئے، وہ خاموش ہیں اور بھر آ پکے ایم این اے اور ایم پی اے خاموش ہیں تو آپ کو کیا پڑی کہ ایسی غیر سیاسی اور بچگانہ حرکت کی۔ آ پکے اس فعل سے چو ہدری نثار کو کیا فائدہ ملا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنا سیاسی مستقبل تباہ کر لیا۔وہ ایک اچھے وثر نری اور ابھرتے ہو ئے سیاستدان تھے اور ضلع کونسل کی چئیرمینی کے فیورٹ بھی،انکے لیے بہت سے امکا نات تھے۔ سیاست میں آج کا دن حرف آ خر نہیں ہو تا ہے۔ احمد نوا ز کھو کھر نے کہا کہ ایم این اے راجہ جا وید اخلاص،ایم پی اے افتخار احمد وارثی اور ایم پی اے شو کت بھٹی کو بھی اس صورتحال سے خاصی پر یشانی ہو ئی ہو گی۔ یہ تینوں ممبران اسمبلی عمومی طور پر چو ہدری نثار اور وزیر اعظم کے مابین کشمکش سے دور تھے۔ مگر اس بات میں بھی کو ئی شک نہیں یہ چو ہدری نثار کے قریبی رفقا میں سے تھے اور انکی سیاست کا زیادہ تر دارو مدار چو ہدری نثار کی سیاست اور انکی حکمت عملی کے ساتھ تھا،یہ چو ہدری نثار ہی تھے جنہوں نے جا وید اخلاص کو ن لیگ میں لا یا اور پھر ٹکٹ دلا یا۔ گو جر خان کے عوام چو ہدری نثار کی وہ تقریر نہیں بھو لے جس میں انہوں نے چو ہدری ریاض کو چیچڑ قرار دیا تھا۔ را قم نے ٹکٹوں کی تقسیم سے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ٹکٹ اسے ملے گا جسے چو ہدری نثار چاہیں گے اور پھر وہی ہوا۔چو ہدری نثار نے چو ہدری ریاض دشمنی میں جا وید اخلاص کو ٹکٹ دیا اس بات کے با وجود کہ انکا شمار پر ویز مشرف کے قریبی رفقا میں ہو تا تھا۔ آج گو جر خان کا اگر کوئی سیاستدان سب سے زیادہ خوش ہو گا تو اسکا نام چو ہدری ریاض ہے چو ہدری نثار کی تقریر کے بعد مجھے انکے کچھ قریبی دو ستوں کے فون آئے جو بے حد خوش نظر آرہے تھے اور انکی خوشی بنتی بھی ہے چو ہدری نثار کا ایک مخصوص انداز سیاست تھا اور شاید ہی راولپنڈی کا کوئی ن لیگی ہو گا جسکو انہوں نے بے عزت نہ کیا ہو اس لسٹ میں بڑے بڑے نام ہیں۔گذشتہ چند ماہ سے چو ہدری ریاض ٹکٹ کے لیے بہت زیادہ پر امید تھے مگر ان انکی امیدیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ سابق وزیر اعظم را جہ پر ویز اشرف کے بعد کسی کی اپنی جماعت میں تعلقات ہیں تو وہ چو ہدری ریاض ہیں۔ احمد نواز کھو کھر نے کہا کہ آ نے والے دنوں میں بہت سی سیاست بدلنے والی ہے ہمارے ن لیگیوں کے پاس اس بات کے سوا کو ئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ وفا دار رہیں ویسے گو جر خان کے تینوں ممبران اسمبلی کو اس بات کے نمبر دئے جا سکتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم اور چو ہدری نثار کے مابین کشمکش میں خاموش رہے اب کچھ بھی ہو یہ حا لات اور وقت پر منحصر ہے البتہ اس بات میں بھی کو ئی شک نہیں کہ آ نے والے دن پیپلز پارٹی کے را جہ پر ویز اشرف اور پی ٹی آئی کے چو ہدری محمد عظیم کے لیے اچھے ہیں ظاہر ہے انکے حریف کمزور ہو رہے ہیں۔ دیکھتے آ نے والے دنوں کا بدلاؤ کس پر کیا اور کتنا اثر ڈالتا ہے؟

یاد رفتگاں

راجہ احسان الحق
یونین کونسل قاضیاں سے ملحقہ موضع عالم آباد کے گاؤں ڈھوک ہاشو کی سر

Read more

افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان

Read more

ا ریاض کی معروف ادبی تنظیم ’’حلقہ فکروفن‘‘ کے عید ملن مشاعرے کی روداد۔۔تحریر: عابد شمعون چاند

ایک ایسے دور میں جب مادیت اپنے پاؤں پھیلا کر اقوام عالم کو اپنے سائے میں سمیٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے سائنسی شعور تصورات و تخیل کی وادیوں اور سبزہ زاروں کو نگل لینے کی جدوجہد میں مصروف ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی نے معاشرتی زندگی کو گھائل کر رکھا ہے ایسے میں شاعروں کی محفلوں کا سجنا شعرا کی شرکت اور سامعین کا جگھٹ یہ اطمینان دلاتا ہے کہ ادب روبہ زوال نہیں ہو سکتا اس کا حسن کا جادو اور مزاج کی چاشنی سر چڑھ کر بول رہی ہے یہ مشاعروں کا حسن اور اس حسن پر لوگوں کی وارفستگی ہی تو تھی کہ بادشاہوں اور نوابوں کے درباروں میں سجنے والی محفل سخن نے مشاعروں کا رنگ لیا اور عوام کے درمیان مقبولیت ملی انہیں مشاعروں میں خوبصورت رنگ بھرا ریاض کی معروف ادبی تنظیم ’’حلقہ فکروفن‘‘ نے ۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی معروف ادبی تنظیم حلقہ فکروفن کی جانب سے معروف قلم نگار، صحافی اور شاعرہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے اعزاز میں عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق تھے جبکہ پاکستانی کیمونٹی کے سینکڑوں عمائدین نے بھی شرکت کی،پروگرام کا باقاعدہ آغاز حافظ بلال کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ نعت رسول مقبولﷺ کی سعادت عابد شعمون چاند نے حاصل کی،حلقہ فکروفن کے جنرل سیکرٹری وقار نسیم وامق نے ابتدائی خطاب میں سفیر پاکستان سمیت تمام شعرا کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حلقہ فکروفن گزشتہ پینتیس سال سے سعودی عرب میں اردو بولنے اور اردو سمجھنے والوں کے لئے ہمیشہ ایسے پروگرام ترتیب دے رہی ہے جو کہ اردو ادب کو فروغ دے رہے ہیں، ہماری یہ اولین کوشش رہی ہے کہ سعودی عرب میں مقیم کیمونٹی کو اچھے انداز میں اردو ادب سے روشناس کروایا جائے، جس میں ہم کامیاب رہے ہیں۔ معروف پاکستانی شاعرہ شہناز مزمل نے کہا کہ وہ جب بھی سعودی عرب آتی ہیں تو یہاں حرمین شریفین کی وجہ سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے اس کے علاوہ یہاں پاکستانی کیمونٹی جس طرح مہمان نوازی کرتی ہے اس کی مثال نہیں ملتی،اور ان کو بے حد خوشی ہوتی ہے کہ یہاں لوگوں کی بڑی تعداد ادب کو سمجھتی ہے ہماری نوجوان نسل جس طرح ادب کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اس سے خوشی محسوس ہوتی ہے اور اطمینان ہوتا ہے کہ اردو زبان کا ادب محفوظ ہاتھوں میں ہے،حلقہ فکروفن کے ناظم الامور ڈاکٹر طارق عزیز کا کہنا تھا کہ وہ بے حد خوش ہیں کہ آج سفیر پاکستان ان کی حوصلہ افزائی کے لئے یہاں موجود ہیں جو کہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ہر دور میں آزاد خیال ادیبوں اور شاعروں نے ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ فنکار اپنے طبقے اور ہر دور کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے ۔ترقی پسند تحریک کی طرح حلقہ فکروفن نے سچے ادیب کواس کے اصلی رنگ میں پیش کیا ہے ڈاکٹر طارق عزیز کا ڈاکٹر شہناز مزمل اور ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے حوالے سے کہنا تھا کہ شہناز مزمل اور عمرانہ مشتاق کے اشعار ملائم ،دھیمے ،سلیس اور سادہ ہوتے ہیں مگر انکی تہہ میں غضب کا درد اور جوش پایا جاتا ہے معروف کالم نگار، صحافی اور شاعرہ ڈاکٹرعمرانہ مشتاق کا کہنا تھا کہ وہ شکریہ ادا کرتی ہیں کہ ان کے اعزاز میں اس شاندار عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے،میں سمجھتی تھی کہ صرف پاکستان میں ہی ادب کی ترویج کا کام ہو رہا ہے، ہر شاعر اور ادیب ادب کی تخلیق کر رہا ہے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ سمندر پار پاکستانی بھی ادب کی ترویج کے لئے کام کر رہے ہیں اور بہت ہی تخلیقی کام کرکے ملک وقوم کانام بھی روشن کر رہے ہیں، کیونکہ یہ کام بڑا محنت طلب اور محبت وخلوص کے ساتھ کیا جاتا ہے حلقہ فکروفن ایک متحرک تنظیم ہے اور یہ ادب کے فروغ کے لئے لازوال کام کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ حلقہ فکروفن جس طرح ادیبوں کو بھی فروغ دے رہی ہے وہ بھی سراہے جانے کے قابل ہے، پاکستان میں تو روزانہ کئی پروگرام منعقد ہوتے ہیں مگر سعودی عرب میں جتنی پاکستانی کیمونٹی ہے اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں ادب کا بہت زیادہ کام ہو رہا ہے سعودی عرب میں مہمان نوازی کے حوالے سے عمرانہ مشتاق کا کہنا تھا انکو جب مدعو کیا گیا تو انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ انکو یہاں اتنی مقبولیت ملے گی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جو عزت اور پیار ملا ہے اس کے پیش نظر میں بھول چکی ہوں کہ میں پاکستان سے باہر ہوں بلکے مجھے لگتا ہے کہ میں اب چند روز بعد جب پاکستان واپس جاؤں گی تو مجھے ایسا محسوس ہوگا کہ میں کسی بیگانے ملک میں آ گئی ہوں اس پیار اور محبت بھری یادوں کو کبھی بھی بھلا نہیں پاؤنگی،سفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق کا کہنا تھا کہ انکی پوری زندگی فوج میں رہ کر گزری ہے انکو یاد ہے کہ 1973کے بعد کبھی کسی مشاعرے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا مگر آج یہاں آکر خوشی ہوئی ہے ہمارا اردو ادب پوری دنیا میں مشہور ہے کیونکہ جتنا اردو ادب نے فروغ پایا ہے اتنا کسی دوسری زبان کو وہ عروج نہیں ملا، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز اور دیگر شعرء ا کرام نے ادب کی لازوال خدمت کی ہے اور جس طرح حلقہ فکروفن نے مشاعرے کا انعقاد کیا ہے وہ قابل ستائش ہے اور سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ اس طرح کی محافل کی ترویج کے لئے تعاون جاری رہے گا بلکہ پاکستان سے کسی بڑے شعرا کرام کو بلانے کے لئے بھی اپنی خدمات فراہم کرے گا ۔حلقہ فکروفن کے ایڈوائزر محمود احمد باجوہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفیر پاکستان کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ سفارت خانہ پاکستان ہمیشہ اپنے ہموطنوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔نئے سفیر چونکہ پاکستان نیوی سے ریٹائرڈ ہو کر آئے ہیں تو پاکستانی قوم جتنی اپنی آرمی سے محبت کرتی ہے تو اس لحاظ سے بھی سفیر پاکستان یہاں اپنے ہم وطنوں کی محبت سے بھی مستفید ہوتے رہیں گے، مشاعرے میں وقار نسیم وامق، ڈاکٹر حنا امبرین، عبدالرزاق تبسم، تنویر احمد تنویر، وسیم ساحر، محمد خالد رانا، مسعود جمال، غزالہ کرمانی، اقبال طارق، باقر عباس فیض، ڈاکٹر صغیر صافی، محمد صابر قشنگ، یوسف علی یوسف، کاشف رفیق، فاطمہ احمد ،حکیم اسلم قمر، محمد ایوب صابر، سہیل ثاقب، نے اپنی غزلیں اور نظمیں پیش کیں جبکہ مرکزی شعرا ء میں سے شہناز مزمل اور ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے جب اپنا کلام پڑھا تو سامعین کی جانب سے دل کھول کر داد دی گئی، آخر میں تمام شعرا ء کرام کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیاجبکہ حلقہ فکروفن کی پنجاب ایڈوائزی کونسل کے ممبر اور پروگرام کے سپانسر میاں عمران ججوی کواورسفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق کو بھی تعریفی شیلڈ دی گئی جبکہ بابائے ریاض قاضی اسحاق میمن کی جانب سے اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا گیا ۔تقریب کے تمام حاضرین نے خوبصورت مشاعرہ منعقد کرنے پر حلقہ فکروفن ریاض کے تمام عہدیداروں کو مبارکباد پیش اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ حلقہ فکروفن اپنی روایت کو آئندہ بھی قائم رکھے گا ۔

سرکار سائیں چٹنی جلالی مرحوم۔۔۔.تحریر ۔طارق نجمی

چک راجگان بستی کو ہر دور میں یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ یہاں کوئ نہ کوئ ایسا ولی موجود رہا ہے کہ جن کی روحانی کرامات اور برکات سے نہ صرف چک راجگان بلکہ قرب و جوار کی آبادیوں کے لوگ بھی مستفیض ہوتے رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی حال ہی میں انتقال فرمانے والے بابا سا ئیں چٹنی جلالی سرکار تھے۔ایک طویل عرصے تک لوگوں نے ان سے فیض حاصل کیا۔ سرکار جب گفتگو کرتے تھے تو عقیدت مندوں کا ایک ہجوم ان کی باتوں کو انتہائ عقیدت اور توجہ سے سنتے تھے۔ان کی ہر بات میں ایک پیغام ہوتا تھا۔ اپنے مخصوص طرزِ گفتگو کی وجہ سے ان کی ہر بات براہِ راست دل میں اترتی تھی۔ راقم کو متعدد بار ان کی صحبت اور محفل میں بیٹھنے کا شرف نصیب ہوا. زندگی کے ہر پہلو پر محیط ان کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا. کسی بھی موضوع پر بات ہو ان کے پاس تازہ ترین معلومات کا ذخیرہ ہوتا تھا۔اپنی محفل میں سب کو بولنے کا موقع دیتے تھے۔اور ان سے اسی موضوع پر سوالات کر کے اپنی دلچسپی اور انہماک کو ظاہر کیا کرتے تھے۔ روحانی قوتوں سے مالا مال ان کی شخصیت انتہائ پر کشش تھی۔ جوانی کے دور میں ہی انتہائ مشکل ترین چِلےً کاٹ کر اور وظائف کر کے انہوں نے بہت کچھ حاصل کر لیا تھا.
ان کے روحانی کرشموں کو ابھی تک لوگ انتہائ عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے عقیدت مندوں کا سلسلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ سرکار کو حکمت میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ اپنے ہاتھ سے بناےُ ان کے نسخے بہت سے مریضوں کے لےُ باعثِ شفا ہوا کرتے تھے۔ پیچیدہ ترین امراض کے حامل ان کے آستانے پر آتے ہی یوں لگتا تھا جیسے ان کو کوئ مرض تھا ہی نہیں۔ہم نے اپنی آنکھوں سےکیُ فالج زدہ مریضوں کو ان کی ایک ہی نگاہِ کرم سے رفتہ رفتہ قدم اٹھاتے اور اپنے قدموں سے واپس جاتے دیکھا ہے۔حکمت کے شعبے کا کام اب ان کے فرزندِ ارجمند صاحبزادہ غلام مجتبےٰ کو منتقل ہوا ہےجو بڑی محنت اور لگن سے اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں گو ان کی نقل و حرکت محدود ہو گئ تھی اس کے باوجود بھی وہ ہر معاملے کی خبر رکھتے تھے۔ عقیدت مندوں کی محفل میں بیٹھتے وقت اکثر ان کی جسمانی کیفیت یکسر بدل جایا کرتی تھی۔وجدان کی سی صورتِ حال پیدا ہو جاتی تھی۔اسی دوران ان کی مبارک زبان سے ہر عقیدت مند کے سوالات (جو وہ صرف سوچ کر ہی آتا تھا اور ابھی بیان نہیں کیے تھے) کے جوابات مل جایا کرتے تھے۔ دورانِ بیماری جس ہسپتال میں بھی گےُ وہاں نہ صرف وہاں کا عملہ بلکہ انچارج ڈاکٹر بھی ان کے معتقد ہو جاتے تھے۔اور پوری توجہ اور عقیدت سے خدمت کرتے تھے۔ زندگی کے آخری لمحات تک ان کے چہرے کا تقدس اور نْورانی کیفیت برقرار تھی۔ ان کی نمازِ جنازہ میں رشتہ داروں اور عقیدت مندوں کے علاوہ قرب و جوار سے ہزاروں لوگ شامل تھے۔
آج کل ان کا مزارِ اقدس زیرِ تعمیر ہے۔شاندار محلِ وقوع پر ایک عالیشان مزار ان کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔چند دن قبل علاقائی ایم این اے وفاقی پارلیمانی سکریٹیری راجہ جاوید اخلاص صاحب تشریف لائے تھے اور انہوں نے تعمیراتی امور کا جائزہ لیا تھا۔
سرکار کے سب سے چھوٹے فرزند صاحبزادہ غلام رضا شاکر صاحب آجکل سجادہ نشین ہیں۔ اپنی پر کششش شخصیت اور ادبی ذوق کی وجہ سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔

مکافات عمل

Read more

نشے سے انکار زندگی سے پیار

نشے سے انکار زندگی سے پیار
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی چھبیس جون کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا بڑا مقصد لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے کہ اس کا استعمال کتنا نقصان دہ اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اس دن کی مناسبت سے اینٹی نارکوٹیکس فورس سال بھر میں پکڑی جانے والی منشیات کو جلا کر یہ پیغام بھی دیتی ہیں کہ نشے سے :انکار اور زندگی سے پیار کرنا سیکھو: پاکستان میں منشیات کا استعمال افغانستان میں روس کی مداخلت سے شروع ہوتا ہے اوراسی کی دھائی کے بعد پاکستان میں افغانستان کے توسط سے سب سے بڑی برائی جو بہت تیزی سے پھیلی وہ منشیات تھی یہ ایک ایسا ناسور تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اتنی تیزی سے ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ ہم چاہتے ہوئے بھی اس کو ختم نہ کر سکے منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔اس میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو اپنی ڈیپریشن کو ختم یا کم کرنے کے لئے جبکہ نوجوانوں میں اسے بطور فیشن اور بطور ایڈوانچر بھی اپنایا جاتا ہے جو بعد ازاں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ آتا کہاں سے ہے؟ اور کس طرح اس کو مقررہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے؟ کیا اس کی خبر انسداد منشیات کے اداروں کو نہیں ہوتی ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات برحال ڈھونڈنے ہیں۔ اس کے بیوپاری مختلف طریقوں سے اپنے گاہکوں کو تیار کرتے ہیں مثال کے طور پر سکول ،کالجز اور اب تو اعلیٰ تعلیمی اداروں مثلا یونیورسٹیز میں ان لوگوں کے خاص کارندے ہوتے ہیں جو پہلے پہل تو یہ نشہ ان لوگوں کو فری میں مہیا کرتے ہیں اور جب یہ نوجوان پوری طرح اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں تو ان سے منہ مانگے دام لیے جاتے ہیں اوربعض اوقات ان سے ایسے ایسے کام لئے جاتے ہیں جو ملک دشمن عناصر کی فہرست میں آتے ہیں ایسے ہی کئی مثالیں ہماری سامنے میڈیا میں آئے دن رپورٹ ہوتی رہتی ہیں نوجوانوں کو نشہ کا عادی بنانے کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں اس ضمن میں ڈانس پارٹیوں کو ایک اہم ذریعہ بنایا جاتا ہے ملک کے پوش علاقوں میں نہایت عمدہ رہائشی عمارتوں کے اندر ان کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں صرف جوڑے شرکت کر تے ہیں ان ڈانس پارٹیوں میں مہنگی ماڈلز اور رقاصاؤں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے شرکاء کو ساری رات ڈانس کرنے کے لیے ایک گولی کھلائی جاتی ہے جس کی قیمت ہزاروں روپوں ہوتی ہے جس کا مقصد ان نوجوانوں کو پوری رات تروتازہ اور چاق و چوبند رکھنا ہوتا ہے تاہم یہ گولی دوران خون تیز کر دیتی ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے ا س کے علاوہ اور کئی قسم کی خطرناک بیماریاں جو عمو مااس وقت ظاہر نہیں ہوتی لیکن بعد میں وہ انسانی جان کے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہیں ان پارٹیوں میں ڈانس کرنے والی اداکارائیں اور ماڈلز کوکین کا نشہ بھی کرتی ہیں جو کہ پوش علاقوں میں بطور فیشن استعمال کی جاتی ہیں اور ان استعمال کرنے والوں میں اپر کلاس کے وہ نوجوان شامل ہوتے ہیں جو نشے کو بطور ایڈ وانچر استعمال کرتے ہیں اس خطرناک قسم کے نشے کی وجہ سے بہت سی ماڈلز اور اداکارائیں موت کا شکار بھی ہوتی رہی ہیں جو کہ ریکارڈ پر ہیں اس کے علاوہ بڑے گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں کوکین اور دیگر نشہ بھی کرتے ہیں جو انتہائی مہنگے اور نقصان دہ ہیں ان لڑکے لڑکیوں کے لیے ان کی قیمت ادا کرنا مشکل نہیں ہوتا لیکن ان کے برے اثرات ان کی صحت کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں نشہ کی لت پوری کرنے کے لیے بعض لڑکیاں اس کی قیمت ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں تو وہ نشہ خریدنے کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی اداکاری کرنے والی بہت سی فنکارائیں ڈانس پارٹیوں میں جا کر کوکین کی عادی ہو جاتی ہیں اور اپنی بعد کی تمام زندگی اسی نشے کے نام کر جاتی ہیں نشہ کرنے والے بعض ادویات کو بھی بطور نشہ استعمال کرتے ہیں نشے کے عادی افراد کی اکثریت ان نوجوانوں میں سے ہوتی ہے جو انتہائی حساس یا ذہین ہوتے ہیں یہ نوجوان زمینی حقائق سے فرار کی راہ تلاش کرنے کے لیے نشہ کے غار میں پناہ لیتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے کے آسودہ حال طبقات اور خاندانوں کے چشم و چراغ اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ کوکین، ہیروئن ، شراب، چرس اور مہنگی نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں نشہ کا عادی اعصابی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے شہروں، دور افتادہ دیہات تک نشہ ایک وبا کی طرح پھیل چکا ہے نشے کا عادی ہر فرد بنیادی طور پر مریض ہوتا ہے جو ہمیشہ ہمدردی اور توجہ کا مستحق ہوتا ہے توجہ اور ہمدردی سے ہی انہیں اس دلدل سے نکالا جا سکتا ہے خاندان، معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نشہ کے عادی افراد کی بحالی کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کریں اس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ منشیات فروشی کے تمام اڈوں اور ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے اور ہمسایہ ملک چین اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے تعریزی قوانین کی طرح منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔ گزشتہ تین چار دنوں سے مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر کئی ایسے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو منشیات بیرون ملک میں سمگل کرنے کی کوشش میں تھے یہ بہت بڑی بات ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے لوگوں کو گرفت میں لایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہماری قومی ائیر لائن میں تسلسل کے ساتھ ایسی کاروائیاں ہوتی رہی ہیں کہ خود ہمارے ادارے حیران ہیں کہ ان جہازوں میں یہ منشیات کس نے چھپائی تھیں برحال ہمارے قومی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اگر معاشرے کو اس ناسور سے پا ک کرنا ہے تو پھر تمام کام نیک دلی اور غیر جانبداری سے کرنا ہو گا اس میں کسی دباؤ لالچ یا خوف کو بلاطاق رکھتے ہوئے اس کے لئے بھر پور کام کرنے کی اشد ضرورت ہے اس دن کومنانے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف دو چار تقریبات کر لی جائیں ایک دو، واک اور کام ختم یہ کام اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک ملک میں ایک بھی نشے کا فرد موجود ہے
اگر بات کی جائے محکمہ انسداد منشیات تو اس کی کارگردگی اب پہلے سے کہیں بہتر ہے ہر سال اس کی کارکردگی میں اآفہ ہو را ہے اور کئی بڑے سمگلروں پر ہاتھ ڈال کر انھیں قانون کی گرفت میں لایا جا چکا ہے ساتھ ساتھ ملک میں کئی بری اور تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں جن کی بدولت اس لعنت سے کسی حد تک چھٹکارا مل سکا ہے لیکن اس کام کو مذید تیز تر کرنے کی ضرورت باقی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ طاہر محمود
03005242865

error: