گرما گرم خبریں

گوجرخان : الیکشن کمیشن میں زیرسماعت جعلی ڈگری کیس میں لیگی ایم پی اے حلقہ پی پی فور راجہ شوکت عزیز بھٹی نااہل
گو جر خان میں اندھیر نگری چوپٹ راج، سٹریٹ لائٹس خراب، پانی کی شدید کمی، تجاوزات کی بھرمار ، گندگی کے ڈھیر، بلدیہ تنخواہیں لینے کیلئے بنی ہے ؟؟
شہیدوں اور غازیوں کی دھرتی کا ایک اور سپوت شہادت کا درجہ پا گیا
حکومتی دعوے دھرے کے دھرے، سحرو افطار میں لوڈشیڈنگ ،عوام بلبلا اُٹھے ، حکومت کو بددعائیں
گلیانہ موڑ گوجرخان موٹرسائیکل ورکشاپ میں آتشزدگی،سامان جل کر خاکستر ہوگیا
واپڈا اِن ایکشن، عدم ادائیگی بل کی بناء پر پاسپورٹ آفس گوجرخان کابجلی کنکشن کاٹ دیا گیا، عوام ذلیل و خوار
سو کے وی کا ٹرانسفارمر نہیں لگ رہا ،واپڈا چیئرمین ،ایس ڈی او اور ایکسین کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر
منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،بدنام زمانہ منشیات فروش آصف عرف آصو بٹ ساتھیوں سمیت گرفتار

Category: کالم مضامین

نشے سے انکار زندگی سے پیار

نشے سے انکار زندگی سے پیار
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی چھبیس جون کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا بڑا مقصد لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے کہ اس کا استعمال کتنا نقصان دہ اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اس دن کی مناسبت سے اینٹی نارکوٹیکس فورس سال بھر میں پکڑی جانے والی منشیات کو جلا کر یہ پیغام بھی دیتی ہیں کہ نشے سے :انکار اور زندگی سے پیار کرنا سیکھو: پاکستان میں منشیات کا استعمال افغانستان میں روس کی مداخلت سے شروع ہوتا ہے اوراسی کی دھائی کے بعد پاکستان میں افغانستان کے توسط سے سب سے بڑی برائی جو بہت تیزی سے پھیلی وہ منشیات تھی یہ ایک ایسا ناسور تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اتنی تیزی سے ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ ہم چاہتے ہوئے بھی اس کو ختم نہ کر سکے منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔اس میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو اپنی ڈیپریشن کو ختم یا کم کرنے کے لئے جبکہ نوجوانوں میں اسے بطور فیشن اور بطور ایڈوانچر بھی اپنایا جاتا ہے جو بعد ازاں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ آتا کہاں سے ہے؟ اور کس طرح اس کو مقررہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے؟ کیا اس کی خبر انسداد منشیات کے اداروں کو نہیں ہوتی ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات برحال ڈھونڈنے ہیں۔ اس کے بیوپاری مختلف طریقوں سے اپنے گاہکوں کو تیار کرتے ہیں مثال کے طور پر سکول ،کالجز اور اب تو اعلیٰ تعلیمی اداروں مثلا یونیورسٹیز میں ان لوگوں کے خاص کارندے ہوتے ہیں جو پہلے پہل تو یہ نشہ ان لوگوں کو فری میں مہیا کرتے ہیں اور جب یہ نوجوان پوری طرح اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں تو ان سے منہ مانگے دام لیے جاتے ہیں اوربعض اوقات ان سے ایسے ایسے کام لئے جاتے ہیں جو ملک دشمن عناصر کی فہرست میں آتے ہیں ایسے ہی کئی مثالیں ہماری سامنے میڈیا میں آئے دن رپورٹ ہوتی رہتی ہیں نوجوانوں کو نشہ کا عادی بنانے کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں اس ضمن میں ڈانس پارٹیوں کو ایک اہم ذریعہ بنایا جاتا ہے ملک کے پوش علاقوں میں نہایت عمدہ رہائشی عمارتوں کے اندر ان کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں صرف جوڑے شرکت کر تے ہیں ان ڈانس پارٹیوں میں مہنگی ماڈلز اور رقاصاؤں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے شرکاء کو ساری رات ڈانس کرنے کے لیے ایک گولی کھلائی جاتی ہے جس کی قیمت ہزاروں روپوں ہوتی ہے جس کا مقصد ان نوجوانوں کو پوری رات تروتازہ اور چاق و چوبند رکھنا ہوتا ہے تاہم یہ گولی دوران خون تیز کر دیتی ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے ا س کے علاوہ اور کئی قسم کی خطرناک بیماریاں جو عمو مااس وقت ظاہر نہیں ہوتی لیکن بعد میں وہ انسانی جان کے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہیں ان پارٹیوں میں ڈانس کرنے والی اداکارائیں اور ماڈلز کوکین کا نشہ بھی کرتی ہیں جو کہ پوش علاقوں میں بطور فیشن استعمال کی جاتی ہیں اور ان استعمال کرنے والوں میں اپر کلاس کے وہ نوجوان شامل ہوتے ہیں جو نشے کو بطور ایڈ وانچر استعمال کرتے ہیں اس خطرناک قسم کے نشے کی وجہ سے بہت سی ماڈلز اور اداکارائیں موت کا شکار بھی ہوتی رہی ہیں جو کہ ریکارڈ پر ہیں اس کے علاوہ بڑے گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں کوکین اور دیگر نشہ بھی کرتے ہیں جو انتہائی مہنگے اور نقصان دہ ہیں ان لڑکے لڑکیوں کے لیے ان کی قیمت ادا کرنا مشکل نہیں ہوتا لیکن ان کے برے اثرات ان کی صحت کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں نشہ کی لت پوری کرنے کے لیے بعض لڑکیاں اس کی قیمت ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں تو وہ نشہ خریدنے کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی اداکاری کرنے والی بہت سی فنکارائیں ڈانس پارٹیوں میں جا کر کوکین کی عادی ہو جاتی ہیں اور اپنی بعد کی تمام زندگی اسی نشے کے نام کر جاتی ہیں نشہ کرنے والے بعض ادویات کو بھی بطور نشہ استعمال کرتے ہیں نشے کے عادی افراد کی اکثریت ان نوجوانوں میں سے ہوتی ہے جو انتہائی حساس یا ذہین ہوتے ہیں یہ نوجوان زمینی حقائق سے فرار کی راہ تلاش کرنے کے لیے نشہ کے غار میں پناہ لیتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے کے آسودہ حال طبقات اور خاندانوں کے چشم و چراغ اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ کوکین، ہیروئن ، شراب، چرس اور مہنگی نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں نشہ کا عادی اعصابی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے شہروں، دور افتادہ دیہات تک نشہ ایک وبا کی طرح پھیل چکا ہے نشے کا عادی ہر فرد بنیادی طور پر مریض ہوتا ہے جو ہمیشہ ہمدردی اور توجہ کا مستحق ہوتا ہے توجہ اور ہمدردی سے ہی انہیں اس دلدل سے نکالا جا سکتا ہے خاندان، معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نشہ کے عادی افراد کی بحالی کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کریں اس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ منشیات فروشی کے تمام اڈوں اور ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے اور ہمسایہ ملک چین اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے تعریزی قوانین کی طرح منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔ گزشتہ تین چار دنوں سے مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر کئی ایسے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو منشیات بیرون ملک میں سمگل کرنے کی کوشش میں تھے یہ بہت بڑی بات ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے لوگوں کو گرفت میں لایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہماری قومی ائیر لائن میں تسلسل کے ساتھ ایسی کاروائیاں ہوتی رہی ہیں کہ خود ہمارے ادارے حیران ہیں کہ ان جہازوں میں یہ منشیات کس نے چھپائی تھیں برحال ہمارے قومی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اگر معاشرے کو اس ناسور سے پا ک کرنا ہے تو پھر تمام کام نیک دلی اور غیر جانبداری سے کرنا ہو گا اس میں کسی دباؤ لالچ یا خوف کو بلاطاق رکھتے ہوئے اس کے لئے بھر پور کام کرنے کی اشد ضرورت ہے اس دن کومنانے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف دو چار تقریبات کر لی جائیں ایک دو، واک اور کام ختم یہ کام اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک ملک میں ایک بھی نشے کا فرد موجود ہے
اگر بات کی جائے محکمہ انسداد منشیات تو اس کی کارگردگی اب پہلے سے کہیں بہتر ہے ہر سال اس کی کارکردگی میں اآفہ ہو را ہے اور کئی بڑے سمگلروں پر ہاتھ ڈال کر انھیں قانون کی گرفت میں لایا جا چکا ہے ساتھ ساتھ ملک میں کئی بری اور تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں جن کی بدولت اس لعنت سے کسی حد تک چھٹکارا مل سکا ہے لیکن اس کام کو مذید تیز تر کرنے کی ضرورت باقی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ طاہر محمود
03005242865

موت ایک اٹل حقیقت

تحریر :طارق نجمی
موت ایک اٹل حقیقت ہے.ہر ذی روح کوایک نہ ایک دن اس جہانِ فانی سے جانا ہوتا ہے.یہی نظامِ قدرت ہے. لیکن بعض لوگ اپنے پیچھے ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں کہ ہر وقت ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت یا ان کی باتیں ذہن میں رہتی ہیں اور بے چین کرتی ہیں.ایسی ہی ایک شخصیت چند دن قبل ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہو جانے والے حافظ بہرام قاسم کی ہے. یہ نوجوان اپنی ذات میں ایک انجمن تھا. ہر کسی کا دوست,ہر کسی کا ہمدرد. اگر دینی مدرسے میں گیا تو حافظِ قرآنِ پاک بن کر نکلا.اور اگر کھیل کے میدان میں گیا تو کک باکسنگ چیمپن بن کر نکلا. اور بہت سے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتا. غرض یہ کہ جس فیلڈ میں بھی گیا اپنی مختصر سی عمر میں اس نے اپنا نام کمایاگزشتہ کچھ عرصے سے وہ گوجرخان میں واقع پیزا ہٹ میں ڈیلیوری بواے کی حیثیت سے کام کر رہا تھا. اپنے اس شعبے میں بھی اپنے اخلاق کی بدولت وہ لوگوں کے دل پر حکمرانی کرتا رہا اپنے ساتھیوں کو جب بھی کوء4 ی پریشانی یا مشکل پیش آء4 ی بہرام خان اپنی ضروریات کو بھول کر ان کی مدد اور دلجوء4 ی کرتا رہا جنازے کے بعد کتنے ہی لوگ آٰء4 ے اور لی ہوء4 ی ادھار کی رقم لوٹانے کی کوشش کی.کہ فلاں موقع پر بہرام بھاء4 ی نے ہماری مدد کی تھی اور آج ہم لوٹانا چاہتے ہیں. لیکن آفرین ہے بھڑے بھاء4 ی پر جس نے یہ کہہ کر سب کو رقم لوٹا دی کہ یہ رقم اپنے ہاتھ سے کسی مسجد میں بطور چندہ دے دیں تاکہ بہرام کی روح کو تسکین ملے اور صدقہء4 جاریہ کا ایک سلسلہ شروع رہے. راقم الحروف کے دونوں بیٹے بہرام کے قریبی دوستوں میں سے تھے. بڑا بیٹا ذیشان مہدی سعودی عرب میں بہرام کے ایکسیڈینٹ کی خبر سن کر بے چین ہے اور چھوٹا بیٹا فیضان نجمی دن میں کء کء بار ان کے گھر جا کر بہرام کی والدہ کی دلجوء کرنے کی کوشش کر رہا ہے. ساتھیوں سے بات ہوء تو انہوں نے بتایا کہ حسبِ معمول ہم سب نے مل کر سحری کی پھر نماز پڑھنے کے لء4 ے قریبی مسجد میں چلے گء4 ے.وہاں سے واپسی پر جی ٹی روڈ پر چڑھتے ہی ایک تیز رفتار ٹرک کی زد میں آ کر دو ساتھی بہرام قاسم اور عثمان موقع پر ہی ہلاک ہو گء4 ے. دوسری موٹر ساء4 یکل پر سوار ان کے دوسرے ساتھیوں نیان کی لاشوں کو ٹرک کے نیچے سے نکالا.اور ہسپتال پہنچایا. بہرام کے جنازے پر علاقے کے ہزاروں نوجوان شریک تھے اور بیشتر دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے جس نوجوان نے اپنی زندگی اتنی شان سیگزاری اس کی موت پر لوگوں کا اس قدر ہجوم اور ساتھیوں کی شمولیت اس کے لء4 ے ایک خراجِ تحسین تھی آخر میں دعا ہے کہ خدا وندِ عالم بہرام کے بھاء4 یوں کو اور خصوصآ اس کی والدہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور بہرام قاسم کوجنت الفردوس میں آعلی مقام عطا کرے…آمین ثم آمین.

اہلیان قاضیاں کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

Read more

اہل تحصیل گوجر خان سے چند گزارشات

Read more

منی لانڈرنگ کا توڑ

Read more

تحصیل گوجرخان کے نواحی دیہات ترقی اور بنیادی ضروریات و سہولیات سے محروم ہیں

Read more

کیپیٹل آف اسلامک کلچر مشہد ۲۰۱۷ء

Read more

لاہورایک بار پھرلہولہو

Read more

بھارت کی ناکام چال

Read more

وزیر داخلہ سے اظہار تشکر

Read more

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے چند گزارشات

Read more

پوٹھوار کا شہزادہ ساجد محمود ہیڈرزفلیڈ انگلینڈ میں سپردِ خاک “

16111189_722278814614818_1273241062_n 16117574_722278847948148_1670887435_n 16117600_722278207948212_1980945623_n” ہیڈرزفلیڈ (تحریر اشتیاق چوہدری لندن )انسان تو ہے ہی فانی ویسے ہی میں میں کی کہانی چلتی رہتی ہےکوئی سوچ سکتا تھا کہ ایک دبنگ قسم کا صحافی جسےیقین ہوتا تھا کہ جو خبر اس نے مکمل تحقیق کے بعد بریک کی ہے وہ اتنی ہی سچی ہے جتنا وہ خود اور بہت کم صحافی ہوں گئے کہ خبر بریک کریں اور بعد کی تحقیق اس کے برعکس آئے تو اس کی صداقت پر ڈٹنے کی بجائے نہ کہ صرف اس کی تردید کریں بلکہ اپنے پڑھنے والوں سے بھی اس کی معافی مانگیں اور خبر بھی اتار دیں ایسا صرف ماسڑساجد مودی (مرحوم ) کرتا تھا اس کو جو لوگ جانتے تھے وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے اور یہی وجہ تھی کہ اس کی اچانک موت نے تمام پوٹھواریوں کو سرزمینِ ہیڈرزفلیڈ کھنچا پورے یوکے سے ایک طرف لندن اور دوسری طرف گلاسگو سکاٹ لینڈ سے ان کے چاہنے والے ان کے نمازجنازہ میں شرکت کرنے تشریف لائے ان کے دوستوں میں ہر مکتبہِ فکر کے لوگ شامل تھے جن میں ان کے شاگرد جن کو دورِ استادی میں وہ پڑھاتے رہے ان کے بزرگ جن سے وہ کسی بھی حوالے سے منسلک رہے ان کے دوست لڑکپن سے جوانی اور تا زندگی اس خوبصورتی سے بندھے رہے کہ دو مہینے پہلے جب معلوم بھی ہوگیا کہ ماسڑ ساجد محمود ہم سے کسی بھی وقت جدا ہو سکتا ہے کوئی یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ یہ آدمی کیسے جا سکتا جو دوسروں کو خوشیاں بانٹے مگر اللہ پاک کا اپنا ایک نظام ہے ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اس مقام عارضی سے اُس مقام پر منتقل ہونا ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہے ماسڑ ساجد محمود مودی بھی مرحوم ہو گئے اور اس عارضی مقام کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے اصلی مقام پر چلے گئے دکھ کسی کے مرنے کا نہیں ہوتا کیونکہ ہم سب کو پتہ ہے ہم سب نے جانا ہے آج ان کی کل ہماری باری ہو گی دکھ تو ہمیں بچھڑنے کا ہوتا ہے اور اس جانے والے کا پیار ہمیں رولاتا ہے جو اس کے ساتھ ہمیں ہوتا ہے اور ساجد محمود مودی واقعی ماسڑ مطلب استاد تھا کہ اس نے اتنی خوبصورتی سے لوگوں کو اپنے ساتھ بندھا کہ جب تک زندہ رہیں گئے اس کو بھلا نہیں پائیں گئے اور اس کی بخشش کے لئے دعُا گو رہیں گئے اور میرے لئے اس بات کا یقین کرنا کہ وہ فلاح پا گیا ہے اتنا مشکل نہیں کیونکہ جس کے لئے ہزاروں لاکھوں لوگ رو رہے تھے اور ہیں وہ ناکام کیسے ہو سکتا ہے وہ زندہ جاوید ہو گیا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا ہم سب میں ایک خاص ادا بن کر جیسے کہ میں آج لکھ رہا ہوں ایک تحر یر جسے پتہ نہیں پڑھنے والے کیا کہیں مگر یہ بھی اس کی دی ہوئی ایک یاد ہے کہ وہ کہتا تھا چوہدری صاحب آپ لکھا کریں میں اسےکہتا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے بلکہ ایک آرٹیکل کالم اس نے مجھ سے لکھوایا بھی جب گذشتہ سال میں پاکستان سے واپس آیا اور ہمارے دوستوں کے میڈیا ہاوسزز مالکان نے چھاپا بھی مگر پھر وقت کی کمی ہونے کی وجہ سے وہ ربط ممکن نہ رہا پر آئندہ کوشش کروں گا کہ کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں تاکہ اسی بہانے ان کے چاہنے والوں سے رابطہ برقرار رہے کل ان کے جنازے پر کسی نے پوچھا کہ آپ ماسٹر ساجد صاحب کو چند لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو کیا کہیں گئے میں نے کہا کہ ماسٹر ساجد صاحب نے اپنے سب چاہنے والوں کو اگھٹا کیا ہوا تھا ان کی مثال ایک گھڑاڑی کی سی تھی جس پہ پورا چین چڑھا ہوتا ہے اور وہ اس کو مضبوطی سے چلا رہے تھے سب کو یکجا کیا ہوا تھا تو اب وہ ہم سب میں نہیں رہے اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ آپس میں وہ رشتہ قائم رکھیں جو ان کے ہوتے ہوئے قائم تھا اور اس طرح وہ ہم میں موجود رہیں گئے۔ کل ہر آنکھ کو پُرنم دیکھا ملک فجا سے لے کر مہتاب تک وقار بابر سے راجہ شکیل انجم تک ،ماسڑ مسعود سلیم سے شیخ جہانگیر تک راجہ نصیر سے افتخار تک مجھ سے لے کر چوہدری عابد تک چوہدری لیاقت سے لے کر چوہدری عنصر تک بچے ،نوجوان ، ان کے ہم عمر ، اور بزرگ مرد و خواتین ان کے لئے آنکھوں میں خلوص اور محبت کے آنسو سجائے ہوئے تھے اور وہ اس لئے نہیں رو رہے تھے کہ ماسڑ ساجد محمود آج مر گیا وہ اس لئے رو رہے تھے کہ ہمارا شہزادہ ہم سے بچھڑ رہا ہے وہ مرا ہے نہ مرے گا وہ مختلف رشتوں سے ہم میں ہی رہے گا اور کسی نہ کسی ادا سے جیتا رہے گا۔ صرف وہی نہیں ہم سب بھی ایسے ہی رہیں گئے کیا ہم اپنے سے پہلے لوگوں کی کہانیاں اور تذکرے نہیں سنتے جی ہاں ضرور سنتے ہیں اسی کو ہی مر کر جینا کہتے ہیں ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی زندگی کی کہانی اتنی خوبصورتی سے لکھنے کی کوشش کریں کہ پڑھنے والے کی وہی حالت ہو جو آپکی میری اور ماسٹر ساجد محمود کے کسی بھی جاننے اور چاہنے والے کی آج ہے اسی کو مر کر جینا کہتے ہیں ۔ آپ سب ان کے لئے اپنی دعُاوں کے خزانے کو بند مت کیجیے گا اور مجھ ناچیز کو بھی اپنی دعُاوں میں یاد رکھیے گا ۔ دعُاوں کا طالب اشتیاق چوہدری لندن/دھمیال

ذمہ دار کون

ذمہ دار کون ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر احسن وحید 0334- Read more

سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری زمہ داریاں

Read more

چوہدری افتخار احمد وارثی سے چند گزارشات

Read more

اہل تحصیل گوجر خان سے چند گزارشات

Read more

بیداری شعور؛ ایک عہد کی پہچان امام احمد شاہ رضا خان

Read more

2018 عام انتخابات”

Pakistan-byelection2013results_8-23-2013_114897_lسیدعلی ایم گیلانی

سیاسی تجزیہ
کہتے ھیں کہ سیاست کی دنیا میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ھوتا لیکن اس حرف اور آخر کے درمیان جو گیب ھے اس کے پیشِ نظر تجزیات کے محلوں کی فصیلوں پرکھڑے ھو کرجو صورتِ حال دیکھائی دے رھی ھے اور پچھلے 40 سالوں سے سیاست کی دیوی کی پوجا کرنے والے سیاسی پنڈتوں کی کنڈلیوں کے مطابق
پنجاب کے بڑے شہروں کے سیاسی اکھاڑے میں بلدیاتی میئر منتخب ہورہے ہیں، بظاہر یہ بلدیاتی حکومتیں ہیں، حقیقت میں یہ (کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ) مطلب آئندہ 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مشینری مقرر ہو رہی ہے، کپتان بچارے کو خبر تک نا ہوئی اور وہ ایمپائر کے پرفریب وعدوں میں ہی پھنسا رہا__‏اس وقت پنجاب کے ہر بڑے شہر میں مسلم لیگ ن کے مئیرز بلا مقابلہ منتخب ہوتے جارہے ہیں، اگر کہیں مقابلہ ہے بهی تو آپس میں مقابلہ ہے کہ میں بنوں گا میں بنوں گا،
2017 سے آگے عام انتخابات تک انہیں بےپناہ فنڈ دے کر پنجاب کی گلی کوچوں میں دهڑا دهڑ کام کروا کر عوام الناس کے دل و دماغ میں ن لیگ کی محبت بهر دینگے، راولپنڈی اور میانوالی عمران خان کا گڑھ سمجها جاتا تها لیکن ان شہروں میں ن لیگ کے میئر کے سامنے مقابلہ کے لیے کوئی نا ملا__ لاہور تو کپتان کی پہنچ سے بہت دور کی بات ہے،
رہی بات پیپلزپارٹی کی _! نوجوان بلاول زرداری صاحب کے ذریعہ 4 مطالبات کی دهمکی سے نوازشریف صاحب کو کمزور کرنے کی بات، بلاول صاحب کو پیپلزپارٹی کے پرانے کهگا مچھلیاں یہ تک سوچنے نہیں دے رہی کہ میں جو 4 مطالبات کو بار بار دهرا رہا ہوں کیا ہم نے ان میں سے خود صوبہ سندھ میں ایک بهی مطالبہ پر آج تک من و عن عمل کیا ہے _؟ جواب صفر بٹہ صفر _!
کل ملا کے پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور چهوٹی موٹی اپوزیشن پارٹیاں اپنی آخری سیاسی ہچکیاں لے رہی ہیں،
بلامبالغہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی کارکردگی کو ایک وقت کے لیے سائڈ پر رکھ کر اگر سیاسی تجزیہ کیا جائے تو 2018 کے عام انتخابات میں شہبازشریف کی پنجاب حکومت کی بےمثال کارکردگی ہی آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے قیام کے لیے کافی و شافی ہے،
چین پاکستان اقتصادی راہداری، 2018 تک 11 ہزار سے زائد کلوواٹ بجلی کا اضافہ، ملک بهر میں 80 فیصد سے زیادہ امن و امان، کراچی “والوں” کی بدمعاشی کا اختتام، کراچی میں نوگو ایریاز کا قلع قمع، اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار ملکی تاریخ کی بلندیوں پر پہنچنا، آرمی چیف کی بغیر چوں چراں احسن طریقہ سے تبدیلی، چیف جسٹس سپریم کورٹ کی عنقریب تبدیلی، دهاندلی الیکشن، پنامہ کرپشن میں صاف ستھرے انداز میں نکل آنا، پورے ملک میں موٹر ویز پر زور و شور سے جاری کام، گوادر پورٹ کا آپریشنل ہونا، یہ تمام کاموں کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کے لیے بونس کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا،
2018 میں عوام آئڈیل تقریروں پر نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں کو دیکھ کر ووٹ کاسٹ کریں گے،
کے پی کے اور سندھ کی حکومتیں اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر اگر 2018 میں وفاقی حکومت بنانے کا سوچ رہی ہیں تو یقیناً وہ احمقوں کے جنت میں رہ رہے ہیں، لہذا پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی جس کنواں میں رہ کر اوپر آسمان دیکھ رہے ہیں یا انہیں نظر آرہا ہے وہ آسمان اتنا چهوٹا نہیں اگر وہ کنویں سے باہر نکلیں گے تو انہیں علم ہو کہ آسمان کتنا بڑا ہے،
اور دوسری اہم بات یہ ھے کہ ایک حکمتِ عملی کے تحت کسی بھی جماعت کو اس دفعہ کوئی نمایاں اکثریت نہیں ملے گی ماسوائے مسلم لیگ ن
تاہم ppp بھی بوتل سے کوئی بڑا جن نکالنے سے قاصررھے گی جبکہ pti آئندہ kpk سے تو حکومت نہیں بنا سکے گی البتہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں پیش پیش ھوگی کیونکہ آصف ذرداری کی آمد کے بعد پیپلزپارٹی کا مورال پھر انتہائی نیچے گرنے کا بھی قوی امکان ھے۔

پیرس کی ڈائری ،،،،، تحریر راؤ خلیل احمد

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیرس کی ڈائری ،،،،، تحریر راؤ خلیل احمد
2293-2پیرس میں آج کل خنکی عروج پر ھے درختوں سے پتے ایسے جھڑ چکے ہیں جیسے کبھی ہوئے ہی نہ ہوں ۔ خشک ڈالیاں دن میں کسی سحرہ کی خشک سالی سے متاثر جنگل کی ماند نظر آتی ہیں مگر شام ہوتے ہی برقی قمقموں کی آرائش انہی درختوں کو حیران کر دینے والی خوبصورتی میں بدل دیتی ہے ۔ عید میلاد آقائے دو جہاں، تاجدار کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عید میلاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ماہ میں ہونے کی وجہ سے مسلمان اور عیسائیوں میں یکساں جزبات ہیں۔ جشن میلاد آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام پیرس کی اکثر مساجد میں شایان شان انداز میں منایا گیا۔ عید میلاد کا جلوس مسجد قباء سے شروع ہوا ور مقامی شہر ویلیل لابل کی گلیوں سے ہوتا ہوا مسجد قباء ہی میں اختتام پزیر ہو جس میں پیرس کی تمام تنظیمات کے سربراہان کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ منھاج القرآن فرانس نے جشن میلاد کا اہتمام بھی اپنی روایات کے مطابق کیا، منھاج ویلفئیر فاونڈیشن کی جانب سے میلاد کی خوشی میں فری چائے اور تازہ جلیبیوں کا سٹال ہر خاص و عام کے لیے تھا۔ سفیر منھاج القرآن علامہ حافظ نزیر احمد نے رسول خدا کی سیرت پر گفتگو فرمائی۔ مسجد پیری فیت ، مسجد انجمن فلاح دارین ، مسجد حلقہء احباب میں بھی جشن میلاد کے پروگرام ہوئے۔ اور عاشقان رسول یورپ میں بھی گھر گھر پروگرامز کا انعقاد کر رہے ہیں۔

Read more

ایک عہد کی پہچان امام احمد شاہ رضا خان

Read more

حقوق کامتلاشی انسان

Read more

برابری کی تقسیم

Read more

مجھے حق ھے

raheel_sharifتحریر حمزہ چوہدری

الودع الودع جنرل راحیل شریف:
,
جنرل راحیل شریف کا تعلق پاکستان آرمی کی ,66th FF Regment سے ھے.انکے والد میجر رانا محمد شبیر کا تعلق بھی پاکستان آرمی سے ہے.اور 1971 کی جنگ کے ھیرو میجر شبیر شریف نشانِ حیدر جنرل راحیل کے بڑے بھائی ہیں.(شہید زندہ ہے مگر تمہیں انکی زندگی کا شعور نہیں القرآن)جنرل راحیل پاکستان کی تاریخ کا وہ نام جن کا ذکر تحریر میں کروں تو شاید اس موضوع پر کئی جلدیں شائع کرنی پڑیں.انکی صلاحیت, اعلیٰ بصیرت بلند حوصلہ اور اس وطن کیلئے عظیم خدمات آپریشن ضربِ عضب CPEC سیکیورٹی اور NAP نیشنل ایکشن پلان میں کامیابیاں اور ملکی امن و امان انکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں.
جن کی للکار سے دشمن دہل جاتے ھیں.اور دنیا جن کی بہادری کی اور کامیا بیوں کا اعتراف کرتی ھے.ایسا کیوں نہ ھو وہ دنیا کی عظیم اور بہادر فوج کے سپہ سالار ھیں.قائدِاعظم کے بعد پاکستان کے مقبول ترین لیڈر کا اعزاز بھی جنرل راحیل شریف کو حا صل ہے.جس سے ھر محبِ وطن پاکستانی اتفاق کرے گا.ملک دشمن قوتوں کو للکارنے والا جنرل ھم لوگوں کو ایک محفوظ مسکن دے کر 28 نومبر 2016 کو ھم سے اس وعدے کیساتھ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے.
یہ وطن امانت ھے
اور تم امیں لوگو
ھمیں اپنے اس عظیم قائد کو الودع کہنا ہے اس وعدے کیساتھ کہ ھم اپنے خوبصورت وطن سے آخری قطرہء4 خون تک وفادار رہیں گے.اور جنرل راحیل کے اس عظیم مقصد محفوظ پاکستان کو آگے لیکر چلنا اور ہر آنے والا کل اس سے بھی زیادہ روشن کرنا ھے.اللَہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
پاکستان پائندہ باد

Back to Conversion Tool

دھرناسیاست کے بجائے تعمیری سیاست

raja-tahir-mahmood-colum-1راجہ طاہر محمود
پاکستان میں اس وقت کرپشن کے خلاف سب سے بڑی اور موثر مہم اپنے عروج پر ہے جس میں پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں بڑی اپنی سرگرمیاں دیکھا رہی ہے گو کہ ان جماعتوں کو حکومت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایاجا رہا ہے اور انھیں بے وقت کی راگنی قرار دیا جا رہا ہے مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بننے والی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہی ہے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حلیف جماعتیں مسلم لیگ ن سے پانامہ لیکس سے متعلق جوابات چاہتی ہیں جبکہ ن لیگ اپنے سربراہ کے بارے میں ایسی کوئی بات سننا گوارہ ہی نہیں کر رہی یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے تمام فورم پر اس ایشو کو ہائی لائیٹ کیا ہے اور مناسب ایکشن نہ ہونے کے بعد دھرنا دینے کا اعلان کر دیا جس کے بعد پورے ملک میں ایک ہجیانی کیفیت پیدا ہو گئی تھی بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث دھرنابحران ٹل گیا اور تمام فریقوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا سپریم کورٹ جو کمیشن قائم کرے گی وہ اس کے اختیارات کا حامل ہوگا اور اسی کو رپورٹ پیش کرے گا عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم سمیت سب سے آف شور کمپنیوں کے بارے میں پوچھا جائے گا عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ اگر فریقین ٹی او آرز پر متفق نہ ہوئے تو عدالت خود ٹی او آرز وضع کرے گی اس تمام صورتحال میں پیپلزپارٹی کارویہ مبہم ہے اس کی بڑی وجہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت تھا جو ابھی تک ان کے رہنماؤں کے لئے پشیمانی کی سبب بنا ہوا ہے پانامہ لیکس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے معاملے میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں کوئی تضاد نہ تھا لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے فیصلے کے بعد وہ تحریک انصاف کی طرح پرجوش اور خوش نہیں دکھائی دیتی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا یہ موقف درست ہے کہ یہ کسی کی ہار جیت نہیں بلکہ امن’ ترقی’ جمہوریت اور ہمارے بچوں کے مستقبل کی جیت ہے بلاشبہ شفاف احتساب ہی ملک کے مضبوط معاشی مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے بعد حکومت سمیت تمام فریقوں اور اداروں کو اس کی بھرپور معاونت کرنی چاہیے تاکہ تحقیقاتی عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جاسکے تاہم اس دوران سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے اورسیاسی جماعتوں اور قائدین کو اپنے فکر و عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ مستحکم جمہوریت کے خواہاں ہیں اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے کسی رویے کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوگی تحریک انصاف نے جس طرح سے اپنی بات منوانے کے لئے جی ٹی روڈ کی سیاست کو فروغ دیا ہے وہ ابھی تو نہیں لیکن بعد ازاں مستقبل میں خود اس کے لئے بھی نقصان دہ ہو سکتاہے جمہوریت میں پارلیمنٹ سب سے اہم فورم ہوتا ہے جہاں تمام پارلیمانی جماعتیں اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کرتی ہیں وہ قومی امور پر بحث اور قانون سازی سے لے کر پالیسی سازی تک کے معاملات سرانجام دیتی ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے اندر ہی مختلف تحاریک اور وقفہ سوالات کے ذریعے حکومت کے احتساب کا فریضہ بھی سرانجام دیا جاتا ہے لیکن ان سب کے باوجود اب کی بار تحریک انصاف نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے دھرنا سیاست کااستعمال کیا ہے اب جبکہ پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد کیا جاچکا ہے تحریک انصاف کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موثر طور پر اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہیے قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کے سامنے انتخابات کو منصفانہ غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کے معاملات زیر غور ہیں تحریک انصاف کی کمیٹی میں عدم شرکت کے باعث اس کام کو آگے نہیں بڑھایا جاسکا حالانکہ اس نے بھی 2013 کے انتخابات کی شفافیت پر بہت سے تحفظات ظاہر کئے تھے لیکن اس کے بعد انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اس کی عدم دلچسپی ناقابل فہم ہے پارلیمانی جماعتوں کی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ وہ 2018ء کے انتخابات کو غیر جانبدارانہ اور مثالی بنانے کے سلسلے میں انتخابی اصلاحات کے کام کو جلد مکمل کریں اور اس حوالے سے قانون سازی کریں اب تمام سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کیا کر سکتی ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو تمام بنیادی سہولیات زندگی مہیا کی جائیں اور ساتھ ساتھ ایسی قانون سازی کی جائے جسے معاشرے میں امن و مان کی صورت حال بہتر ہو سکے لوگوں کو بہترین معاشی مواقع میسر آ سکیں کیونکہ یہ بات سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ سڑکوں پر فیصلے نہیں بلکہ جھگڑے ہی ہوتے ہیں ایسے جھگڑوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ مسائل کو ان کے متعلقہ فورم پر ہی حل کیا جائے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو سہل بنایا جا سکے اور عمران خان کو بھی یہ سوچنا ہو گا کہ انھوں نے سڑکوں کی سیاست بہت کرلی اب انھیں اپنا پارلیمانی کردار بھی ادا کرنا چاہیے ورنہ دوسری صورت میں ایسا بھی ہو سکتاہے کہ ان کی جس صوبے میں اکثریت ہے وہاں کہ لوگ ان کے اس رویے کی وجہ سے ان سے متنفر ہو جائیں اور اگلی بار اقتدار کسی اور کے سپر کر دیں ایسے میں تحریک انصاف کے لئے قومی سیاست میں اپنا رول ادا کرنا ممکن نہیں رہے گا اب وقت ہے کہ عمران خان دھرنا سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کو فروغ دیں تاکہ مستقبل میں ان کی طرف سے سیٹ کیے گئے اہداف حاصل ہو سکیں اور تبدیلی کے اس سفر میں جو نوجوان ان کے ساتھ ہیں ان کو کے تبدیلی نظر آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ طاہر محمود
03005242865

Read more

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے چند گزارشات

راجہ احسان الحق

ehsan Read more

سب سے پہلے پاکستان

Read more

چوہدری نثار علی خان تینوں رب دیاں رکھا

Read more

عنوان : ڈراپ آؤٹ میں اضافہ کیوں؟

Read more

کہاں ہے میرا قاتل؟

Read more

ایک ہوں مسلم

راجہ طاہر محمود
raja-tahir-mahmood-colum-1 Read more
error: